تین فتنے اور چوتھا ستون

چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو معرض وجود میں آنے والے پاکستان کا آئینی سربراہ اور طاقت کا محور وزیراعظم ہوتا ہے، یہ ایک کڑوا سچ اور ننگا جھوٹ ہے ۔ اس ملک کے حقیقی باس کون ہیں اس کا جواب جاننے کیلے بہت کوششیں ہوئیں اور تمام کوششیں کامیاب بھی ہوئیں مگر اس سوال کا جواب جاننے کے باوجود بتانے سے سب ہی قاصر رہے ۔ تو مجھے بھی کوئی ضرورت نہہں اپنی جان گنوانے کی مگر اتنا جان لیں وہ بہت "پر اسرار بندے” ہیں اور "ان کی ہیبت سے پہاڑ” بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ بہرحال گزشتہ تین سالوں پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو پاکستان کی بہتری کی خاطر بہت سی تبدیلیاں ہوئیں اور یقین جانئیے یہ سب پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا۔ گزشتہ تین سالوں میں تین بڑے فتنے ٹھکانے لگا دیئے گئے اور چوتھا فتنہ جو دراصل سب سے بڑا ہے اور چوتھا ستون بھی ہے، اس کو ٹھکانے لگانے کے کام کا آغاز ہو چکا ہے ۔ تین بڑے فتنے یہ ہیں، اردو اسپیکنگ فتنہ ، پنجابی فتنہ اور سندھی فتنہ ۔
پنجاب پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور ملک پر حکمرانی کیلئے بہت اہم ہے ۔ پنجاب قابو میں تو سمجھو پاکستان قابو میں ۔ سب کچھ ہی تو ہے یہ پنجاب، پنجاب پر گزشتہ تیس برس سے ایک ہی فتنے کا قبضہ رہا ہے اور وہی اس کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ مگر پنجابی فتنے نے اپنی پیدائش کے وقت اس بات کا خیال نہ کیا کہ اس کی پیدائش پر اسرار طریقے سے ہو رہی ہے تو خاتمہ بھی پر اسرار طریقے سے ہو سکتا ہے۔ پنجابی فتنے کو تو بس پنجاب چاہیے تھا ، سو وہ پر اسرار طور پر وقوع پزیر ہوا ،اور کئی بار ’پنجابی فتنہ‘ پنجاب سے نکل کر وفاق تک بھی پہنچ جاتا تھا، پنجابی فتنے کو جب بھی مشکل ہوتی وہ پر اسرار طریقے سے اپنا کام کروا لیتا تھا۔ پنجابی فتنے نے اقتدار کے مزے لوٹے ، بادشاہوں کی سی زندگی گزاری ، چھوٹی موٹی ناچاقیوں کے سوا کوئی مسلہ نہ تھا۔ مگر 1999 میں ایک ایسا پراسرار واقعہ پیش آیا کہ پنجابی فتنہ اپنے پیدا کرنے والوں سے ہی الجھ بیٹھا۔ یوں پنجابی فتنے نے موت کو دعوت دی ۔ آج دیکھ لیں پنجاب، پنجابی فتنے کے ہاتھ میں نہیں اور وہ فتنہ اب قائد یا بانی کہلاتا ہے ۔ پانامہ یا اقامہ، بد عنوانی یا پراسرار پریشانی، جو کچھ بھی تھا، وہ کام کر گئی، یوں پنجاب سے ایک فتنے کا فلحال خاتمہ کر دیا گیا ہے۔یہ یاد رہے کہ اپنی موت کے وقت پنجابی فتنے نے سندھی فتنے کو مدد کیلئے بار بار پکارا مگر سندھی فتنہ پر اسرار طور پر خاموش رہا۔چوتھے ستون نے بولنے کی کوشش کی تو اسے چپ کروا دیا گیا۔
دوسرا فتنہ بہت دلچسپ ہے۔ اسے ’اردو اسپیکنگ فتنہ‘ کہہ لیتے ہیں ۔ ایک دور میں پر اسرارطور پر پراسرار بندوں کا پسندیدہ ترین فتنہ رہا ہے ۔ اس کی پیدائش بھی پر اسرار طریقے سے ہوئی۔ اس فتنے کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہے ۔ اور یہ فتنہ کراچی کا دہایوں تک مالک بن کر موج کرتا رہا۔پراسرار طور پر کراچی میں شہری مر جاتے ، بوریوں میں لاشیں ملتیں۔ اچانک بے امنی کی آواز آتی اور پورا شہر بند ہو جاتا۔ اور اردو اسپینگ ’فتنے‘ کو کوئی کچھ نہ کہتا ، کہہ بھی نہیں سکتا تھا، یہاں تک کہ چوتھا فتنہ بھی اردو اسپیکنگ فتنے کی بکواسات پر مبنی تقاریر سنوانے پر مجبور تھا، کچھ کہتا تو اسے بھی خاموش کروا دیا جاتا اور اس سب پر پر اسرار بندے مصلحتا پر اسرار خاموشی اختیار کیئے رکھتے مگر پراسرار طور پر اس فتنے کو بھی آج لوگ اردو اسپیکنگ فتنے کی بجاے قائد یا بانی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اب بات کر لیتے ہیں اس تیسرے فتنے کی جس کا تعلق سندھ سے ہے، اس سندھی فتنے کو کئی منہ نہیں لگاتا تھا، البتہ چوتھے ستون نے اکثر، ’سندھی فتنے‘ کی وجہ سے سندھویں کو ہونے والے نقصان کی طرف اشارہ کیا مگر پر اسرار طور پر سب خاموش رہے۔ اس فتنے کی خوبی ہے کہ یہ مر کر بھی زندہ رہتا ہے ۔ اس نے بھی پر اسرار طریقے سے جنم لیا، ’سندھی فتنے‘ نے سندھ میں خوب موجیں کیں ،پیسے کی ریل پیل، بادشاہت ، جو چاہا وہ کیا، ’سندھی فتنے‘ کو سندھ میں مکمل آزادی ہوتی تھی ۔ کئی بار یہ ’فتنہ‘ سندھ سے نکل کر وفاق تک بھی ایا اور خوب مزے اڑاے۔ یہ فتنہ بہت خطرناک ہے اور اسکا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ لہزا اس فتنے کے خاتمے کے لیئے پراسرار طور پر مردہ افراد بھی زندہ ہو کر بینک میں اکاونٹس کھلوا رہے ہیں۔اور بہت جلد اس پراسرار فتنے کا بھی خاتمہ کر دیا جاے گا۔ یوں پاکستان کےتین بڑے فتنے ٹھکانے لگ جانے سے پراسرار طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ملک بہتری کی پٹڑی پر گامزن ہو جاے گا۔مگر چوتھا ستون ان تینوں فتنوں کے دوران سب سے بڑی رکاوٹ نظر آیا اور اب پراسرار طور پر چوتھے ستون کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں اور وہ ایک ایک کر کے اپنے ستون کی اینٹیں نکال پھینکنے پر مجبور کردیا گیا ہے لہذا چوتھے ستون کا بھی جلد خاتمہ ہونے جا رہا ہے ۔ پر اسرار بندوں کی ہیبت سے پنجابی، سندھی، اردو اسپینکنگ فتنے اور چوتھا ستون تو رائی ہو گیا مگر اب سب سے بڑا فتنہ جو انٹرنیشنل فتنہ ہے اس سے کیسے نمٹا جائے وہ پر اسرار بندوں کیلئے سر درد بنا نظر آتا ہے ۔
اور اسے سوشل میڈیا کہتے ہیں۔ مگر یاد رہے یہ پر اسرار طریقے سے فتنوں کا خاتمہ کرنے والے ہی سب سے ’بڑا فتنہ‘ ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے