رپورٹر کی درگزر کی استدعا

عدالت عظمی کے پریس ریلیز کے ذریعے لئے گئے نوٹس پر ایک رپورٹر نے چیف جسٹس سے درگزر کی استدعا کی تو عدالتی حکم میں تمام چینلز کی جانب سے معافی لکھوا کر مقدمہ نمٹا دیا گیا ۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے 22 نیوز چینلز کو جسٹس عمر عطا کے بنچ سے نکلنے کی خبر پر نوٹس کی سماعت کے آغاز پر دو نجی ٹی وی چینلز کے رپورٹرز نے روسٹرم پر آ کر مؤقف دیا ۔ ہم نیوز کے جاوید سومرو نے کہا کہ بنچ تبدیل ہوا تو اس کی خبر دی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس عمر عطا سے قطعا اس کیس کا ذکر نہیں ہوا، کیا میرا فرض نہیں ہے کہ اپنے ساتھی ججوں کی صحت کا خیال کروں، آپ نے یہ ایمپریشن دیا کہ جیسے انہوں نے کیس سننے سے انکار کیا، کون ہے وہ آدمی جس نے یہ سب شروع کیا، جس کی وجہ سے سب نے خبر دی ۔

رپورٹر جاوید سومرو نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے، درگزر کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عجیب بات ہے، بے عزتی کر دی پھر کہتے ہیں کہ معاف کر دیں، آپ لوگ نوکریوں سے نکالے جا رہے ہو، آپ کی تنخواہوں کیلئے میں نے کیا کیا، آپ لوگ اس طرح کی خبریں دیتے ہیں ۔ اسی دوران روز ٹی وی کے مالک سردار خان نیازی نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ میرے ٹی وی نے یہ خبر نہیں چلائی (روز نیوز نے بھی خبر نشر کی تھی جس کی بنیاد پر ان کو نوٹس جاری ہوا تھا اور وہ عدالت تشریف لائے تھے) ۔ تاہم عدالت نے ان کو نہ سنا ۔

رپورٹر سومرو نے کہا کہ درگزر کریں، آپ بڑے ہیں ۔ ایکسپریس نیوز کے رپورٹر عقیل افضل نے وضاحت کرنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے جیو نیوز کے عبدالقیوم صدیقی کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ آئیں جیو صاحب، یہ کیا خبر نشر کی ہے؟ ۔ صدیقی نے کہا کہ میں گزشتہ روز نہیں تھا، کسی دوسرے رپورٹر نے جیو پر خبر دی ہوگی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کورٹ رپورٹر ہیں، جو آپ کی ماشا اللہ رپورٹنگ ہے، اگر ایسا ہے تو پھر نہ آئیں، ہم کہہ دیں گے ۔ عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ جیسا آپ حکم دیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ آئیں اور روزانہ رپورٹنگ کریں، ان کی تربیت کریں، کوئی خبر مناسب ہوتی ہے کوئی مناسب نہیں ہوتی ۔ عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ کوئی بھی خبر جو مفروضے کی بنیاد پر ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔

ایکسپریس نیوز کے رپورٹر عقیل افضل نے کہا کہ عمومی طور پر بنچ کی تشکیل کی خبر دی تھی اور جب عدالت سے اس کی وضاحت آئی تو اس کو بھی نشر کیا گیا اور بار بار نشر کیا گیا ۔ عدالت نے حکم نامے لکھوایا کہ رپورٹر جاوید سومرو نے سب رپورٹرز کی جانب سے معافی مانگ لی ہے تو عقیل افضل نے استدعا کی کہ پیمرا کو جاری کیا گیا آرڈر بھی واپس لیا جائے جس پر عدالت نے پیمرا کو ہدایت کی کہ اس معاملے میں چینلز کو بھیجے گئے نوٹس واپس لئے جائیں ۔ یہ مقدمہ نمٹایا جاتا ہے ۔

واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی جگہ جسٹس مظہر عالم کو نیب کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے خصوصی بنچ میں شامل کرنے کی خبر نشر کرنے والے 22 نیوز چینلز کو 23 اکتوبر کی شام نوٹس جاری کئے گئے تھے تاہم عدالت نے صرف تین چینلز کو سن کر معاملہ نمٹا دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے