مقتول، مدعی، ولی، وارثوں کا مقدمہ

قتل کی صورت میں تعزیرات پاکستان کے تحت ولی کا حق وارث کو منتقل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایک شخص قتل ہوا، اس کا باپ مدعی بنا اور مقدمہ درج کیا ۔ ملزمان نے اس سے معاملات طے کرنے اور دیت ادا کر کے صلح کرنے کی کوشش کی مگر مدعی نے انکار کر دیا ۔ اس دوران مدعی کی وفات ہوئی تو اس کے مقتول بیٹے کے قانونی ورثا یعنی بیوہ اور بچوں نے ملزمان سے صلح کر لی ۔ مدعی کی وفات کے بعد ہائی کورٹ نے سمجھوتہ تسلیم کر لیا ۔ مقتول کے چچا اور مدعی کے بھائی نے اس عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ وہ اب ولی ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر صلح نہیں ہو سکتی ۔ مقتول کے چچا کا کہنا ہے کہ وہ ولی کے ولی ہیں ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسلام میں دیت کی کسی رقم کا تعین نہیں بلکہ چاندی کی ایک مخصوص مقدار کو دیت کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اور ورثا قتل کی دیت لے کر سمجھوتہ کر سکتے ہیں ۔ جسٹس جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کہ کیا پڑپوتے بھی ورثا میں آتے ہیں؟ وکیل اکرم قریشی نے کہا کہ اگر دادا کی موجودگی میں بیٹا قتل ہوجاتا ہے تو پڑپوتے ورثا ہوں گے ۔
جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ قصاص اور تعزیر میں کیا فرق ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ قصاص الگ اور تعزیر الگ ہے ۔ وکیل اکرم قریشی نے بتایا کہ قانون دانوں نے قصاص اور تعزیر کو ہمیشہ الگ الگ رکھا، مسلم لاء اور شریعت کے مطابق دیت کا معاملہ آتا ہے، اسلامی قوانین میں مخصوص جرائم میں قصاص اور دیت ہوتی ہے ۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ انگریزی قوانین میں ریاست ذمہ دار ہوتی ہے جبکہ اسلامی قوانین میں خون کی پیاس خون بہا اور قصاص کے ذریعے بجھائی جاتی ہے، قتل کا بدلہ دیت سے بھی لیا جاتا ہے ۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسلامی قوانین میں مقتول کے ورثا کا اطمینان ضروری ہے، تعزیر میں معاملہ بلکل مختلف ہے، قانون دانوں نے تعزیر میں اسلامی قوانین کے معاملے کو نہیں دیکھا، اینگلو سکسن لاء میں اصول مختلف ہیں، اگر ایک معاف کر دے تو باقیوں کو دیت دے کر ملزم رہائی پا جاتا ہے ۔ وکیل اکرم قریشی نے کہا کہ اسلام میں قانونی ورثاء کا تعین کیا گیا ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسلام میں تو ہر چیز واضح ہے، ہمارے سامنے معاملہ یہ نہیں کہ اسلام میں کیا ہے اور کیا نہیں، اسلامی قوانین واضح ہیں لیکن تعزیر میں معاملہ مختلف ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ اگر اللہ نے کسی جرم کی سزا کا تعین کیا ہے تو پھر ہم کیسے سزا کو ختم کر سکتے ہیں ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قصاص ولی لیتا ہے، ولی کے پاس یہ بھی حق ہے کہ وہ قاتل کے سر کا دعوی کرے، ولی کے علاوہ شاید باقی ورثا کو یہ حق حاصل نہیں ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ولی کا تصور ایک کے علاوہ متعدد کے لئے بھی ہوتا ہے ۔ جسٹس آصف کھوسہ  نے کہا کہ قانون بدلنا مقننہ کا کام ہے قانون کے الفاظ کی تشریح عدالت کرتی ہے، اہم قانونی نکتے پر سوچ بچار اور غور و خوض کے بعد فیصلہ کریں گے ۔

وکیل نے بتایا کہ قصاص کو اللہ نے رحمت کہا ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مزید کہا کہ قصاص کو تو اللہ نے زندگی بھی کہا ہے، ہم قانون بنانے والے نہیں عملدرآمد کرانے والے ہیں، ہمارے بارے میں تو یہ بھی کہا گیا کہ جج قانون کی تشریح نہیں کر سکتا، جسٹس کھوسہ نےسرکاری وکیل سے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت سے قصاص سے متعلقہ کیس کا فیصلہ کرا لیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا شرعی معاملات پر دائرہ اختیار نہیں ۔

ملزمان سے صلح کیلئے ولی یا قانونی ورثا میں سے کون بااختیار ہے عدالت نے اس قانونی نکتے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔

مقدمے کے حقائق ۔۔۔

وہاڑی کے رہائشی محمد اسلم کو اس کی بیوی کے دو بھائیوں نے قتل کر دیا تھا ۔ ٹرائل کورٹ میں مقتول کے والد نے بطور مدعی ملزمان کو معاف کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ ٹرائل کورٹ نے مقتول کے والد کی بطور ولی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 302 میں سزائے موت سنائی ۔ ملزمان مہدی حسن اور عطا اللہ نے لاہور ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل کی ۔ اپیل سے پہلے کیس کے مدعی اور مقتول کے ولی (والد) کا انتقال ہو گیا ۔ مدعی کی وفات کے بعد مقتول کی بیوی اور کم سن بیٹے نے بطور ولی اپنے بھائیوں کو معاف کیا ۔ مقتول کی بیوی اور کم سن بیٹے نے ہائی کورٹ میں ملزمان سے صلح کے لیے بطور ولی درخواست دی ۔ ہائی کورٹ نے مقتول کی بیوی کی بطور ولی درخواست منظور کرتے ہوئے سزائے موت ختم کی ۔ مقتول کے چچا اور مدعی کے بھائی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔ سپریم کورٹ نے تعزیرات کے تحت ولی کا اختیار اس کے وارثوں کو منتقل ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے سات رکنی بینچ تشکیل دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے