بھاشا ڈیم حد بندی کیس

گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے درمیان دیامر بھاشا ڈیم حد بندی تنازعہ کیس میں سپریم کورٹ نے دونوں حکومتوں سے کمیشن رپورٹ پر جمع کرنے کیلئے کہا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ حد بندی تنازعے کی وجہ سے ڈیم کی تعمیر پر کوئی فرق یا آنچ نہیں آنے دیں گے، حد بندی اور رائلٹی کا مسئلہ حل کریں گے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرلز عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت کے پوچھنے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جسٹس تنویر احمد کمیشن نے حد بندی اور رائلٹی پر رپورٹ دی تھی ۔ گلگت بلتستان کے سرکاری وکیل نے بتایا کہ ہمیں اب تک رپورٹ نہیں ملی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہیں ملی، کیا رپورٹ عدالت کی ویب سائٹ پر نہیں؟ ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ رپورٹ حساس ہے اس لئے تشہیر نہیں کی گئی ۔ خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ڈیم حدود پر ہم نے اپنی رپورٹ میں نقشہ بھی لگا دیا ہے ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ کمیشن رپورٹ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا حکومتوں کو دی جائے، دونوں حکومتیں رپورٹ پر اپنا جواب جمع کرائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رائلٹی یا حد بندی کی وجہ سے ڈیم کی تعمیر میں کوئی خلل نہیں پیدا ہوگا، ڈیم کی تعمیر پر کوئی آنچ نہیں آئے گی، حد بندی اور رائلٹی کا مسئلہ حل کریں گے ۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے