شوکت صدیقی کا برطرفی پر عدالت سے رجوع

سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر برطرف کئے گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ شوکت عزیز صدیقی نے برطرفی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ شفاف ٹرائل اور برابری کے سلوک کے آئینی حق سے محروم رکھا گیا ۔

شوکت عزیز صدیقی نے عدالت عظمی میں دائر کی گئی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ اور اس کی بنیاد پر عہدے سے برطرفی کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ۔ شوکت صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر بحال کرنے کی استدعا بھی کی ہے ۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا، آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے تحت قانونی اور مساوی حق نہیں ملا ۔ درخواست کے مطابق تمام کارروائی قانون اور عدالتی فیصلوں کے منافی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو الزامات کی انکوائری کرنی چاہئے تھی، درخواست میں شوکت صدیقی نے کہا ہے کہ تمام کارروائی کا مقصد مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا اور غیر آئینی طریقے سے برطرفی پلان کا حصہ تھی ۔

شوکت صدیقی نے درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی برطرفی کی سفارش میں بدنیتی شامل تھی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جج کی مدت ملازمت کا تحفظ ہی عدلیہ کی آزادی کا ضامن ہے اور مجھے عہدے سے ہٹانے کے بعد بدقسمتی سے عدلیہ کی خودمختاری پر سوال اٹھے ہیں ۔

درخواست میں وفاق اور سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے ۔  شوکت صدیقی نے درخواست میں کہا ہے کہ مجھے عہدے سے ہٹانے کے بعد عدلیہ کی خودمختاری محفوظ نہیں ۔ شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر تعصب کا الزام بھی عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل میرے خلاف تعصب کا اظہار کر چکے تھے ۔

درخواست کے مطابق کونسل کی رپورٹ میں جج کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل نہ ہونے والی بات درست نہیں، چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل ثاق نثار بھی کئی انٹرویو دے چکے ہیں، چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل نے ایک سیمینار میں عدلیہ کی نااہلی کے الفاظ بھی استعمال کیے ۔ شوکت صدیقی نے لکھا ہے کہ راولپنڈی بار کونسل کی تقریر کی بنیاد پر مجھے عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا، عدالت سے سزا یافتہ ہوئے کے بغیر جج مس کنڈکٹ کا مرتکب نہیں ہوسکتا ، موقف اختیار کیا ہے کہ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل نے خود آرمی چیف، ایئر چیف سے ملاقات کی ۔

شوکت صدیقی نے اپنی تقریر کے حوالے سے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ اسی نوعیت کی آبزرویشن دے چکی ہے ۔ موقف اختیار کیا ہے کہ جسٹس انور کانسی کو جن الزامات پر کونسل نے بری کیا ان الزامات پر عدالت عظمیٰ کے ایک جج استعفیٰ دے چکے ہیں ۔ لکھا گیا ہے کہ جسٹس انور کانسی کے ایک خط کو کونسل نے سچ جان کر انھیں الزامات سے بری کیا ۔

شوکت صدیقی نے اپنی درخواست میں معاملے حقائق لکھتے ہوئے آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیض حمید اور بریگیڈئیر عرفان رامے سے ملاقاتوں کا احوال بھی لکھا ہے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میجر جنرل فیض حمید دو بار ان کے گھر آئے اور دونوں بار اسلام آباد انتظامیہ کی سرکاری گاڑی پر آئے ۔ جنرل فیض حمید پہلی بار آئی ایس آئی صدر دفتر آبپارہ کی سڑک کھولنے کے فیصلے کو واپس لینے کا کہنے کیلئے آئے جبکہ دوسری ملاقات میں انہوں نے نواز شریف کی سزا کے خلاف ہائیکورٹ میں زیر سماعت اپیلوں پر بھی بات کی ۔ شوکت صدیقی کے مطابق جنرل فیض نے بتایا کہ ہم نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کو کہہ کر آپ کو ڈویژنل بنچ سے ہٹایا ۔

شوکت صدیقی کے مطابق میں نے جنرل فیض کے پوچھنے پر جواب دیا کہ اپیلیں آئین، قانون کے مطابق سن کر فیصلہ کیا جائے گا جس پر ان کو کہنا تھا کہ ‘اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی’ ۔ شوکت صدیقی کی درخواست میں لکھا گیا ہے کہ جنرل فیض حمید نے کہا کہ نواز شریف کی ضمانت عام انتخابات سے قبل نہیں ہونا چاہئیے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے