پاپڑ اور فوجی زمین کیس

ائر فورس کی جانب سے بارہ ہزار سات سو کنال زمین 860 روپے فی کنال خریدنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ملٹری لینڈ ایکوزیشن کی اپیل کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے اپیل پر ائرفورس کی جانب سے دلائل کیلئے کھڑے ہوئے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان سے کہا کہ اگر مارکیٹ کے مطابق پیسے نہیں دیتے تو پھر زمین نہ لیں ۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ زمین فوجی تربیت کیلئے استعمال ہو رہی ہے اگر ایک ہزار روپے کنال کر دیں تو بہتر ہوگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گیارہ سو روپے کے تو آج کل بچے پاپڑ کھا لیتے ہیں ۔ زمین مالکان کو اصل قیمت ادا کریں، یہی دین کہتا ہے، یہی اخلاق کہتا ہے اور یہی ہمارا آئین کہتا ہے ۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ آج صرف حکم امتناع کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر ہے مرکزی اپیل مقرر نہیں کی گئی اس لئے عدالت حکم امتناع کی حد تک سنے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکم امتناع بھی خارج کرتے ہیں اور اپیل بھی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق یہ زمین کوہاٹ میں ہے اور 2005 سے ائرفورس کے استعمال میں ہے جبکہ مالکان تیرہ برس سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے تھے ۔

متاثرہ افراد کے وکیل معاذ اللہ نے پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ ضلع کوہاٹ کی تحصیل لاچی کے تین موضعات خدر خیل، گل شاخیل اور ممندی کی بارہ ہزار چھ سو ستانوے کنال، انیس مرلے زمین ائر فورس نے سنہ 2005 میں ایکوائر کی تھی، وکیل نے کہا کہ جن افراد کی زمین لی گئی ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔

وکیل نے بتایا کہ زمین کی کم قیمت لگانے کے خلاف ڈسٹرکٹ جج کوہاٹ سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے کمیشن تشکیل دیا جس نے زمین کو دیکھنے کے بعد نہری زمین 80 ہزار روپے فی کنال کی قیمت کا تعین کیا ۔ تاہم جج صاحب نے اس کو کم کر کے 45 ہزار روپے فی کنال کر دیا ۔ اس فیصلے کے خلاف ائر فورس نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو معاملہ دوبارہ ڈسٹرکٹ جج کے پاس بھیج دیا گیا ۔

ماتحت عدالت نے تحصیلدار اور ایک وکیل پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا، اس جے آئی ٹی نے نہری زمین کی قیمت 40 ہزار روپے فی کنال جبکہ بارانی زمین کی قیمت 35 ہزار روپے کنال مقرر کی تاہم ڈسٹرکٹ جج نے اس بار زمین کی قیمت 17 ہزار پانچ سو مقرر کر دی ۔ اس فیصلے کے خلاف ایک بار پھر پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تو معاملہ پھر ماتحت عدالت کو ریمانڈ کرکے ازسر نو زمین کی قیمت کا تعین کرنے کیلئے کہا گیا ۔ وکیل معاذ اللہ کے مطابق اس بار کمیشن نے رپورٹ دی کہ بنجر زمین 30، بارانی 35 اور نہری کی قیمت 40 ہزار روپے کنال ہے ۔ ہائیکورٹ نے بعد ازاں دائر کردہ اپیل پر ہر قسم کی زمین کی قیمت 30 ہزار روپے کنال مقرر کر کے ائر فورس کو ادائیگی کا حکم دیا ۔

پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور عدالت سے اپیل میں استدعا کی گئی کہ زمین مالکان کو 860 روپے کنال ادائیگی کو درست قرار دے کر ہائیکورٹ کے 30 ہزار روپے فی کنال ادائیگی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

سپریم کورٹ نے برسوں سے زیر التوا اس مقدمے میں ائر فورس کی اپیل خارج کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے ۔ عدالت کے باہر ایک متاثرہ شخص محمد اقبال نے پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ یہ زمین 2005 سے ائر فورس کے پاس ہے اور ہم عدالتوں میں تھے، شکر ہے آج اس کا فیصلہ ہو گیا ہے ۔ محمد اقبال نے کہا کہ اب روپے کی قدر کمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے 30 ہزار بھی بڑی رقم نہیں مگر 860 روپے تو سراسر ظلم تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری زمین بنجر یا بارانی نہ تھی بلکہ ہماری نہری زمین تھی جس سے ہم چھ ماہ میں لاکھوں روپے سبزیاں اگا کر کماتے تھے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے