چیف جسٹس اور فواد چودھری کا مکالمہ

سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ تبادلے پر لئے گئے ازخود نوٹس میں وفاقی وزیر فواد چودھری کی وضاحت قبول کرتے ہوئے ان کو معاملے سے بری الذمہ قرار دیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اعظم سواتی کے فارم ہاؤس کے ساتھ 40 کنال رقبے پر قبضے کا سروے کرایا جائے گا ۔

تین رکنی عدالت بنچ نے آئی جی تبادلے کیس میں وفاقی وزرا فواد چودھری اور اعظم سواتی کے بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت کے بلانے پر فواد چودھری عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ فواد، آپ سے یہ توقع نہیں تھی ۔ فواد چودھری نے سلام کرنے کے بعد کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی، میرا پورا بیان رپورٹ ہوا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے خود ٹی وی پر سنا، ابھی عدالت میں چلا دیتے ہیں، وہ کیا آپ نے طوطا مینا کی کہانی، آپا زبیدہ کی زبانی سنائی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کس کیلئے کہا کہ بیورو کریسی نے حکمرانی کرنا ہے اور الیکشن ہی نہ کرائیں، حکمرانی تو آپ نے ہی کرنی ہے، اگر آئی جی کی تبدیلی کا آرڈر قانون کے مطابق ہوتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی ۔

فواد چودھری نے کہا میں تو آپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں مگر اداروں میں اختیارات کی تقسیم آئین کے تحت ہے اس کو بھی دیکھنا ہوگا، اسی طرح بیورو کریسی کو وزرا کی بات سننا ہوگی ۔ فواد چودھری نے کہا کہ جی ٹی روڈ پر اگر امن و امان کی صورتحال میں ایس پی کو فون کروں تو ان کو میرا فون سننا چاہئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کسی کا ذاتی معاملہ  ہو سکتا ہے کہ اس میں رعونت ہو مگر یہاں عدلیہ کے بارے میں اپنے بیان کا دفاع کرتے ہیں تو ہم اس کیس کو چلائیں گے ۔

فواد چودھری نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف بیان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں نے عدلیہ کے بارے میں نہیں کہا، ہماری اتنی جرات ہی نہیں (اس پر عدالت میں لوگوں کے ہنسنے کی آوازیں سنائیں دیں) ۔ فواد چوھری نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ عدلیہ کے بارے میں ایسی بات کروں ۔ اگر آپ بھی واضح کر دیں کہ آئی جی یا بیورو کریسی سے کام لینا اور ان کو احکامات دینا حکومت کا اختیار ہے تو ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بالکل اختیار ہے مگر ایک صاحب کہتے ہیں کہ آئی جی نے میرا فون کیوں نہیں سنا اس کا تبادلہ کر دیا جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق فواد چودھری نے کہا کہ وہ ایک صاحب نہیں بلکہ وفاقی وزیر ہیں اور ان کا فون سننا چاہئے تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک غریب آدمی کی وفاقی وزیر کے سامنے کیا اوقات ہیں، ان کے گھر کی حالت دیکھی ہے آپ نے؟ انہوں نے وفاقی وزیر سے کیا مقابلہ کرنا تھا؟

عدالت نے اپنے آرڈر میں فواد چودھری کی وضاحت لکھوانے کے بعد ان کا مخاطب عدلیہ نہ تھی جانے کی اجازت دیدی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اعظم سواتی کہاں ہیں، وہ تو رات سے شور ڈال رہے تھے کہ عدالت میں آنا چاہتا ہوں، جس طرح مسعود صاحب ٹی وی اینکر اور پھر ارشد اے آر وائے نے بھی عدالت آنے کا کہا تھا ان کو بھی بلایا تھا معافی مانگنا پڑی ۔ سواتی صاحب بھی آ جائیں ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ وہ بچے کہاں ہیں ان کو بھی لے آئیں کیا حراست میں ہیں؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو رہا کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی ابھی ملک سے باہر ہیں، اس وقت ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے سیکرٹری داخلہ کو جانے کی اجازت دی جائے، کیس پرسوں تک ملتوی کر دی جائے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اعظم سواتی کی زمین کا سروے کرا لیتا ہوں، فارم کے ساتھ 40 کنال پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فواد جی، آپ کے اچھے کیلئے کر رہا ہوں، آپ کے اندر سے گند صاف کر رہے ہیں، ڈھور ڈنگر فارم میں آ گیا تو اس قدر آپے سے باہر ہو گئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق فواد چودھری نے کہا کہ اعظم سواتی شریف آدمی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شریف نہیں، ہمیں نہیں پتہ کہ شریف ہیں ۔ سواتی میں اتنی انا ہے کہ آئی جی سے کہا کہ میرا فون کیوں نہ سنا، بندوں کو اندر کیوں نہیں تن دیا ۔

عدالت نے کیس کی سماعت پرسوں تک ملتوی کرنے کا آرڈر لکھوایا جس کے کچھ دیر بعد اعظم سواتی عدالت پہنچے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے