بنک صارفین کا ڈیٹا چوری

پاکستان کے مرکزی ریاستی بنک نے ان بینکوں کو بیرون ملک ادائیگیاں کرنے سے روک دیا گیا ہے جن کے صارفین کا ڈیٹا ہیکرز نے چرایا ہے ۔ سٹیٹ بینک نے ڈیٹا چوری کے شکار بینکوں کو کہا ہے کہ وہ بیرون ملک اپنے ڈیبیٹ اور کریڈٹ کارڈز کے استعمال پر اس وقت تک پابندی رکھیں جب تک ان کے نظام میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کر کے انھیں دور نہیں کر لیا جاتا ۔

بتایا جا رہا ہے کہ لگ بھگ ایک لاکھ پاکستانی بنک صارفین کا ڈیٹا ایک بین الاقوامی سائبر حملے میں چرا لیا گیا ہے ۔ انٹرنیٹ سیکیورٹی کی بعض نجی کمپنیوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کے بیس سے زائد بنکوں کے بیس ہزار صارفین کا ڈیٹا اب تک بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے آ چکا ہے لیکن حتمی اور تصدیق شدہ تخمینہ نہیں ہے ۔

بی بی سی کے مطابق ہیکروں کے ایک گروہ نے 27 اور 28 اکتوبر کی درمیانی رات بین الاقومی سطح پر بعض بینکوں کے صارفین کے ڈیٹا کو فروخت کے لیے بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں پیش کیا۔ ان میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا تھا جس میں ان صارفین کے ڈیبیٹ اور کریڈٹ کارڈ نمبرز اور خفیہ کوڈ تک شامل تھے۔ بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں جن لوگوں نے یہ ڈیٹا حاصل کیا انھوں نے فوراً ہی ان صارفین کے کارڈز استعمال کر کے رقم نکالنا اور کریڈیٹ کارڈز سے خریداری شروع کر دی ۔

بی بی سی کے مطابق مالی لحاظ سے پاکستانی صارفین کو کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ جن صارفین کے بینک اکاؤنٹس سے پیسے چوری کیے گئے انھیں بھی وہ پیسے یا واپس کر دیے گئے یا کر دیے جائیں گے لیکن ان صارفین کو بعض دیگر مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ مثلاً بعض بینکوں نے زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں اپنی کیش جاری کرنے والی (اے ٹی ایم) مشینیں بند کر دی ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ پاکستانی بینک صارفین جو ان دنوں بیرون ملک ہیں ان کے کریڈٹ کارڈز بلاک ہونے سے انھیں مشکلات کا سامنا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے