عدل قبل از ریٹائرمنٹ

مطیع اللہ جان

جی ہاں بے شرمی اور اخلاقی بزدلی ہمارا قومی اثاثہ بنتی جا رہی ھے- منگل کو شریف خاندان کی سزاؤں کی معطلی کے خلاف نیب کی سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت میں جو کچھ ہوا اس سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک جانا چاہئیے- پاکستان کی اعلی ترین عدالت کے سربراہ کا بھری عدالت میں جو رویہ دیکھنے کو ملا اس نے ساتھی ججوں کو بھی مجبور کر دیا کہ بہانے سے کاروائی ملتوی کرائی جائے- چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہ صرف شریف خاندان کے اس کیس سے اپنے ذاتی جذباتی لگاؤ کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنے ریمارکس سے اسلام آباد ہائی کورٹ، اس کے ججوں اور ان کے فیصلے کو بھی سر عام تضحیک کا نشانہ بنایا- ان کے اس غیر معمولی طور پر پہلے سے زیادہ جارحانہ روئیے کے سامنے ساتھی ججز اور وکلاء بے بسی اور پریشانی کی تصویر بنے نظر آئے- نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے پراسیکیوٹر اکرم قریشی دونوں نے ایک موقعے پر مشورہ دیا کہ چیف جسٹس کو اپنی صحت کی خاطر کچھ دن آرام کرنا چاہئیے تھا-

ایک دن پہلے اینجوپلاسٹی کروانے اور ملک میں امراض قلب کے سینئیر ترین ڈاکٹر جنرل کیانی اور ساتھی ججوں کے مشورے کے بھی برخلاف چیف جسٹس کا منگل کے روز ایک ڈاکٹر اور ویل چیئر سمیت سپریم کورٹ پہنچ جانا اور پھر محض شریف خاندان کے خلاف نیب اپیلوں کی سماعت کرنا انتہائی نامناسب اقدام تھا- منصف اعظم نے کمرہ عدالت میں از خود انکشاف کیا کہ ان کے لیئے ایک ڈاکٹر کمرہ عدالت سے متصل دوسرے کمرے میں “ہنگامی صورت حال” سے نمٹنے تیار بیٹھا ھے اور یہ کہ جنرل کیانی نے بھی انہیں کام سے روکا ھے- حیرت کی بات یہ تھی کہ سماعت کے دوران دو ساتھی ججز ایسے محتاط اور خاموش تھے جیسے کہ ڈاکٹر چیف جسٹس نہیں بلکہ ان کے لئے بلایا گیا تھا- سماعت کے دوران چیف جسٹس نے تابڑ توڑ ریمارکس دئیے اور ایک موقعے پر جب نواز شریف کے وکیل ایڈوکیٹ خواجہ حارث نے بات مکمل کرنے کی اجازت چاہی تو چیف صاحب جذباتی انداز میں بولے “خواجہ صاحب یہ سول کورٹ یا ہائی کورٹ نہیں ہے، یہ سپریم کورٹ ہے جہاں جج دلائل میں مداخلت کر سکتے ہیں اور آپ کو پہلے جج کی بات سننی ہو گی۔” سماعت کے دوران معزز چیف جسٹس کا بار بار گلا خشک ہوا اور انہوں نے کئی مرتبہ پانی کا گلاس منہ سے لگا لیا- دوران سماعت چیف جسٹس نے ایسے ایسے ریمارکس دئیے کہ جو وزیر اطلاعات فواد چودھری یا عمران خان بطور اپوزیشن لیڈر پریس کانفرنسوں میں دیتے رہے ہیں- ایسا کرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف اسلام آباد ہائی کورٹ بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھی ججوں کے کردار پر بھی سوال اٹھا دئیے- فرمایا کہ پاناما سکینڈل میں سپریم کورٹ کے ججوں نے معاملہ احتساب عدالت میں بھیج کر شریف خاندان پر مہربانی کی کیونکہ ان کی ہمیشہ سے یہ رائے رہی ھے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی کر دینا چاہئیے تھا- ایسے بیان سے ایک چیف جسٹس نے اپنے ساتھی ججوں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الا حسن کی پیشہ وارانہ صلاحیت اور ان کے کردار پر سوال اٹھا دیا ہے۔ آیا ان تین ججوں نے پاناما کیس احتساب عدالت بھیج کر شریف خاندان پر ذاتی مہربانی کی یا آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا ؟ پھر یہ کہنا کہ اگر میں (بنچ پر) ہوتا تو سپریم کورٹ میں ہی فیصلہ کر دینا تھا- ایسے بیانات نہ صرف یہ کہ چیف جسٹس کے عہدے کے شایان شان نہیں بلکہ اعلی عدلیہ کہ ججوں کے ضابطہ اخلاق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں- ضابطہ اخلاق میں یہ واضح طور پر لکھا ھے کہ ججز حضرات ساتھی ججوں سے متعلق کوئی بات کرتے ہوئے احترام کا اور محتاط رویہ اختیار کرینگے- اس کے برخلاف چیف جسٹس نے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ کا بھی نام لیئے بغیر ان پر الزام لگا دیا کہ انہوں نے فقہ قانون
(jurisprudence)
یعنی عدالتی فیصلوں کے ذریعہ طے شدہ قانونی معاملات کو تباہ کر کے رکھ دیا ھے- جسٹس من اللہ نے وہ فیصلہ تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے شریف خاندان کو دی گئی جیل اور جرمانے کی سزاؤں کو معطل کر دیا تھا- باوجود اس کے کہ اس فیصلے میں بار بار کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ صرف ضمانت پر رہائی کی حد تک ہے اور اصل کیس کے شواہد سے متعلق حتمی رائے نہیں اور اس حوالے سے اپیلیں اب بھی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں چیف جسٹس انتہائی غصے میں نظر آ رہے تھے-

خواجہ حارث نے اس سماعت میں صرف سزاؤں کی عارضی معطلی کے قانونی جواز پر بحث کرنا تھی- ابھی انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنے دلائل شروع بھی نہیں کیئے تھے کہ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس سے شریف خاندان پر لگے پاناما الزامات پر براہ راست سوال کرنے شروع کر دئیے- یوں لگ رہا تھا کہ وہ نہ صرف سزاؤں کو بحال کر کے شریف اور مریم نواز کو دوبارہ جیل بھیج رہے ہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں کا حتمی فیصلہ بھی وہ اسی وقت سنا دیں گے- معاملہ صرف اتنا تھا کہ کیا ہائی کورٹ کی طرف سے سزاؤں کی عارضی معطلی اور دی گئی عارضی ضمانت کا کوئی ہلکا پھلکا سا قانونی جواز بنتا ھے؟ مگر چیف صاحب نے جذباتی انداز میں خواجہ حارث سے فواد چودھری کا پسندیدہ سوال پوچھ لیا کہ بتائیں لندن جائداد کس کی ھے۔ اس مرحلے پر جب اسلام آباد ہائی کورٹ اس سوال کے احتساب عدالت کے فیصلے میں تلاش کردہ جواب کی قانونی حیثیت کا جائزہ لی رہی ھے تو ایک چیف جسٹس کا سزاؤں کی محض عارضی معطلی کا جائزہ لیتے ہوئے ایسا براہ راست سوال کرنا از خود اس نام نہاد “فقہ قانون” کی عصمت دری سے کم نہیں- اس ساری شرمناک عدالتی سماعت کے بعد سینئیر وکلا حضرات زیر لب مسگراتے باہر آئے تو اخلاقی بزدلی کا یہ عالم تھا کہ آف دا ریکارڈ تمام کاروائی پر افسوس کا اظہار کیا۔ افسوس اس بات کا ہوا کہ یہ سب کچھ کھلی عدالت میں ملک کے نامور وکلا کی نظروں کے سامنے ہوتا رہا- فقہ قانون اور قانون کے نام پر انہی دونوں کے ساتھ جوکمرہ عدالت میں ہوا بڑے بڑے قانون دان اس پر خاموش تماشائی بنے رہے- حتی کہ خواجہ حارث جیسا وکیل بھی قانون کو قربان کر کے اپنی وکالت بچاتا نظر آیا- شاید سامنے نظر آتے استرے سے اپنی گردن بچانا ہی فرض ہوتا ھے دوسروں کی نہیں۔

چیف جسٹس کے پریس کانفرنس نما جارحانہ اور غیرُمناسب ریمارکس کی وجہ سب کو پتہ ھے- “واٹس ایپ گروپ” نے گزشتہ سویلین حکومت اور جمہوریت کا ایک سال سے زائد عرصہ جو سپریم کورٹ میں پاناما سلینڈل کے نام پر میڈیا ٹرائل کیا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک عارضی مگر دلائل سے بھرپور ضمانت کے فیصلے نے ہی اس کے غبارے سے ہوا نکال دی تھی- گارڈ فادر اور سیسیلین مافیا جیسے القابات کے ذریعے سیاسی حکومت اور سیاست کو ذلیل کرنے والوں کے منہ پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک ذوردار طمانچہ ھے- لوگ پوچھتے ہیں کہ خلائی مخلوق اور عدالت عظمی پچھلے کئی سال سے مل کرایک منتخب حکومت اور ایک سیاسی جماعت کے احتساب کی جس دیگ کو ہلکی آنچ پر پکا رہے تھے اس میں سے کیوں کچھ نہیں نکلا؟
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان عوامی شکوک و شبہات کو اپنے یمارکس کے ذریعے رد کرنے کی ایک نحیف کوشش کی ہے- اور جب سارے میڈیا میں پاناما سکینڈل پر سپریم کورٹ کا اداراتی موقف ٹی وی ٹکروں اور ہیڈ لائنوں کی صورت چھپ گیا تو خواجہ حارث کا جوابی موقف اور جوابی ٹی وی ٹکر و ہیڈ لائنیں آنے سے پہلے ہی سماعت ملتوی کر دی گئی- آج اخبارات میں بھی سپریم کورٹ کا پاناما سکینڈل میں یکطرفہ اداراتی موقف چھپا ہے- نجانے کیوں معزز چیف جسٹس بستر مرگ (اللہ صحت دے) سے اٹھ کر شریف خاندان کا ہی کیس سننے سپریم کورٹ پہنچے- کیا ضروری ھے کہ پاناما کا کیس انکی ریٹائرمنٹ سے پہلے آخری حد یعنی نظر ثانی تک مخصوص حتمی فیصلے کی بھینٹ ہی چڑے؟ یوں لگتا ھے کہ شریف خاندان کی ضمانت منسوخ نہ بھی ہوئی تو تو اسلام ہائی کورٹ کو اصل اپیلوں کا فیصلہ مخصوص وقت سے پہلے کرنے کا کہا جائے گا جسکی کوئی ہائی کورٹ قانونا پابند نہیں ہوتی- جو نئی “فقہ قانون” جنم لے رہی ھے تو یہ بھی بعید نہیں کہ اگر مخصوص وقت سے پہلے اصل اسلام آباد ہائی کورٹ کی اپیلوں کا فیصلہ نہ ہوا تو اسکے بعد شریف خاندان کی ضمانت کو منسوخ تصور کیا جائے- بظاہر اٹھاراں جنوری سے پہلے نیب یا شریف خاندان کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل (دس دنوں میں) دائر کرنا اور اسکا چیف جسٹس کی عدالت میں ہی سماعت و فیصلہ ہونا ضروری دکھائی دے رہا ھے- سپریم کورٹ کے تاریخی پاناما ٹرائل یا میڈیا ٹرائل اور فیصلوں کی عزت جو داؤ پر لگی ھے- اور چیف جسٹس ریٹائر ہو گئے تو جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجازالحسن ویسے ہی وہ اپیلیں نہیں سن سکتے اور اگر چیف صاحب بھی ریٹائر ہو گئے تو معاملہ غیر یقینی صورت حال اختیار کر سکتا ہے- جب تک نظر ثانی کو مرحلہ باقی رہے گا تب تک ن لیگ کی سانسیں برقرار رہیں گی- اقامہ کو ہتھیار شاید ایسی ہی غیر یقینی صورت حال سے بچنے کیلیئے بروقت استعمال کر لیا گیا تھا- جو بھی ایک چیف کے ریٹائر ہونے سے کوئی زیادہ فرق بھی نہیں پڑتا- مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ فرق تو شاید دوسرے چیف کی ریٹائرمنٹ سے بھی نہیں پڑتا-

Sent from my iPhone

متعلقہ مضامین

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے