تمباکو کی پیداوار ختم، کھربوں کا نقصان

سالانہ 3 کھرب روپے کی آمدنی دینے والی تمباکو کی فصل بھی تباہی کا شکار ہو گئی ہے ۔ مالی سال 2018 کے دوران تمباکو کی پیداوار صرف 10 کروڑ 12 لاکھ کلو گرام رہ گئی جبکہ تقریبا 12 لاکھ کے قریب لوگ تمباکو کی فصل سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔

2016 کے بعد تمباکو کی پیداوار ہر سال کم ہو رہی ہے نیوز ون کو حاصل دستاویزات کے مطابق مالی سال 2018 کے دوران تمباکو کی پیداوار صرف 10 کروڑ 12 لاکھ کلو گرام رہ گئی۔2015 کے مقابلے میں تمباکو کاشت کرنے کی زمین میں 10790 ہیکٹر کی کمی ہوئی 2018 میں تمباکو کے لیے کاشت کی جانے والی زمین صرف 43014 ہیکٹر رہ گئی پاکستان میں صرف 0.20 فیصد رقبہ پر تمباکو کاشت کیا جاتا ہے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں قومی خزانے کو 88 ارب کا ریونیو ملا۔ تمباکو کی پیداوار بڑھانے اور ریسرچ لیبارٹریز کی اپگریڈیشن کے لیے گزشتہ تین سال سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ذرائع پاکستان تمباکو بورڈ کے مطابق نئے بیج اور کاشت کاری کے طریقہ کار میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کا فقدان ہے۔تقریبا 12 لاکھ کے قریب لوگ تمباکو کی فصل سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے