وسط مدتی الیکشن میں ٹرمپ کو دھچکہ

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان میں آٹھ سال بعد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔ دونلڈ ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھے گی تاہم آٹھ سال بعد لایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے ایجنڈا پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

صدارتی انتخاب 2020 میں ہونے ہیں لیکن ان وسط مدتی انتخابات کو ان کی صدارت کے دو سال پر ’ریفرینڈم‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے ایوانِ زیریں میں اکثریت کے لیے درکار 23 سے زیادہ نشستیں حاصل کر لی ہیں۔ ان انتخابات میں تمام 435 نشستوں پر مقابلہ تھا ۔ اس کامیابی کے بعد ڈیموکریٹ صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، ٹیکس اور مفادات کے ٹکراؤ کی تحقیقات کروا سکیں گے ۔

صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد کوئی خطاب نہیں کیا لیکن ان کی جانب سے ٹوئٹر پر مبارک باد کا پیغام سامنے آیا ہے ۔

وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی 435 نشتوں، سینٹ کی ایک تہائی نشتوں کے علاوہ کئی گورنروں اور ریاستی قانون ساز اداروں کی نشتوں پر انتخابات ہوئے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے اپنی طاقت کو بچانے کے لیے رپبلکن پارٹی کے امیدواروں کے لیے سرتوڑ الیکشن مہم چلائی اور ایک دن میں کئی کئی ریاستوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ۔ انھوں نے آخری روز تین مختلف ریاستوں میں تین ریلیوں سے خطاب کیا ۔ صدر ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پچھلے دو برسوں میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ سب داؤ پر لگی ہوئی ہیں ۔

سابق صدر براک اوباما بھی ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدواروں کے حق میں مہم چلانے میدان میں اترے۔ انھوں نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں امریکہ کا کردار داؤ پر لگا ہوا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے