فوجی سیمنٹ بھی پانی کیس میں

چکوال کے کٹاس راج تالاب میں پانی خشک ہونے کے مقدمے میں سیمنٹ فیکٹریوں نے رپورٹ جمع کرائی ہے ۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر چکوال کو رپورٹ کی تصدیق کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ماحولیات اور کٹاس راج مندر تالاب کی بھی رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا ہے ۔

جسٹس اعجاز الااحسن کی سربرائی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سیمینٹ فیکٹریوں نے رپورٹ پیش کر دی ۔ سیمنٹ فیکٹری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے صنعتی استعمال کے لیے زیر زمیں پانی کا استعمال بند کر دیا ہے ۔ اب صرف سیمینٹ فیکٹری ملازمین کے زاتی استعمال کے لیے نکال رہے ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ سیمینٹ فیکٹریاں لگانے کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ تحقیقات کہاں تک پہنچی ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات بہت اچھے طریقے سے جا رہی ہیں ۔ سیمنٹ فیکٹریوں کے وکیل نے بتایا کہ تحقیقات کرنے کے دوران حراساں نہ کیا جائے۔ عدالت نے ہراساں کرنے سے منع کر دیا ۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوسیمینٹ فیکٹریوں کی رپورٹ کی تصدیق کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ فیکٹری ملازمین کو گھریلو استعمال کے لیے کتنا پانی درکار ہے اور کتنا پانی نکالا جا رہا ہے۔ عدالت نے کٹاس راج پر بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ۔ نمائندہ سول سوسائٹی نے بتایا کہ سیمینٹ فیکٹری والے جھوٹ بول رہے ہیں، انھوں نے وہاں چشمے خشک کر دئیے ہیں ۔ عدالت نے نمائندے کو درخواست دینے کی ہدایت کردی ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سنگ جانی میں فیکٹو اور باہتر میں فوجی سیمینٹ ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیر زمین پانی استعمال کر رہے ہیں۔ عدالت نے تحفظ ماحولیات ایجنسی اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کرلی ۔ سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی ۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سیمنٹ فیکٹریوں کو ازخود نوٹس کیس میں زیر زمین پانی استعمال کرنے کی قیمت ادا کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے