اسحاق ڈار ضمنی ریفرنس

احتساب عدالت اسلام آباد میں اسحاق ڈار کے خلاف ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران  جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے ہیں کہ استغاثہ کے گواہ کا ازخود بیان ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ اس پر دوبارہ جرح ہونا چاہیے ۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈارکے خلاف ضمنی ریفرنس کی سماعت کی ۔ وکیل صفائی قاضی مصباح نے استغاثہ کے گواہ طارق جاوید پرجرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا 23 اگست2017 کوچھ بارنیب کے آفس گئے تھے؟ طارق جاوید نے انکار کرتے ہوئے صرف ایک بار جانے کا بتایا ، نیب پراسیکیورٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ کے ازخود بیان سے الجھن پیدا ہورہی ہے جج محمد بشیرنے ریمارکس دیے کہ گواہ کا ازخود بیان ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ اسکی جگہ دوبارہ جانچ پڑتال ہونی چاہیے ۔ وکیل صفائی نے حمایت کرتے ہوئے کہاکہ گواہ کا بیان ہونے پراستغاثہ کا کام ختم ہوجاتا ہے جرح میں گواہ پوچھے گئے سوالات پر ہی جوابدہ ہونا چاہیے ،عدالت نے آئندہ سماعت پربھی استغاثہ کے گواہ طارق جاوید پرسعید احمد کے وکیل حشمت حبیب کو جرح کرنے کی ہدایت کرتےہوئے سماعت 14 نومبرتک ملتوی کردی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے