توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ

احمد عدیل سرفراز

 

آسیہ مسیح کا معاملہ ابھی کسی کروٹ نہیں بیٹھا کہ توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ عدالت عظمی کے سامنے آگیا تاہم منصب اعظم اس معاملے کو وقت حال زیر سماعت لانے سے گریزاں !!!

مقدمہ سپریم کورٹ کی کازلسٹ میں بھی لڑاکا طیارے کی طرح نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا.

دو نومبر کو جاری شدہ کاز لسٹ میں توہین رسالت کے ملزم انور کینیتھ کی سزا کیخلاف اپیل جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بینچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر تھی لیکن چھ نومبر کی کازلسٹ جاری ہونے سے پہلے ہی کیس غائب ہوگیا، متجسس حالت میں فریقین کے وکلاء اور متعلقہ حکام سے پوچھا تو سب ہی اس معاملے پر بات کرنے سے گریزاں نظر آئے ، تاہم شکایت کنندہ کے وکیل چوہدری غلام مصطفی سے بات ہوئی توانہوں نے بھی کیس ڈی لسٹ پر حیرانی اورلاعلمی کا اظہار کیا ، وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمہ 8 نومبر بروز جمعرات سماعت کیلئے مقرر ہے جس کا نوٹس بھی موصول ہوچکا ہے، میرے انکشاف پر وکیل نے اپنے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سے رابطہ کرنے اور معلومات سے اگاہ کرنے کا کہ کر فون بند کر دیا تاہم لگ بھگ ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد وکیل صاحب نے نئی جاری شدہ کازلسٹ کا ایک سکرین شاٹ واٹس ایپ پربھیجا جس میں انورکینتھ کا مقدمہ سیریل نمبرتین پر لگا ہوا تھا، بقول انکے کازلسٹ کو ایک مرتبہ پھر سے اپڈیٹ کر دیا گیا ہے اور کیس بھی اب پھر سے سماعت کیلیے مقرر ہے، جس پر ہم نے بھی اسکو ایک انتظامی غلطی سمجھ کر ٹال دیا،

توہین رسالت کے ملزم کی اپیل سماعت کیلیے مقرر ہونے کے بعد ڈی لسٹ کیوں کر دی گئی؟

لیکن صورتحال دلچسپ اس وقت ہوتی ہے جب رات بارہ بجے کے قریب کازلسٹ کو ایک بار پھر سے اپڈیٹ کیا جاتا ہے اور سماعت سے چند گھنٹے قبل ہی مقدمے کولسٹ سے ایک بار پھر نکال باہر کیا ، اس تمام تر صورتحال میں کوئی بھی رائے اخز کر لینا یقینی طور پر قبل ازوقت ہوگا لیکن تمام شکوک وشبہات بالائے تاک رکھنے کے باوجود کئی اہم سوالات نے جنم لیا ، بالخصوص ایسے وقت میں یہ مقدمہ سماعت کیلیے مقرر ہونا جب اسی نوعیت کے ایک کیس *(آسیہ مسیح بریت کیس)* کے فیصلےکے بعد کی صورتحال سے ملک بھر میں مذہبی انتہاپسندی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے اور نو منتخب شدہ حکومت کو امن وامان جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور اس تمام تر صورتحال میں ملکی دفاعی ادارے بھی دفاعی پوزیشن لیتے دکھائی دے رہے ہیں،

ملزم انور کیتھ آخر ہے کون ؟؟؟

ملزم انور کینیتھ 1977 میں اٹامک انرجی میں بطور سائنٹیفک اسسٹنٹ بھرتی ہوا اور 1978میں فشریز ڈیپارٹمنٹ میں بطور اسسٹنٹ کام شروع کیا ، انور کنیتھ نے 1999 میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز ڈیپارٹمنٹ سے استعفیٰ دیدیا تھا، ایڈووکیٹ غلام مصطفی کے مطابق نوکری چھوڑنے کے بعد ملزم نے مختلف مذاہب پر تحقیق شروع کردی،

*ملزم کے خلاف الزام کیا ؟*

2001 میں ملزم انور کنیتھ کیخلاف تھانہ گوالمنڈی لاہور میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا ، مقدمہ ایس ایچ او نصراللہ خان نیازی کی مدعیت میں درج ہوا تھا،ملزم نے ایس ایچ اوگوالمنڈی کو توہین رسالت پر مبنی ایک خط لکھا جس کی بنیاد پر 14ستمبر2001 میں مقدمہ درج کیا گیا اور 25 ستمبر2001 کو پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا ، ٹرائل کورٹ میں دو علماء دین نے ملزم کیخلاف گواہی دی ، ملزم نے اعتراف جرم بھی کیا جس پر اسے سزائے موت کے ساتھ پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی گئی ، ہائیکورٹ نے بھی 30 جون 2014 کو ملزم کی سزا برقرار رکھی ، ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف ملزم انور کینتھ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا،

*توہین رسالت کا مرتکب لکھاری ملزم :*

اطلاعات کے مطابق ملزم نے کئی ممالک کے سربراہان ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ ، پاکستان میں مختلف ممالک کے سفارت خانوں، علماء دین اور اخبارات کے مالکان کو توہین رسالت پر مبنی لگ بھگ چھ ہزار خطوط لکھے ملزم نے 188 ممالک کے سربراہاں کوخط لکھے ، وکلاء کا کہنا ہے کہ ملزم انتہائی چالاک، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے جبکہ اس نے جیل پٹیشن بھی خود تیار کی

*کاز لسٹ میں تین بار ردو و بدل کی وجہ کیا ؟؟؟*

بظاہر انور کیتھ کے مقدمے کا ڈی لسٹ ہونا محض ایک اتفاق تونظر نہیں آتا، معاملے کی حساسیت اورحال ہی میں آسیہ مسیح سے متعلق آنے والے فیصلے پر شدید ردعمل میں کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا ،آسیہ مسیح کی بریت پر مذہبی جماعت کے قائدین کے فتوے اور انتہائی سخت بیانات بھی آئے جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان سمیت عدالت عظمی کے دیگر ججز کی سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں کی اسکریننگ کا عمل شروع ہوا ، لگ بھگ ڈیڑھ سو سے زائد سیکورٹی اہلکاروں کو سوالنامے دیے گئے ، جن میں کئی بنیادی سوالات درج ہیں ، اہلکاروں کے انٹرویوز کیلیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو ججز کی سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں کی صلاحیت کم اور انکے نظریات کو زیادہ غور و غوض سے جانچ رہی ہے، بظاہر تو انور کیتھ کی اپیل کا ڈی لسٹ ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کب تک اس اپیل کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیر التواء رکھا جاتا ہے،

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے