سمیع الحق قتل تفتیش میں پیش رفت

پولیس کی تفتیشی ٹیم نے دعوی کیا ہےکہ مولانا سمیع الحق قتل کی گتھیاں سلجھنے لگی ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم کے ہاتھوں بڑا ثبوت لگ گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی ( س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قتل کیس میں ان کے کمرے سے ملنے والے شواہد کے تجزیے میں 5 افراد کے ڈی این ایزکی موجودگی کا انکشاف ہواہے۔ مولانا سمیع الحق قتل کیس میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش میں اس کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔

تفتیشی ٹیم کی جانب سے کمرے سے ملنے والے شواہد کے تجزیے میں پانچ افراد کے ڈی این ایز کی موجودگی کے انکشاف کے بعد قریبی تعلق رکھنے والے مشکوک افراد اور  پولیس حراست مین سات افراد کو تحویل میں لے کرڈی این اے کے نمونے بھجوا دیئے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نمونے کراس میچ کے لئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوائے گئےجبکہ گرفتار مشکوک افراد میں 4 کو رہا کر دیا گیا ہے ۔ ساتوں افراد کے ڈی این ایزکو کمرے سے ملنے پانچوں ڈی این ایزسے کراس میچ کرایا جائے گا۔ یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ کمرے کے باتھ روم سے ملنے والا خون کے دھبوں والا کرتا مولانا سمیع الحق کا نہیں ہے ۔ کمرے سے لیے گیے چاقو کی فرانزک رپورٹ کا انتظارہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button