سندھ کے صحافی سراپا احتجاج

ایک ہفتے کی اہم سیاسی سرگرمیاں!!
عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com
سندھ میں سیاسی سرگرمیوں میں بظاہر نرمی ہے ،مگر اس وقت کراچی پریس کلب سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے ،جہاں پر روزانہ سیاسی، سماجی ، مذہبی قیادت اور دیگر افراد کلب کے ممبران اور کراچی کے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ کراچی پریس کلب میں صحافیوں کا احتجاج 8نومبر 2018ء سے جاری ہے، جب بعض خفیہ اداروں کے ایک درجن سے زائد مسلح اہلکاروں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کلب کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے عملے کو زدو کوب کیا اور بعض ممبران سے تلخی کے ساتھ پیش آئے۔ کلب انتظامیہ کے مطابق مختلف حصوں کی تصاویر بھی بنائی گئی۔ حکومت سندھ ، مختلف اداروں اور انظامیہ کے ذمہ داروں نے پہلے مرحلے میں اس کو پہلے ’’سسٹرآرگنائزیشن ‘‘ کی جانب سے غلط فہمی قرار دیکر معذرت کی مگر اچانک 10نومبر کی صبح کراچی پریس کلب کے سینئر ممبر نصراﷲ خان چودھری کو گھر سے حراست میں لیاگیا اور صحافیوں کے احتجاج کے بعد 12نمبر کو انہیں گھر سے ’’افغان جہاد کے حوالے سے ایک رسالہ ‘‘برآمد ہونے کے الزام عدالت میں پیش کیا،مگر اچانک شام کو ایک پریس ریلیز میں انتہائی سنگین الزام عائد کرنے کے ساتھ ساتھ کلب میں چھاپے کی وجہ بھی نصراﷲ خان چودھری کی گرفتاری بتائی گئی اور کلب میں چھاپے پر افسوس کا اظہار بھی کیاگیا۔ کچھ دیر بعد ایک ’’جے آئی ٹی ‘‘بھی تشکیل دی گئی۔ 14نومبر کو نصراللہ چودھری کو 5روز کے لئے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیاگیاہے۔
کراچی پریس کلب ہمیشہ جمہوری ، قانونی ، آئینی اور اخلاقی روایات کا امین رہا ہے۔ کراچی پریس کلب ہمیشہ مظلوموں، محروموں کی اور مجبوروں کی آواز بنا ہے۔ کلب کے خلاف اچانک اس طرح کی کارروائی کو کراچی کے صحافی ملک میں صحافیوں کے خلاف کارروائی کا تسلسل اور کراچی پریس کلب کو زیر کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے حالیہ انتہائی غیر ذمہ دارنہ بیان کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت وں کے ساتھ بعض قومی اداروں کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ وزیراعظم عمران خان کراچی پریس کلب کے اعزازی ممبر ہیں ان کو اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس وقت سیاسی قیادت صحافیوں کے احتجاجی اجتماع میں اپنی مشکلات بھی بیان کرتی ہیں۔حالات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے گرد گیرا تنگ کیاجارہاہے اور اس عمل میں تیزی نظر آتی ہے۔ مجموعی طور پر پیپلزپارٹی فی الوقت مشکلات میں ہے ۔اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری کے مختلف مبینہ قریبی ساتھیوں کو کیخلاف کاروائی جاری ہے۔ مگر اس بار برائے راست جس طرح ایف آئی اے نے اپنی کاروائیوں میں وسعت پیدا کی ہے اس سے یہ محسوس ہورہاہے کہ پنجاب میں’’شریفوں‘‘ کے بعد اب سندھ میں’’زرداریوں‘‘کیخلاف میدان لگنے والا ہے۔اس کے باوجود پیپلزپارٹی کی قیادت’’ چمڑی ‘‘اور’’ دمڑی‘‘ بچانے کے لئے کوشاں ہے ۔ یہ بازگشت بھی ہے کہ پیپلزپارٹی میں فاورڈ بلاک کی کوششیں جاری ہیں اور بعض قوتیں 2017ء کا’’بلوچستان فارمولے‘‘ پر کام کر رہی ہیں۔ مبصرین کاکہناہے کہ ایسی کوئی بھی کوشش ملک میں سیاسی عدم استحکام اور تحریک انصاف کی حکومت کیلئے انتہائی مشکلات سبب بنے گی ۔کارروائی نیب کرے یا ایف آئی ،مقدمات ہائی کورٹ میں چلیں یا سپریم کورٹ میں۔ہرموقع پر ناانصافی یا یکطرفہ کارروائی کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ماضی اور حال کے کچھ تجربات انتہائی تلخ اور سوالیہ نشان رہے ہیں۔ ایف آئی اے نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھی تحقیقات کیلئے طلب کیا ،مگر سابق وزیراعلیٰ نے عدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے پیش ہونے سے انکار کیا اور 13نومبر2018ء کو عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرلی۔ سید قائم علی شاہ سندھ میں نیک نامی کے حوالے سے ایک بڑا نام ہے ، اداروں کو اس طرح کے افراد پر ہاتھ ڈالنے سے قبل تمام قانونی تقاضے اور شواہد کومدنظر رکھنا ہوگا، بصورت دیگر ان کا ہرعمل سوالیہ نشان بن جائے گا۔
اس وقت حکومتی اتحادی جماعت ایم کیوایم پاکستان بھی مشکلات میں ہے۔ایم کیوایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول ، وفاقی وزیر قانون بیریسٹر فروغ نسیم سمیت 726افراد کو منی لانڈرنگ کیس میں نوٹسز جاری کیے ہیں جو مختلف تنظیمی عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایم کیوایم کے اندر ٹو ٹ پھوٹ کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ ایم کیوایم پاکستان نے ڈاکٹر فاروق ستار کی سرگرمیوں کوپارٹی کیخلاف قرار دیکر ان کی بنیادی رکینت ختم کردی، جس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک مرتبہ پھر پی آئی بی کالونی میں اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور دونوں گروپوں کے رہنماوں کے مابین انتہائی سنگین الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔مبصرین کے مطابق ڈاکٹرفاروق ستار کے پاس کسی بڑی جماعت میں شمولیت یا اپنا الگ قائم کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا ہے ۔اس ضمن میں معروف ماہر قانون احمد رضا قصوری کی ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کو اہم قرار دیاجارہاہے ۔ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو کراچی میں تجاوزات کیخلاف آپریشن میں عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ہے۔
حالیہ دنوں کراچی میں تجاوزات کیخلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا ہے اور اس کا دائرہ پورے شہر تک پھیل چکاہے ۔ کراچی کے میئر وسم اختر اور کراچی میٹرو پولیٹن کاروپوریشن کا دعویٰ ہے کہ ہم نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر عمل کیاہے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں ایمپریس مارکیٹ صدر کے قرب وجوار میں 1300سے زائد دکانوں کا انہدام اور ایک ہزار کے قریب پتھارداروں کا خاتمہ کیاگیاہے۔ بیشتر مارکیٹیں دھائیوں سے تھیں، جن کا بغیر کسی متبادل انتظام چند گھنٹے کے نوٹس پر انہدام ہزاروں لوگوں کا معاشی قتل ہے۔سیاسی ، مذہبی ، کاروباری اور دیگر تمام حلقوں میں اس پر سخت تشویش ہے ۔مختلف حلقوں کے دعوے مطابق مجموعی طور پر2300زائد دکانوں اور پتھاراداوں کے خاتمے کے بعد 10ہزارکے قریب افراد بے روزگار ہوگئے ہیں، جبکہ ان کے خاندانوں کے ایک لاکھ کے قریب افرادکو شدید معاشی مشکلات کاسامنا کرنا پڑے گا۔شہری اور صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ متاثرین کے لئے متبادل انتظام کی حکمت عملی طے کرلی گئی ہے ، تاہم عملی میدان میں کچھ نہیں نظر آرہاہے۔اس صورتحال میں حالات مشکل سے مشکل تر ہوسکتے ہیں اس کا تمام بوجھ وفاقی اور صوبائی حکومت پر پڑھے گا۔وفاقی اور صوبائی حکومت کو متاثرین کی فوری بحالی اور شہر میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے ایسی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی جس سے لوگوں کی مشکلات اور بے روزگاری میں اضافہ نہ ہو بصورت دیگر آیندہ چند روز میں یہ سندھ کا سب سے بڑا سیاسی ایشو بن کر سامنے آئے گا۔ اس ضمن میں مختلف جماعتیں اپنی حکمت عملی بھی طے کررہی ہیں۔
متحدہ مجلس عمل کراچی کے تحت 8نومبر کو شاہراہ قائدین پر’’ تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ ‘‘ ہوا،جس میں عوام کی کثیر تعداد نے امن احتجاج کے ذریعے یہ ثابت کردیا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کیلئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ اجتماع سے متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن ، مرکزی رہنماء علامہ ساجد ، شاہ اویس نورانی ، صوبائی صدر مولانا راشدمحمود سومرو، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور ودیگر نے خطاب کیا۔بحالی کے بعد ایم ایم اے کا کراچی میں یہ پہلا مشترکہ عوامی قوت کا مظاہرہ تھا جس میں متحدہ مجلس عمل کی قیادت کافی حدتک کامیاب رہی ،تاہم اجتماع میں یہ محسوس کیاگیا کہ شرکاء کی جمعیت علماء اسلام کی طرح ایم ایم اے میں شامل دیگر جماعتوں نے سرگرمی نہیں دکھائی ۔مبصرین کے مطابق اگر دیگر جماعتیں بھی جے یو آئی کی طرح اپنے کارکنوں کو متحرک کرتیں تو یہ کراچی کی تاریخ کا بڑا مارچ ہوتا، ایم ایم اے کی دیگر جماعتوں کو غو رکرنا ہوگابصورت دیگر ان کے درمیان اختلاف کی خلیج بڑھتی ہی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button