طاہر داوڑ کے قاتلوں کا سراغ

اعزاز سید / سیاسی افق

 

۱۹ اکتوبر جمعے کی شام پچاس سالہ طاہر داوڑ نے پشاورسے اسلام آباد داخل ہوتے ہی موبائل فون پر سیکٹر جیٹین میں واقع اپنے گھر فون کیا۔ گھر میں ملازم کے علاوہکوئی نہیں تھا۔ طاہر نے ملازم کو فون پر ہدایت دی کہ وہتھوڑی دیر میں گھر پہنچ رہا ہے چکن کڑاہی تیاررکھے وہبھوک محسوس کررہا ہے۔

طاہر داوڑکوئی عام آدمی نہیں تھا بلکہ پشاور کا معروفپولیس آفیسر تھا جو ۱۹۹۵ میں صوباِئی پبلک سروسکمشن سے مقابلے کا امتحان پاس کرکے خیبرپختونخواہپولیس میں اے ایس آئی یعنی اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھرتیہوا تھا۔ بہترین کارکردگی پر ۲۰۰۲ میں سب انسپکٹربنا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو وہ سینہ تان کرسامنے آیا۔ کڑے حالات میں بھی کارکردگی اتنی متاثر کنتھی کہ ۲۰۰۷ میں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پائی اور۲۰۱۱ میں پولیس کے سب سے بڑَ ے اعزاز قائد اعظم پولیسمیڈل کا حقدار ٹھہرا۔ ابھی دو ماہ پہلے ہی اسے ڈی ایسپی سے ایس پی کے عہدے پر ترقی دے کر پشاور کے دیہیعلاقے کی زمہ داری سونپی گئی تھی۔

اسلام آباد سے طاہر داوڑ کی کچھ تلخ یادیں بھی وابستہتھیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی اسلام آباد کے علاقے بہارہکہو میں اسکے بھائی اور بھابھی کو بہیمانہ طور پرقتل کیاگیا تھا۔ وہ ان کے بچوں کو اسلام آباد سے پشاور اپنےپاس لے آیا تھا۔ مگر کسی نہ کسی کام سے اسلام آباد آناجانا رہتا تھا اس لیے یہاں کرائے کا ایک مکان بھی لےرکھا تھا۔

اس رات طاہر نے راولپنڈی میں ایک فیملی سے بھی ملناتھا۔ طاہرگھرپہنچا اس نےاپنا لیپ ٹاپ، موبائل فون رکھا،کھانا کھایا اور دو میں سے ایک فون اٹھا کر پیدل ہی باہرروانہ ہوگیا۔ گھر کے باہر اسکی دو افراد سے ملاقات ہوئیاور وہ پیدل چلتے چلتے ایف ٹن مرکز پہنچے جہاں ایفنائن پارک میں داخل ہونے کے لیے تینوں نے کم و بیش چھبجکر ۴۵ منٹ پر سڑک کراس کی اور اس کے بعد طاہرداوڑ کا کچھ پتہ نہ چلا۔

رات دیر ہوئی تو راولپنڈی میں طاہر داوڑ نے جس فیملی سےملنا تھا اس نے طاہرکے ملازم اور دوستوں کو فونکرناشروع کیا۔ شروع میں سب سمجھ رہے تھے کہ طاہرخود کسی کے ساتھ گیا ہے وآپس آجائے گا۔ مگر جوں جوںوقت گذرتا جارہا تھا توں توں پریشانی اور اضطراب بھیبڑھتا جارہا تھا۔ شور مچنا شروع ہوا تو اگلے روز جہلم کیلوکیشن سے طاہر کی اہلیہ کے موبائل فون پر انگریزی زبانمیں لکھا پیغام آیاجس میں اپنی خیریت اور جلد وآپسی کیامید دلائی گئی۔ خاندان کوفوری پتہ چل گیا کہ موبائل فونکا یہ پیغام طاہر نے لکھا ہی نہیں تھا کیونکہ طاہر نےکبھی بیوی کو انگریزی پیغام لکھا ہی نہیں کیونکہ اسکیاہلیہ انگریزی زبان سے مکمل نابلد تھی۔

طاہر کے سات بھائیوں میں سے ایک فاٹا سیکرٹریٹ میںملازم ہیں۔ اس واقعے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے وہفوری اسلام آباد پہنچے۔ مقدمہ درج کرایا گیا اور اسلامآباد پولیس نے ابتدائی تحقیقات شروع کردیں۔ میریمعلومات کے مطابق طاہر داوڑ کی تحقیقات کے ابتدائی چندگھنٹوں میں اسلام آباد پولیس کو اصل معاملہ سمجھ میںآگیا تھا۔ تاہم مزید تفتیش کے لیے معاملہ اسلام آباد سیآئی اےپولیس کے ایک متنازع افسر گلفام ناصر اور ایس پیصدر عمرخان کے حوالے کیا گیا۔

پولیس کا خیال یہ تھا کہ طاہر داوڑ چونکہ خود بھیطاقتورحلقوں میں اچھی جان پہچان رکھتے ہیں اس لیے وہیقینی طور پر وآپس آجائیں گے۔ پولیس کی تفتیش بھیخوف اور مصلحت کا شکارتھی۔ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ ویسے بھی وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخاردرانی کیطرف سے وائس آف امریکہ کو دئیے گئَے انٹرویو میں واضعطور پر یہ کہا گیا تھآ کہ طاہرداوڑ بالکل خیریت سےپشاورمیں موجود ہیں۔ اس لیے طاہر کی وآپسی کا امکاناورزیادہ روشن تھا۔

اس دوران طاہر داوڑ کے تمام بھائی اسلام آباد اور پشاورکے درمیان در در کے دھکے کھاتے رہے کیونکہ طاہرصرفان کا بھائی ہی نہیں بلکہ گھر کا فیصلہ ساز بھی تھا۔ ۱۰نومبر کی شام طاہر کے دوبھائیوں سے میری ملاقات بھیہوئی۔ میں نے پریشان حال بھائیوں سے پوچھا کہ آپ کوکسی پر کوئی شک ؟ تو مجھے انہوں نے ایک حیران کنکہانی سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ طاہر نے چند روز قبلپشاورمیں بھاری اسلحے کے ساتھ کچھ مشتبہ افراد کوپکڑا تھا۔ ان افراد کے لیے سفارشیں بھی آئیں مگر طاہر نےانہیں چھوڑنے سے انکارکیا۔ گرفتار کیے گئے افراد بدتمیزیپر اترے تو بھائی نے مقدمہ درج کرکے حوالات میں بندکردیا۔ مگر ایس ایس پی کی مداخلت پر ان مشتبہ افراد کوچھوڑدیا گیا۔ طاہر کے خاندان کا خیال تھا کہ یہی وہ لوگہوسکتے ہیں جنہوں نے طاہر داوڑ کو اغوا کیا۔ مجھے انہوںنے بتایا کہ ہم نے اپنی ماں کو شمالی وزیرستان میں اپنےگاوں خد بھیج رکھا ہے جہاں انہیں طاہر کے اغوا کیاطلاع نہیں دی گئی۔ طاہر کی چھ بیٹیاں ہیں اور دو بیٹےہیں، سارا گھرشدید کرب کاشکارہے۔

دوروز بعد صبح سوشل میڈیا پر طاہر داوڑ کی سات سالہبیٹی کی اپنے والد کی فریم شدہ تصویر کے ہمراہ لی گئیسوالیہ آنکھوں کی تصویرنے مجھ سمیت سب کو ہلا کررکھدیا۔ سہہ پہرکے وقت وٹس ایپ پر ایک دوست کا پیغامکھول کردیکھا تو طاہر داوڑ کی پرتشدد لاش اور اس کےپولیس کارڈ کی تصاویر تھیں۔ دفترکال کی تو پتہ چلا کہطاہر داوڑ کے افغانستان میں بہیمانہ قتل کی خبرپشاورسے جیو نیوز کے متحرک رپورٹر رسول داوڑ دے چکےہیں۔ رسول کے طاہر کے خاندان سے قریبی تعلقات تھے۔

اسلام آباد جیسے شہرسے طاہر داوڑ کے اغوا کے بعدوزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی نے ایک پریسکانفرنس کےدوران اس اغواپر بات کرنے سے گریزکیا۔ قتلکی خبر آئی تو سینٹ میں الزام سیف سٹی منصوبے پر دےمارا، جو مکمل طورپر بے سروپا تھا۔ اس سنگین قتل کےبعد حکومتی نمائندوں کے بیانات نے ہمارے پشتون بھائیوںکے زخموں پرمرحم تو نہ رکھا تاہم نمک پاشی خوب کی ۔ طاہر داوڑ کی لاش پاکستان آتے مزید دن لگ گئے اور ساراخاندان تڑپتا رہا۔

طورخم بارڈر پر وزیرمملکت برائے داخلہ افغانستان حکومتسے طاہرداوڑ کی لاش لینے گئے لیکن اگروہاں معززرکنقومی اسمبلی محسن داوڑ زمہ دارانہ رویہ اختیارنہ کرتےتو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ طاہر کو پورے قومی اعزاز کےساتھ سپرد خاک کردیا گیا مگر شہر میں وہ نعرے سننے کوملے جوکبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ حکومتیدعووں کے باوجود ابھی تک طاہر کے قاتل نہیں پکڑےجاسکے۔ میرے خیال میں پولیس اور ریاستی ادارے اسساری صورتحال کو یقیناً سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اگرذیل کے چند سوالوں کے جواب جان لیے جائیں تو طاہرکےقاتلوں کا سراغ مل جائے گا۔

۱۔ ایس ایس پی پشاور سے پوچھا جائے کہ طاہر نے چندروزقبل جن افراد کوپکڑا تھا انہیں کس کی سفارشپرچھوڑا گیا؟ وہ کون تھے۔

۲۔ طاہرداوڑ سے آخری وقت اسلام آباد میں جن دو افراد نےملاقات کی وہ کون ہیں ؟ ان کی شناخت کا کیا بنا؟

۳۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی سے پوچھا جائے کہانہوں نے طاہر کی پشاور موجودگی کا بیان کس کے کہنےپر دیا تھا؟

۴۔ سوشل میڈیا کے کس اکاونٹ نے طاہرداوڑ کے اغوا کوعسکریت پسندوں کی کارروائی قراردیا؟ اس اکاونٹ کا مالککون ہے؟

۵۔ اگر طاہر داوڑ عسکریت پسندوں کے نشانے پرتھآ تواسے اسلام آباد میں ہی کیوں نہیں مارا گیا؟

۶۔ عسکریت پسند تنظیمیں ایسے افسروں کے اغوا کو اپنیکامیابی قراردیتی ہیں ان کے بیانات ریکارڈ کیے جاتے ہیںایسا سب کیوں نہیں ہوا؟

۷۔ طاہر داوڑ کو پینٹ شرٹ میں ہی افغانستان کیسے منتقلکردیا گیا؟ کیا پاک افغان سرحد پر اربوں روپے سے لگائیجانے والی باڑکام نہیں کررہی؟ ۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

متعلقہ مضامین