کرتار پور بارڈر کھل رہا ہے

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے اور اس تقریب میں پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ خصوصی طور پر شریک ہوئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان پہلی ’ویزا فری‘ راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا ۔ دوسری جانب انڈیا میں دو دن قبل ملک کے نائب صدر نے ایک تقریب میں یہ عمل سرانجام دیا ہے ۔

عمران خان نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں اور اب نئی شروعات ہونا چاہئیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے پاکستان کی فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے ۔

پاکستان میں آج اس تقریب میں شرکت کیلئے انڈیا نے اپنے دو وزرا کو نمائندگی کے لیے بھیجا ہے ۔ پنجاب کے ضلع نارووال میں علاقہ کرتارپور میں واقع سکھ مذہب کے بانی بابا گُرو نانک سے منسوب گرودوارہ ڈیرہ بابا صاحب سکھ برادری کے لیے انتہائی مقدس ہے ۔

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ ہم بیس سال سے اس راہداری کو کھولنے کی درخواست کرتے رہے ہیں ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ پیش رفت کے باوجود انڈیا سارک ممالک کی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا جو پاکستان میں ہو رہی ہے ۔

کرتارپور راہداری پر حالیہ بات چیت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں آئے انڈین کرکٹر نوجوت سدھو نے اس بارے میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بات چیت کی ۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’سکیورٹی اور احتیاط‘ کے لیے راہداری کے دونوں طرف باڑ لگائی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہیں گے جو آئیں خیر و خیریت سے آئیں اور خیریت سے واپس جائیں، انھیں کوئی پاسپورٹ کی کسی ویزہ کی ضرورت نہیں ہوگی، آئیں گے اپنا اندراج کروائیں گے انھیں پرمٹ ملے گا، جو چھوٹی موٹی فیس ہوگی ادا کریں گے، اپنا درشن کریں گے، اپنی زیارت کریں گے، وہاں کھائیں گے، پیئیں گے، رہیں گے۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button