نیا پاکستان: سو روز میں ریلوے ناکام

سو روزہ ایجنڈا: پاکستان ریلوے 4 میں سے ایک ہدف بھی حاصل نہ کرسکا

اسلام آباد (محمداویس) وزارت ریلوے 100دن کے ایجنڈے میں رکھے گئے 4 ہداف میں سے ایک ہدف بھی مکمل حاصل نہ کرسکا، 10مسافر ٹرینوں میں سے7 ٹرینیں چلائی جاسکیں، مال بردار ریل گاڑیوں کی تعداد میں ایک ریل گاڑٰ ی کا بھی اضافہ نہ کیا جا سکا ،دو ریل گاڑیوں کادو مرتبہ افتتاح کیا گیا ۔

وزیراعظم عمران خان نے 4 مسافر ٹرینوں کا افتتا ح کیا، وزیراعظم نے رحمن بابا ایکسپریس کا 23 نومبر کو افتتاح کیا، ٹرین 25دسمبر کو چلے گی لیکن تاحال کو چزتیار ہیں نہ ہی روٹ کا تعین کیا گیا ہے ۔ مسافر ٹرینیوں میں وائی فائی اور ٹرینوں میں ٹریکنگ سسٹم لگانے کو عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا۔ پاکستان میں کل 63 مسافرٹرینیں اور 10 مال بردار ریل گاڑیاں چل رہی ہیں ۔

ترجمان نے کہا کہ10 مسافر ریل گاڑیاں چلانے کاہدف مکمل کر لیا، مال بردارگاڑیوں ، وائی فائی اور ٹریکنگ سسٹم پرکام ہو رہا ہے۔ اپوزیشن نے کہا کہ مسافر ٹرینوں سے ریلوے کاخسارہ بڑھے گا مال گاڑیاں چلا کر ہی خسارہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمدنے 18 اگست کو وزیر ریلوے کاحلف لیا تھا اور اس کے بعد 100دن کے ایجنڈے میں انہوں نے 10مزید مسافر ٹرینوں کو چلانے اور مال گاڑیوں کی تعداد کو 10 سے 15 تک لے کر جانے، ٹرینوں میں وائی فائی اور ٹریکنگ سسٹم لگانے کااعلان کیاتھا۔سودن میں صرف ایک ہدف مسافر ٹرینوں میں اضافے میں ہی70 فیصد کامیابی حاصل ہو سکی۔ 100دنوں میں ریلوے کی طرف سے نئی 7 ٹرینیں چلائی جانے والی مسافر ٹرینوں میں سے میانوالی ایکسپریس، راولپنڈی ایکسپریس، فیصل آباد ایکسپریس، موہنجوداڑو ایکسپریس، روہی ایکسپریس، حیدرآباد اور دھابیجی ایکسپریس ہے ۔

وزارت ریلوے نے دس ٹرینیوں کا ہدف پورا کرنے کے لیے جلد بازی میں رحمان بابا ٹرین کا بھی افتتاح 23 نومبر کو کردیا مگر نہ رحمان بابا ٹرین کی کوچز تیار ہیں اور نہ ہی روٹ کا تعین کیا جا سکا ہے ۔ اس کے ساتھ فیصل آبادسے لاہورجانے والے نئی ٹرین فیصل آبادایکسپریس کا بھی دوبارافتتاح کیاگیا 23نومبر کواس ٹرین کوملتان تک توسیع دی گئی اور وزارت کے طرف کہاگیاکہ یہ نئی ٹرین ہے، اس طرح دھابیجی ایکسپریس کے روٹ میں بھی میرپورخاص تک توسیع کی گئی اور اس کو بھی نئی ٹرین ظاہرکی گئی ۔وزیراعظم عمران خان نے 7ٹرینوں میں سے 4 ٹرینیوں اور دوٹرینوں میں توسیع کاافتتاح کیاہے چارٹرینوں میں میانوالی ،راولپنڈی ،حیدآباد ایکسپریس اور رحمان باباہے جبکہ دوٹرینوں کی توسیع کابھی افتتاح کیاجن میں فیصل آباد ایکسپریس، دھابیجی ایکسپریس شامل ہیں ۔

دھابیجی ایکسپریس کا افتتاح صدرمملکت عارف علوی نے 31 اکتوبر کو کیا تھا اور اس کا روٹ کراچی سے میرپورخاص تک بڑھانے کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے 23 نومبر کو کیا ۔ اسی طرح فیصل آباد ایکسپریس جس کا افتتاح وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے خود یکم اکتوبر کو کیا تھا ۔ وزیر ریلوے کا کہناتھاکہ اصل آمدن کا ذریعہ مال گاڑیاں ہیں مگر اس حوالے سے وزارت ریلوے کوکوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔مال گاڑیوں کی تعداد کو بڑھنے کے حوالے سے ریلوے نے ایک کمپنی کے ساتھ کوئلے کی ترسیل کامعاہدہ کیاہے یہ معاہدہ یکم اکتوبر کو لاہور میں کیا گیا ۔

ابھی اوسط دس مال بردار رٹرینیں چل رہی ہیں جبکہ شیخ رشید احمدنے یہ تعداد پندرہ کرنے کااعلان کیاتھا ۔ مگردوسرے ہدف مال بردارگاڑیوں کی تعدادمیں اضافے کے حوالے سے ریلوے کوکوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور تعداداب بھی اوسط آٹھ سے دس ہے ۔ اس کے ساتھ تیسرے ہدف ٹرینوں میں وائی فائی اور چوتھا ہدف ٹرینوں میں ٹریکنگ پر بھی عمل نہ ہوسکا۔ڈائریکٹرپبلک ریلیشن قرةالعین نے اس نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 100 دن کے اندر 10 مسافر ریل گاڑیاں چلانے کاہدف مکمل کرلیا ہے ۔ فیصل آباد سے چلائی جانے والی نئی ریل گاڑی کا روٹ لاہور سے بڑھاکر ملتان تک کردیاہے اسی طرح دھابیجی ایکسپریس کاروٹ بھی میرپورخاص تک بڑھادیاہے اس طرح 10 گاڑیوں کاہدف پورا ہوگیا۔ 2مال گاڑیاں مزید شروع کی جائیں گی جن میں سے ایک کا افتتاح 25دسمبر اور دوسری کاافتتاح جنوری 2019 کے اختتام پر کیاجائے گا ٹرینوں میں وائی فائی کی سروس پر کام جاری ہے دسمبر تک وائی فائی پروجیکٹ شروع ہو جائے گا جبکہ ریل گاڑیوںمیں ٹریکنگ کے حوالے سے کام ہو رہا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 100 روزہ ایجنڈے کے حوالے سے 29 نومبر کو باقاعدہ اعلان کرنا ہے کہ اس پر کس حد تک عمل ہو چکا ہے ۔

سابق وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہا تھا کہ مسافر ٹرینیوں سے ریلوے کے خسارے میں اضافہ ہوگا ۔ میانوالی اور راولپنڈی ایکسپریس دونوں ٹرینیں ریلوے کے خسارے میں سالانہ 20 کروڑ اضافہ کریں گی ۔ ریلوے کاسالانہ خسارہ40 سے 42 ارب روپے ہے ۔ ریلوے کاخسارہ مسافر ٹرینوں سے نہیں مال گاڑیاں چلا کر ختم کیا جا سکتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے