بولتا ہوں تو شائع/نشر نہیں ہوتا

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے اندر رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کی ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری یہ گفتگو ٹی وی چینلز نشر اور اخبارات شائع نہیں کر سکیں گے ۔

نواز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی کسی ایک شعبے تک محدود نہ تھی بلکہ اس وقت پاکستان نے ہر شعبے، ہر میدان میں ترقی کی، ہم نے ملک کو اندھیروں سے نکالا، فارن ایکسچینج کو بڑھایا ۔ نواز شریف نے رپورٹرز کو بتایا کہ دنیا نے ہماری اکانومی کے بارے میں مثبت بات کی ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں ہماری حکومت کی کارگردگی شامل تھی، ہم نے پاکستان کی بہت بڑی خدمت کی ہے، چائینہ کے تعاون سے جے ایف سیون ٹین کو ہم نے بنایا، چائینہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی معاہدے کیے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔

نواز شریف نے کہا کہ ہمارے حکومت میں لوگوں کیلئے دال، چنا اور چاول سب کچھ سستا تھا، افسوس اس بات کا یے ہمارے کاموں کے نتیجے میں ہمیں جیل بھیجا گیا، پھر بھی آپ لوگ بولتے ہو میں کچھ نہیں بولتا، این آر او کا تو سوچ بھی نہیں سکتے ۔ نواز شریف نے کہا کہ این آر او لینا ہوتا تو لندن سے پاکستان نہ آتے ۔

نواز شریف نے نیب سے علیمہ خان کی جائیداد کی چھان بین کا مطالبہ کیا اور کہا کہ دبئی میں اربوں روپے کی جائیداد کیسے بنائی گئی کیا یہ این آر او نہیں ہے، یہ کس کے پیسے سے جائیداد بنائی گئی، علیمہ خان کے زرائع آمدن نہیں، اربوں کی جائیداد کیسی خرید لی، علیمہ خان شوکت خانم بورڈ کی ممبر بھی ہیں، قوم جاننا چاہتی ہے یہ پیسہ کہاں سے آیا کس نے دیا، علیمہ خان کی جائیداد کا منی ٹریل کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب ن لیگ والوں کے جائیداد کی چھان بین کرتی رہتی ہے، علیمہ خان کے جائیداد کی چھان بین بھی کرے، میں نے گالم گلوچ اور الزامات کی سیاست کبھی نہیں کی لیکن مجبوراً پوچھ رہا ہوں علیمہ خان کی دبئی پراپرٹی کیسے بنائی گئی ۔

نواز شریف نے کہا کہ ملک میں موٹرویز کے جال بچھائے، سیالکوٹ سے لاہور موٹروے کا اب کیا حال ہے نہیں جانتا، ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نکالا، پارٹی رہنمائوں نے 6 ماہ، سال ،دو سال میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کئے میں نے نہیں، دعوی کیا تھا اپنی حکومتی مدت میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کروں گا اور کر دکھایا ۔ نواز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت مضبوط کی، ایمرجنگ مارکیٹ میں آئے، ایف ٹی ایف بلیک سے گرے اور پر وائٹ لائے، ہمارے دور میں آٹا، گھی دال اور کھاد سب سستا تھا، کسان خوشحال تھا، اب حالات سب کے سامنے ہیں، ایک کرب میں مبتلا ہوں نہ چاہتے ہوئے بھی آج ایک لمبے عرصے بعد سیاسی بیان دے رہا ہوں ۔

نواز شریف نے کہا کہ پھر کہتے ہیں کہ میں بول نہیں رہا ، شدید کرب میں مبتلا ہوں ,نواز شریف نے کہا کہ ملک کی خدمت کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، خدمت کا یہ انعام دیا گیا؟ نواز، شہباز اور مریم سب جیلوں میں ہیں ۔ نواز شریف نے کہا کہ میں جو بولوں گا آپ نہ نشر کریں گے نہ چھاپیں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے