رونقاں لگ گیاں نے

حسب معمول صبح ساڑھے نو بجے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک کا رخ کیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ دیگر دو ججوں کے ساتھ آئے اور مقدمات کی سماعت کا آغاز کیا ۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی تو سب سے بڑی عدالت کے کشادہ کمرے میں تین ججوں کے علاوہ اسٹاف کے دو افراد، تین عدالتی ہرکارے، تین پولیس اہلکار، دس وکیل، دو ان کے منشی، تین سائلین اور ایک یہ نمائندہ بیٹھا ہوا تھا ۔

مقدمات کے نمبر پکارے جاتے رہے اور جسٹس آصف کھوسہ سوالات اٹھاتے رہے ۔ پہلے کیس میں وکیل نے بحث کی تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اس بارے میں عدالتی فیصلے موجود ہیں، آپ نے پڑھ رکھے ہوں گے کیونکہ آپ وہ وکیل ہیں جو ریسرچ کر کے آتے ہیں اس لئے آپ کی طرف سے آرڈر میں لکھوا دیتے ہیں ۔

وکیل ابراہیم ستی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ سر کیس لا کے مطابق آرڈر لکھوا دیں میرے پر نہ ڈالیں ورنہ موکل مجھ سے ناراض ہوں گے ۔

دوسرا مقدمہ پولیس اہلکار کے قتل کا تھا ۔ وکیل کی بحث سے قبل ہی جسٹس آصف کھوسہ نے اس کے سامنے فائل سے دس پندرہ نکات پڑھ کر سامنے رکھے تو جواب نہ بن پایا ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے جائے وقوعہ کے پولیس نقشے پر بھی سوال کیا اور گواہوں کے بیانات اور میڈیکل/پوسٹمارٹم رپورٹ سے اس کے تضادات بھی سامنے لائے ۔

وکیل نے کہا کہ وقوعہ سب کے سامنے ہوا، دن کا وقت تھا، گنجان آباد علاقہ ہے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہر کیس میں یہی المیہ ہے کہ سب کے سامنے واقعہ ہوتا مگر سچی گواہی نہیں آتی، سچی شہادت دیں گے تو عدالت ملزمان کو چھوڑے گی نہیں مگر جھوٹے گواہ پیش کریں گے تو عدالت سزا نہیں دے سکے گی، اگر گواہ جھوٹ بولیں گے تو اصل ملزم بھی بچ جائے گا، جھوٹی شہادت پر انصاف مانگیں گے تو انصاف کیسے ہوگا ۔

ملزمان کے وکیل نے کہا کہ مقتول اہلکار سرکاری ڈیوٹی پر تھا مگر 35 کلومیٹر دور قتل ہوا، یہ وہاں کیا کر رہا تھا؟ جسٹس کھوسہ نے مقتول پولیس اہلکار کے بارے میں کہا کہ اگر یہ اپنی ڈیوٹی پر ہوتا تو بچ جاتا، فوجداری قانون میں ڈیڑھ سو سال سے یہ چیزیں آ رہی ہیں، یہ مسلمہ ہیں، ان کے جواب فوجداری مقدمات میں دینا ہوتے ہیں ۔

بعد ازاں عدالت نے عمر قید کے ملزم بشیر احمد کو آٹھ سال بعد قتل کے الزام سے شک کی بنیاد پر بری کر کے اس کی رہائی کو حکم دیا ۔ اس پر الزام تھا کہ تھانہ کامونکی گجرانوالہ میں تیرہ فروری 2010 کو پولیس اہلکار عامر شہزاد کو گولی مار کر قتل کیا تھا ۔

اگلے مقدمے میں اپیل کرنے والے کے وکیل سے جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھا کہ 120 دن تاخیر سے دائر اپیل سنی نہیں جا سکتی اور اس میں وجہ لکھی ہوئی ہے کہ سائل کو اس کے وکیل نے گمراہ کر کے تاخیر کی ۔ وکیل نے اثبات میں جواب دیا تو جسٹس کھوسہ نے کہا کہ انگریز کے ملک میں اس پر عدالت کہتی ہے کہ ‘گو اینڈ سو سے کونسل’ (جاؤ اپنے وکیل پر مقدمہ کرو) ۔ اگر ہمارے ملک میں ہم نے کسی سائل سے یہ کہا تو غدر مچ جائے گا ۔

اپیل خارج ہوئی اور اگلے آدھ گھنٹے میں بنچ نے دیگر مقدمات بھی نمٹا دیے ۔

پھر ساڑھے گیارہ بج گئے اور چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت دو ہفتوں بعد لگنے کا ٹائم آیا ۔ جب رپورٹرز، وکیلوں، سائلین اور پولیس حکام کا ریلہ کمرہ عدالت ایک کی جانب بڑھنے لگا تو ایک سیکورٹی کے فرائض پر مامور ایک پولیس اہلکار نے ہمیں دیکھ کر کہا کہ ‘رونقاں لگ گیاں نے’ ۔ (رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں) ۔

اسی ایک جملے میں وہ سب سمٹ جاتا ہے جو اس عدالت سے رپورٹ ہوتا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس کے بعد بڑھتی آبادی کا ازخود نوٹس، اعظم سواتی کیس اور سرکاری اشتہارات میں حکومتی عہدیداروں کی تصاویر کے مقدمات سنے ۔

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

متعلقہ مضامین