مقدمے کا سر پیر نہیں، نواز شریف

بیٹے کے پیسوں کا باپ مالک کیسے بن گیا؟؟نوازشریف نے احتساب عدالت میں سوال اٹھا دیا۔؟؟ بولے نیب سےپوچھا جائے مقدمے کا سر پیر ہے یا نہیں؟؟فلیگ شپ ریفرنس میں مزید 78 سوال سابق وزیراعظم کے حوالے کر دیے گئے ۔ بیان ریکارڈ کرانے کےلیے 3 دسمبر تک مہلت مل گئی ۔ نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ نواز شریف نے مریم نواز کو 800ملین روپے منتقل کئے، سوموار کو بھی نیب کی جانب سے حتمی دلائل جاری رہیں گے ۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سماعت کی۔سابق وزیراعظم نوازشریف پیش ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کیس یہ ہے کہ اثاثے کیسے بنے؟؟العزیزیہ اسٹیل ملز کا کام پرانی مشینری سے شروع کرنے اور دادا سے 54 لاکھ ڈالر لینے کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں۔ملزمان کے پاس 1970 کی دادا کے زمانے کی دستاویزات تو ہیں۔اپنے زمانے کی نہیں۔سپریم کورٹ میں جمع ساری دستاویزات بھی تفتیش میں جعلی نکلیں۔اب باپ بیٹے پیش کردہ دستاویزات سے خود کو الگ نہیں کرسکتے۔جج نے استغاثہ سے ساری تفصیل تحریری طور پر طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب پراسیکیوٹر تو نوازشریف کو باہر سے آنے والے پیسے کی بات کررہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہاں سے پیسہ باہر کیسے گیا؟وکیل استغاثہ کے دلائل کے دوران نوازشریف نے 2 مرتبہ روسٹرم پر آکر وضاحت دینا چاہی۔۔بولے دنيا ميں بے شمارلوگوں کے بيٹے کام کرتے ہيں۔ہر بیٹا اپنے باپ کو پیسے بھیجتا ہے اور یہ اس کےلیے اعزاز ہے۔کیا بیٹے کے پیسے بھیجنے پر وہ مالک بن گئے؟ نیب کے پاس ثبوت ہوتا تو ضرور دیتے، واثق ملک نے نواز شریف کی بیٹی اسما نواز کا ذکر کیا جس پر جج ارشد ملک نے استفسار کیا کہ مس اسما نواز کون ہے، یہ بھی ان کی بیٹی ہے ؟پراسکیوٹر نے بتایا کہ اسما نواز نوازشریف کی بیٹی اور اسحاق ڈار صاحب کی بہو ہے، جج نے استفسار کیا کہ میں سمجھ رہا تھا کہ کوئی رشتہ دار ہے،اس کے نام پر کچھ نہیں؟ نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ اسما علی ڈار کے نام پر کچھ نہیں سامنے آیا، نوازشریف نے ایچ ایم ای سے آنے والی رقم میں سے 800ملین مریم نواز کو تحفے میں دیا ،جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ بیٹی کو دینا کوئی جرم تو نہیں ،800کروڑ دے دیا تو کیا احسان کردیا، واثق ملک بولے کہ ہم نہیں کہتے کہ بیٹی کو پیسے دینا جرم ہے، ہمارا کیس یہ ہے کہ نوازشریف ایچ ایم ای کے بینفشری ہیں ،

نواز شریف دن 3بجے دوبارہ عدالت پہنچے، عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نوازشریف کو مزید 78 سوالات فراہم کردیئے ، خواجہ حارث نے بیان ریکارڈ کرانے کےلیے 3 دسمبر تک مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے