پیپلزپارٹی ایک نئے موڑ پر

 اعزاز سید / سیاسی افق

بے نظیر بھٹو کی دسمبر ۲۰۰۷ میں شہادت کے بعد سےدسمبراس بار بھی پیپلزپارٹی کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں لایا۔ سابق صدر آصف علی زرداری ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کی بہن فریال تالپور بھی جیل جاتی نظر آرہی ہیں۔ البتہ بلاول بھٹومحفوظ ہیں۔ جعلی اکاونٹس کیس کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنا کام تقریبا نمٹا چکی ہے اب حتمی رپورٹ کی تیاری کا کام جاری ہے جو پانچ دسمبر تک سپریم کورٹ میں جمع کرادی جائے گی ۔

تحقیقاتی ٹیم کی اب تک کی تحقیقات میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں نکلا جس نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کوئی بیان دیا ہو نہ ہی آصف زرداری کا کسی بھی جعلی اکاونٹ سے کوئی براہ راست تعلق نکلا ہے۔ ہاں تحقیقات میں آصف زرداری کے ایک ڈرائیور مشتاق مہر کا جعلی اکاونٹس سے تعلق ضرور نکلا ہے مگر مذکورہ ڈرائیور سال ۲۰۱۵سے برطانیہ جا چکا۔ ظاہر ہے فی الحال وہ فوری طور پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ہتھے چڑھنے والا نہیں۔ فریال تالپور کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے اور یہی وہ بنیادی تعلق نکلا ہے جسے آصف زرداری کے ساتھ جوڑا جارہا ہے اور ثابت کیا جارہا ہے کہ دراصل اس سارے دھندے کے اصل کرتا دھرتا آصف علی زرداری ہی ہیں۔

تحقیقات کے دوران یہ دعوِیِ۱ بھی کیا جارہا ہے کہ دراصل اومنی گروپ کے مالک باپ بیٹا انورمجید اور عبدالغنی مجید دراصل آصف علی زرداری کے فرنٹ مین تھے ۔ اس گروپ کی کل سولہ شوگر ملیں ہیں جو سب کی سب قبضہ میں لے لی گئی ہیںان سے بھی آصف زرداری اور فریال کا تعلق جوڑا جارہا ہے۔ عام طورپر ایک شوگر مل سے اوسطا ۳ ارب روپےسالانہ کمائے جاتے ہیں اسطرح سولہ شوگر ملز کی سالانہ آمدن تقریبا ۴۸ ارب روپے بنتی ہے ۔

ادھر جعلی اکاونٹس کے معاملے پر کوئی ریکوری ابتک سامنے نہیں آئی۔ فالودے والا ہو یا مرا ہوا شخص تمام کے تمام مشکوک اکاونٹس کی تفصیلات اس وقت ہی سامنے آئیں کہ جب اکاونٹس خالی ہوچکے تھے۔ تحقیقات کے دوران بینکنگ نظام کی ایک بڑی خامی یہ سامنے آئی کہ جعلی اکاونٹس اکاونٹس کو پکڑنے  کوئی موثر نظام ہی موجود نہیں ۔

کیس کی تحقیقات کے دوران ایک موقع پرنوجوان بلاول بھٹو زرداری کو بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بلانے کا سوچا گیا لیکن پھر بلاول کو سوالات بھیجنے پر ہی اکتفا کیا گیا کیونکہ تفتیش کاروں کو پتہ تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کا اس سارے کاروبار سے تعلق تھا نہ کوئی واسطہ ہاں البتہ وہ زرداری گروپ آف کمپنیز کے سربراہ ضرور رہے اس لیے ان سے کچھ باتیں سوالنامے کی صورت ہی سہی پوچھنا ضروری تھیں جو پوچھ لی گئیں۔ بلاول نے فاروق نائیک کی لیگل ٹیم کی مدد سے جواب تیار کیا اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جمع کرادیا۔ میری معلومات کے مطابق بلاول نے وہی موقف اختیارکیا جو حقائق پر مبنی تھا۔

یہ بات تو واضع ہے کہ گرفتاریاں مقدر بن چکی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ گرفتاریوں کے بعد کیا ہوگا؟ کیا بیٹا باپ کو تنہا چھوڑ دے گا؟ کیا بیٹا باپ کی رہائی کے لیے کوششیں نہیں کرے گا؟ اور سب سے اہم یہ کہ ملک کی سب سے پرانی اور چاروں صوبوں میں مقبولیت کی حامل جماعت پیپلز پارٹی کا کیا بنے گا ؟ جسے ابتک عملی طور پر آصف علی زرداری ہی چلا رہے ہیں۔

اس ضمن میں  ۲۰۰۹کے  ایک واقعہ کا ذکر ضروری ہے جبجنرل پرویز مشرف کے دست راست اور ان کے دور میں انٹیلی جینس بیورو کے سربراہ بریگیڈئیر رئٹائرڈ اعجاز شاہ نےاعتزاز احسن سے لاہور میں ملاقات کی اور انہیں پیشکش کی کہ بلاول بھٹو کو قومی سطح کا لیڈر بنانے کے لیے ان کے پاس ایک فارمولا ہے۔ چوہدری اعتزازاحسن نے متجسسانہ انداز میں ریٹائرڈ بریگیڈئیر سے پوچھا کہ وہ کیا فارمولا  ہے ؟ جس پراعجازشاہ نے کہا کہ اگر بلاول ایک جلسے میں دو باتیں کہہ دے تو پاکستان کی اکثریت بلاول کےپیچھے آکھڑی ہوگی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ کون سی دو باتیں ہیں جو بلاول کو عوامی تقریر میں کہنا چاہئییں۔ اس پر اعجاز شاہ نے انہیں کہا کہ بلاول تقریر میں اعلان کرے کہ وہ اپنے والد آصف علی زرداری کا احترام کرتا ہے مگر ان کی سیاست سے متفق نہیں ۔ دوئم بلاول کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کردے۔ اس سے سیاست میں ارتعاش پیدا ہوگا ۔

پیپلزپارٹی بلاول کے ہاتھ میں آجائے گی اور وہ ایک دھماکے کے ساتھ قومی سیاست کا ایسا ستارہ بن جائے گا جسکے پیچھے عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر کھڑا ہوگا۔  چوہدری اعتزاز احسن نے ریٹائرڈ مگر گھاگ افسر کی باتیں سنیں اور مسکراتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسا ممکن نہیں۔ شائد ان دنوں اعتزاز احسن اپنی پارٹی قیادت سے فاصلے پر کھڑے تھے اس لیے یہ بات اس وقت پارٹی قیادت سے نہ کہہ سکے۔ وقت گذرااعجازشاہ عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہوگئے اور آجکل ننکانہ سے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے عمران خان کو اپنے مفید مشوروں سے نواز رہے ہیں۔

دراصل بہت سی ایسے افراد ہیں جو چاہتے ہیں کہ بلاول اپنے باپ سے بغاوت کرے ۔ یہ اسی طرح کے لوگ ہیں جو بے نظیر بھٹو کو آصف علی زرداری سے علیحدگی کے مشورے دیا کرتے تھے ۔ بے نظیر آصف زرداری سے الگ تو نہ ہوئیں البتہ  پارٹی اور بچے ان کے حوالے ضرور کرگئیں۔

میرا نہیں خیال کہ والد سے تمام تر مسائل کے باوجود بلاول انہیں تنہا چھوڑیں گے۔  آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد بلاول کھل کر سامنے آئیں گے۔ ممکن ہے کہ وہ والد کی رہائی کے لیے کوئی تحریک نہ چلا سکیں تاہم وہ حکومت کو ٹف ٹائم ضروردیں گے۔ اس سارے معاملے میں ان کی  پارٹی ہی نہیں بلکہ  عملی سیاست سے دور ان کی دونوں بہنیں بختاور اور آصفہ بھی ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی نظر آئیں گی ۔

عام انتخابات کے بعد سے ابتک پارلیمنٹ ہاوس میں اگر کسی ایک رہنما نے موثر اور مثبت کردار ادا کیا ہے وہ عمران خان ، شہبازشریف یا آصف علی زرداری نہیں وہ بلاول بھٹو زرداری ہے۔ بلاول خارجہ پالیسی ،  لاپتہ افراد، آزادی صحافت، معیشت وغیرہ پر کھل کر اپنا موقف بیان کرچکے ہیں۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری اگر ایک طرف پیپلزپارٹی کے لیے بری خبر ہوگی تو دوسری طرف یہ نوجوان بلاول کے لیے پارٹی کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے آپ کو منوانے کا موقع بھی ہوگا۔ بلاول نے والد کے آدرشوں کو اپنانا ہے یا اپنے نانا ذوالفقارعلی بھٹو اور والدہ بے نظیر بھٹو کے نظریات کو آگے لے جانا ہے ، فیصلہ اس نے نتائج دیکھ کرخود کرنا ہے ۔

ٹھیک اکیاون سال پہلے ۳۰ نومبراور یکم دسمبر کے دو روزہ کنونشن میں ذوالفقارعلی بھٹو نے پیپلزپارٹی قائم کی تھی اور آج ٹھیک پچاس سال بعد دسمبر میں ہی پیپلزپارٹی ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر آکھڑی ہوئی ہے جہاں صرف پیپلزپارٹِی ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی حلقے بھی بلاول بھٹو کو ایک موثر قومی رہنما کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے