شاہین ائر لائن کے مالکان بھاگ گئے

سپریم کورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملازمین کو تنخواہیں دیے بغیر شاہین ائر لائن کے مالکان بیرون ملک بھاگ گئے ہیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ کو بتایا گیا کہ نوٹس کی تعمیل نہیں ہوئی اور شاہین ائر لائن کی جانب سے کوئی بھی شخص پیش نہیں ہو رہا ۔ عدالت کو سول ایوی ایشن کے افسران نے بتایا کہ ائر لائن کے پاس پاکستان میں کوئی اثاثے نہیں، جہاز بے کار ہو چکے ہیں جو لیز پر لئے تھے وہ واپس لے جائے جا چکے ہیں ۔ کراچی میں ایک ہی عمارت ہے وہ بھی بنک کے پاس گروی ہے ۔

چیف جسٹس نے سول ایوی ایشن کے افسران پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سب ملی بھگت سے کیا گیا، اتنے عرصے سے معاملہ چل رہا تھا اب ان ملازمین کو تنخواہیں کون دے گا ۔ سول ایوی ایشن کے افسران نے بتایا کہ شاہین ائر لے ذمے ایوی ایشن کے بھی ایک ارب چالیس کروڑ واجب الادا ہیں ۔ اس دوران ان کو حج آپریشن میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی اور شاہین ائر نے وزارت مذہبی امور سے ایک ارب کرائے کی مد میں بھی لئے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سارا کچھ مل ملا کر ہی ہو رہا ہے، کسی نے حج آپریشن کا بہانہ بنا کر پیسے دے دیے، ان کے ذمے یہ رقم ایک دن میں جمع نہیں ہوئی بلکہ آپ رعایت دیتے رہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مالکان کاشف صہبائی اور احسان صہبائی کہاں ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ پاکستان میں نہیں ہیں ۔

شاہین ائر کے ایک سابق پائلٹ نے بتایا کہ قائم مقام چیئرمین جاوید صہبائی پاکستان میں ہی ہیں تاہم ان کا پتہ معلوم نہیں ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ان کے پتہ کیا جائے ہم کل عدالت میں لے آئیں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے