نواز شریف اور چیف جسٹس میں مکالمہ

پاکپتن مزار کی اوقاف پراپرٹی کے مقدمے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف کو میاں صاحب کہہ کر پکارا جبکہ نواز شریف نے جواب میں ان کو سر کہا ۔

بنچ کے دوسرے جج فیصل عرب پوری سماعت کے دوران خاموش رہے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے مخاطب کرتے ہوئے مسٹر نواز شریف کہا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب، آپ بتائیں تفتیش تو ہونی ہے کیسے کریں؟ پھر کہا کہ ٹھیک ہے جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں، آپ اپنے وکلا سے مشاورت کر لیں، کیونکہ جو ہمارا تین بار وزیراعظم اور وزیر اعلی و وزیر خزانہ رہا ہو اس کو کلیئر کروں ۔

 

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق نواز شریف نے خوشگوار لہجے میں جواب دیا کہ اگر بنانا ہے تو جے آئی ٹی کے علاوہ کچھ بنا دیں، جے آئی ٹی کا تجربہ کچھ اچھا نہیں ہے ۔

عدالت میں قہقہے گونج اٹھے ۔ نواز شریف موقف اختیار کیا کہ زمین نوٹی فیکیشن کے حوالے سے سابق سیکرٹری نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نوٹی فیکیشن جاری کیا، نچلی سطح پر کوئی گڑ بڑ لگتی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب آپ جیسے محترم لیڈر بھی منصب ہیں، میاں صاحب آپ خود منصف بنیں، چیف جسٹس نے نواز شریف سے مکالمے میں کہا کہ میاں صاحب ہم آپ کو منصف بنا دیتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ معاملے کی تحقیق کی ضرورت ہے، نواز شریف شریف صاحب بتائیں تحقیق کیلئے کون سا طریقہ کار اختیار کیا جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کچھ دیر دیگر وکیلوں کو سن کر کہا کہ میاں صاحب جے آئی ٹی سے گھبرا رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے نواز شریف کی جانب سے پیش ہونے والے بیرسٹر ظفر اللہ کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ پریکٹسنگ وکیل نہیں ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ میرا تو خیال تھا جے آئی ٹی بنائیں، میاں صاحب کو جے آئی ٹی اچھی نہیں لگتی، میاں نواز شریف کہتے ہیں جے آئی ٹی نہ بنائیں، میاں صاحب بتائیں کس ادارے سے تحقیق کرائیں، تحقیق کیلئے ایک ادارہ پولیس ہے، دوسرا انسداد بدعنوانی ہے، تحقیق کا تیسرا ادارہ ایف آئی اے ہے، تحقیق کا چوتھا ادارہ نیب ہے، تحقیق کا پانچواں ادارہ جے آئی ٹی ہے، میاں صاحب جے آئی ٹی سے تحقیق نہیں کرانا چاہتے ۔

عدالت نے نواز شریف کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بتائیں تحقیقات کس فورم سے کرائیں ۔ سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

چیف جسٹس نے آخر میں کہا کہ میاں صاحب آن آ لائیٹر نوٹ ایک بات کہنا چاہتا ہوں، آپ کے ساتھ 26 لوگوں کی ٹیم آئی ہے، میاں صاحب اتنی بڑی بھاری ٹیم ساتھ لانے کی ضرورت تھی؟

نواز شریف نے جواب دیا کہ میں نے تو زیادہ لوگوں کو عدالت میں آنے سے منع کیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے کل بتایا گیا 26 لوگوں کی فہرست آئی ہے جو نواز شریف کیساتھ آئیں گے، اجازت دی جائے، میں نے کہا سب کو اجازت ہے، کدھر ہیں خواجہ آصف صاحب؟ نواز شریف نے جواب دیا کہ ادھر ہی ہیں، میں اپنے ساتھ راجہ ظفر الحق، ایاز صادق اور خواجہ آصف کو لے کر آیا ہوں،میں نے منع کیا تھا اتنے لوگ عدالت نہ آئیں ۔

میں عدالت کا شکریہ ادا کرتا ہوں،نواز شریف

آپ کا بہت بہت شکریہ، نواز شریف کا چیف جسٹس سے مکالمہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button