پرویز الہی بھی چیف جسٹس کے سامنے

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن نظر ثانی کیس میں سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہی کو وکیل کر کے جواب دینے کیلئے مہلت دے دی ہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لاجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔

چیف جسٹس نے ریونیو ریکارڈ کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا لٹھہ وغیرہ منگوا لیا ہے؟

جی منگوا لیا ہے، اعتزاز احسن

چیف جسٹس نے کہا کہ کہاں ہے وہ ریکارڈ، ہمارے اسٹاف کو دیں، اتنی دیر میں چوہدری پرویز الٰہی صاحب کو بھی بتا دیں ان کو ذحمت کیوں دی ہے، چوہدری صاحب آپ آجائیں،

چیف جسٹس نے پرویز الٰہی سے کہا کہ آپ نے زمین حد بندی کیلئے کیسے حکم دے یا؟ آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا، اس طرح جنگلات کی زمین بحریہ کو دیدی گئی ۔ سابق وزیراعلی نے جواب دیا کہ مجھے کل شام کو پتہ چلا ہے یہ 13 سال پرانہ واقع ہے میرے پاس ریکارڈ بھی نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 2210 ایکڑ پراپرٹی ملک ریاض کو ٹرانسفر ہوئی ہے، ملک ریاض کہتے ہیں کہ مجھے 1741 ایکڑ اراضی دی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بعد ازاں ملک ریاض نے آپ کی خاندان کے ساتھ اراضی کا تبادلہ کیا، یہ اراضی چوہدری شجاعت کی اہلیہ، چوہدری سالک اور اپنے ملازم چوہدری منیر کو منتقل کی گئی، آپ کو یہ جواب دینا پڑے گا ۔

پرویز الہی نے کہا کہ میں ضرور جواب دونگا میرے پاس فی الوقت حقائق موجود نہیں، ریکارڈ دیکھوں گا، تیرہ برس پرانا معاملہ ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حقائق منگوا لیں گے، ہم نیب، ایف آئی اے یا پھر جے آئی ٹی بنا کر تحقیقات کرا لیتے ہیں، آپ کو حد بندی کا اختیار نہیں تھا، حکومت پنجاب نے بھی کہا کہ اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس آصف کھوسہ نے چیف جسٹس کی توجہ فیصلے کی جانب دلائی تو چیف جسٹس نے پرویز الہی سے کہا کہ آپ کے بارے میں عدالتی فیصلہ ہے، آپ کے خلاف فائنڈنگ آئی ہے، جج صاحب نگ میری توجہ دلائی ہے ۔ اس کے بعد فیصلہ پڑھا جس میں لکھا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین پر قبضہ دلانے کے ذمہ داروں کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کیا جائے اور عمل درآمد بنچ فیصلے پر عمل کو یقینی بنائے ۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ میں پانچ سال وزیر اعلیٰ رہا اور میرے بعد دس سال میرے مخالفوں کی حکومت رہی، انہوں نے میری ہر فائل کو کھنگالا مگر کوئی کیس نہیں ڈھونڈ سکے، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ہم تحقیقات کروا لیتے ہیں یہ آپ کے لئے بہتر ہے، آپ کے خلاف عدالتی فیصلہ اچکا ہے اب عملدرآمد لازمی ہے، پرویز الہی نے کہا کہ مجھے اجازت دیں میں وکیل کر لوں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جی، وکیل کر لیں مگر زیادہ وقت نہ لیں ۔

اس کے بعد بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل کا آغاز کیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے