قادری اور ججوں کی باتیں

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

عدالت کے اندر عوامی تحریک اور طاہر القادری کے ماننے والے وکیلوں اور سپریم کورٹ کی راہداریوں میں قادری کے پیروکاروں کا جمگٹھا تھا، دھکم پیل ہو رہی تھی ۔

سوا بارہ بجے پانج ججز کمرہ عدالت میں آئے ۔ چیف جسٹس نے بیٹھے ہی کہا کہ قادری صاحب، آپ نے خود کرنا ہے یہ کیس؟ اس میں قانونی سوالات ہیں، گزشتہ سماعت پر بھی آپ سے کہا تھا کہ وکلا کو جواب دینا ہوں گے ۔

طاہر القادری نے کہا کہ یہ بسمہ کی والدہ کے قتل کے خلاف ان کی درخواست ہے ۔ میں کوشش کروں گا عدالت کے سامنے صورتحال رکھوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ مقدمے کے حقائق بیان کر دیں پھر قانونی سوالات کے جواب کیلئے آپ کے وکیل آ جائیں گے ۔

اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس طاہر القادری کے پیچھے کھڑی وکیلوں کی جنج سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ آپ سب لوگ تشریف رکھیں، وکیلوں کی بھاربا کمیٹی بیٹھ جائے، ہمارے لئے مقدمہ سیاسی نہیں ہوتا، مقدمہ مقدمہ ہوتا ہے ۔

جسٹس آصف کھوسہ کے سوال پر قادری نے بتایا کہ سترہ جون دو ہزار چودہ کو وقوعہ ہوا، دس افراد جاں بحق ہوئے، سو سے زائد افراد زخمی ہوئے، پولیس کے مطابق 71 زخمی ہوئے، اسپتال کے مطابق 66 زخمی ہوئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا مقدمہ پولیس نے درج کیا، دوسرا ہماری درخواست پر دو ماہ بارہ دن بعد درج کیا گیا، پھر ایک پرائیوٰیٹ کمپلینٹ ہماری طرف سے درج کرائی گئی ۔

طاہر القادری بولتے رہے اور ججز سنتے رہے ۔ انہوں نے تمام تفصیلات بتائیں اور ایک موقع پر روہانسے بھی ہوئے ۔ قادری نے ججوں اور سپریم کورٹ کی تعریف بھی کی ۔ شریفوں پر الزام بھی لگائے اور سابق حکومت کے خلاف بھی بولتے رہے ۔ انہوں نے مقدمہ نہ سنے جانے کی بھی شکایت کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے چیمبر میں اسی بسمہ کی درخواست پر حکم دیا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی، اس جج سے دیگر تمام مقدمات بھی واپس لے لئے تھے، پھر کیا ہوا؟ خود آپ نے درخواست دی کہ مقدمہ ہفتے میں صرف دو دن سنا جائے ۔

طاہر القادری نے کہا کہ ہمارے وکیل کیس چھوڑ کر چلے گئے، وہ روزانہ پیش نہیں ہو سکتے  تھے، انہوں نے دوسرے کیس بھی کرنے ہوتے ہیں، ہمیں وکیلوں کی نئی ٹیم تشکیل دینا پڑی ۔ ہم یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ تفتیش درست نہیں ہو سکی اس لئے از سر نو تفتیش کرانے کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے ۔ پولیس اور پرانی جے آئی ٹی نے کسی ایک بھی زخمی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے پچھلی جے آئی ٹی پر کوئی اعتراض کیا، اس وقت کا کوئی اعتراض ریکارڈ پر ہے؟ طاہر القادری نے کہا کہ ہوم سیکرٹری نے ہمارے مقدمے کی درخواست پر جے آئی ٹی تشکیل دی ۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ افسران دوسرے صوبوں سے ہوں ۔

ملزمان کی جانب سے وکیل نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلی ڈاکٹر مالک نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کیلئے ان کی درخواست پر کارروائی کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر مالک اتحادی تھے مگر پنجاب کے ماتحت نہیں تھے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کے لوگ جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور نہ جے آئی ٹی سے تعاون کیا، کیا یہ درست نہیں؟ قادری نے جواب دیا کہ ہمارے لوگوں کے خلاف مقدمے درج کئے گئے، ان کو خوفزدہ کیا گیا، ہمارے لوگ اپنے گھروں میں نہ رہ سکتے تھے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس صورتحال میں ہوا جب آپ نے دھرنا دیا ۔ سپریم کورٹ کے دروازے ہمیشہ سے کھلے ہیں، مگر آپ دھرنا دے کر ان لوگوں سے رابطے کر کے توقع کرتے ہیں جنہوں نے یہ مسئلہ حل نہیں کر سکنا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے پورے ملک، خاص طور پر اس شہر بشمول اس عدالت کے سب کو معطل کر دیا تھا، ساڑھے چار سال پہلے تشریف لاتے، آپ تو جا رہے تھے ان لوگوں کے پاس جن کا تعلق نہیں تھا کہ وہ حل کر سکتے ۔ عدلیہ پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ ہے ۔

قادری نے کہا کہ ہم نے دو ماہ بعد دھرنا دیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس ملک کے بزرگوں میں سے ہیں، آپ کے دھرنے والوں نے اس عدالت کی جو تکریم کی وہ بھی آپ کے علم میں ہے، یہاں پھٹی ہوئی قمیضیں لٹکائی گئیں ۔ طاہرالقادری نے کہا کہ ایسا اقدام سو بار قابل مذمت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں صرف آپ کو یاد دلا رہا ہوں ۔

طاہرالقادری نے کہا کہ ہمارے ملزم وزیراعظم، وزیراعلی اور وزیر قانون تھے ان کی بنائی جے آئی ٹی کو کیسے مان لیتے؟ چیف جسٹس نے پوچھا کہ رانا ثنا کا بیان جے آئی ٹی نے قلمبند کیا یا نہیں؟ طاہرالقادری نے جواب دیا کہ باقر نجفی کمیشن نے وزیراعلی شہباز اور وزیر قانون رانا ثنا کا بیان ریکارڈ کیا ۔

اس کے بعد طاہرالقادری بولتے رہے اور ججز سنتے رہے تو ایک موقع پر جسٹس آصف کھوسہ نے مداخلت کی اور کہا کہ آپ کی گفتگو اتنی مسحور کن ہوتی ہے کہ لوگ ساری ساری رات اور سارا سارا دن سنتے رہتے ہیں، ہم بھی سننا چاہیں گے مگر عدالت کا وقت کم ہوتا ہے ۔

طاہرالقادری نے پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے پیچھے سازش کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ یہ ساری باتیں آپ اس جے آئی ٹی کو بتائیں گے اگر بن گئی اور عدالت میں موقف اختیار کریں گے، ہم پہلے یہ دیکھیں گے کہ قانون کے مطابق جے آئی ٹی بن بھی سکتی ہے یا نہیں۔

اس کے بعد عوامی تحریک کے وکیل مظہر سدھو نے روسٹرم سنبھالا اور کہا کہ ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری نے اہم بحث کر لی ہے اور اب میں کچھ آگے کی بات کروں گا ۔ جسٹس کھوسہ نے وکیل سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے قانونی بحث نہیں کی بلکہ مقدمے کے حقائق بیان کئے ہیں ۔

جسٹس کھوسہ نے انسداد دہشت گردی کے قانون کی شق پڑھتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل یا تفتیشی کا تقرر حکومت ہی کر سکتی ہے، اب یہ سوال بھی آئے گا کہ عدالت بھی کر سکتی ہے یا نہیں؟ حکومت تو اس کیس میں پہلے ہی جے آئی ٹی تشکیل دے چکی جس کی رپورٹ بھی آچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح فوجداری قانون کی شق 202 کے تحت ٹرائل کورٹ ضروری سمجھے تو تفتیش یا انکوائری کیلئے کہہ سکتی ہے، قانون نے یہ اختیار ریاست کو دیا ہے ۔

اس کے بعد چیف جسٹس فورا جسٹس کھوسہ کی آدھی بات میں بولے کہ حکومت اگر یہ اختیارات صرف دکھاوے کیلئے استعمال کرے تو کیا اس کے بعد عدالت بے اختیار ہو جاتی ہے؟ کیا تب بھی عدالت نہیں کر سکتی جب ریاست خود ملزم ہو یا ریاست پر الزام ہو کہ اس نے جرم کیا تو اس صورت میں عدالت خاموش رہے ۔

جسٹس کھوسہ نے اس بات پر فورا ردعمل دیا اور وکیل کو مخاطب کر کے بولے کہ میں آپ کو اسی طرف لا رہا تھا مگر معزز چیف جسٹس نے پہل کر دی اور میرے منہ سے الفاظ چھین لئے ۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ میری بات میں کوئی نہ بولے جب تک مکمل نہ کر لوں مگر چیف جسٹس بول گئے ہیں ۔

چیف جسٹس نے مسکرا کر کہا کہ اب آپ کی اجازت سے بول رہا ہوں کہ ریاست کہاں ہے؟ ریاست کرے جا کر ۔

جاری ہے ۔

متعلقہ مضامین