پلیز ایک ٹویٹ

اظہر سید
لائے گئے وزیراعظم نے بلند آہنگ اعلان کیا ہے پاکستان کی مسلح افواج تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ہیں ۔اس اعلان پر ایک ٹویٹ کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔فیض آباد دھرنے میں ایک ٹویٹ آئی تھی جس میں تمام قوم کے ناموس رسالت کے تحفظ کے عظم کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا تھا۔اس سے بھی پہلے ڈان لیک نامی ایک رپورٹ مسترد کرنے کی ٹویٹ ہوئی تھی جسکی بھینٹ وفاقی وزیراطلاعات ہی نہیں چڑھے تھے وزیراعظم کی بلی بھی ہوئی تھی یہ اور بات ہے ٹویٹ واپس ہوئی اور وزیراعظم کی فراغت بظاہر پناما کیس میں ہوئی ۔
عام انتخابات میں تحریک انصاف کی عظیم الشان کامیابی پر ایک ٹویٹ "عزت اور ذلت خدا کی طرف سے” اور ایک بیان ووٹ کی طاقت سے دشمن قوتوں کی شکست کا آیا تھا ۔ اب جب پاکستان کا حصص بازار ویران ہو گیا ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کا تماشا بنا ہوا ہے کوئی ٹویٹ نہیں آئی باوجود اس کے وزیراعظم نے اپنی تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کا بوجھ فوج پر ڈال دیا ہے کہ "وہ ہمارے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں” ۔
وزیراعظم کے اعلان کا دوسرا مطلب یہ ہے پاکستان کی مسلح افواج مرغی اور اس کے انڈوں پر مشتمل معاشی منشور کے ساتھ کھڑی ہیں اور اس بات کی بھر پور حمایت کرتی ہے کٹی کو زیادہ اور کٹے کو کم دودھ ملتا ہے۔جو وزیراعظم دھٹائی سے کہتا ہے ڈالر کی قیمتوں میں دو مرتبہ کمی اس کے علم میں لائے بغیر کی گئی ہے اور اعظم سواتی کے متعلق رپورٹ اس کے علم میں نہیں تبدیلی کے اس عمل کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔وزیر خارجہ کہتا ہے وزیراعظم اور آرمی چیف نے جس کرتار پور بارڈر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی وہ ایک گگلی تھی۔
پناما ڈرامہ کا جب آغاز ہوا پاکستانی روپیہ کی قیمت ڈالر کے مقابلہ میں 98 روپیہ تھی ۔بینکوں اور مالیاتی اداروں کے قرضوں کی نجی شعبہ کیلئے قیمت پانچ فیصد سے کم تھی۔پاکستان کا حصص بازار دنیا کی پانچ بہترین مارکیٹوں میں شامل ہو چکا تھا ۔ پاکستانی روپیہ کو جنوبی ایشیا کی سب سے مستحکم کرنسی قرار دیا گیا تھا۔پاکستان پر غیرملکی قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی یعنی معیشت کے 67 فیصد تھا۔براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی سی پیک پر اربوں ڈالر خرچ ہو رہے تھے ۔زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے ۔چاروں صوبوں کے پاس بجٹ سرپلس تھا۔معیشت کی شرح نمو ساڑھے پانچ فیصد سے تجاوز کر چکی تھی ۔افراط زر کی شرح چار فیصد تھی ۔بنگلادیش سے پاکستانی ٹیکسٹائل کی صنعتوں کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔سی پیک کے ثمرات اور متوقع فوائد کیلئے ہر روز غیر ملکی سرمایہ کاروں کے وفود اسلام آباد آ رہے تھے ۔عالمی ریٹنگ ایجنسوں نے پاکستانی معیشت کو بی پلس کر دیا تھا توانائی کے شعبہ میں خود کفالت حاصل کر لی گئی تھی اور پھر کسی ظالم نے جادو کی چھڑی گھمانے شروع کی ۔
کرپشن کے خلاف مہم شروع ہوئی اور تمام پالتو اینکرز برسات کے مینڈکوں کی طرح یک زبان چلانے لگے ۔کوئی پکارنے لگا لندن فلیٹ کی منی ٹریک دو ۔کوئی دور کی کڑوی لایا حکومت نے 35 ارب ڈالر کے اضافی قرضے لے لئے ہیں اور قوم کے غم میں آٹھ آٹھ آنسو رونے لگا۔
جادو کی ایسی چھڑی گھومتی اچانک ایک مولوی پین دی سری والا جن بوتل سے نکل آیا ۔ہر طرف ناموس رسالت کا غلغلہ بلند ہونے لگا۔حلف نامے میں تبدیلی کا وہ طوفان مچا کسی نے کمزور طوطی کی آواز نہیں سنی حلف نامے میں تبدیلی کے معاملہ میں خود تحریک انصاف والے شامل تھے ۔دشمن قوتوں کو شکست دی دی گئی ہے اور تبدیلی آگئی ہے ۔تبدیلی زبردست ہے ۔
جس کے پاس بینکوں میں چار پیسے ہیں وہ ڈالر خریدنے چل پڑا ہے ۔کوئی اپنی بچت کو سونے کے بسکٹ خریدنے میں صرف کر رہا ہے ۔کاروبار ختم ہو رہے ہیں ۔لوگ اپنے بچوں کو مہنگے اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے چل نکلے ہیں اور جو پہلے سے غریب تھے وہ سسک رہے ہیں ۔عالمی ریٹنگ ایجنسوں نے پاکستان کی معاشی ریٹنگ کم کر دی ہے ۔زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں ۔ قرضوں کا بوجھ معیشت کے 90 فیصد سے بڑھ گیا ہے ۔ افراط زر کی شرح 11 فیصد سے بڑھ گئی ہے ۔بینکوں کے قرضوں کی شرح سود دس فیصد سے بڑھ گئی ہے ۔چینیوں نے سی پیک کی سرمایہ کاروں حقیقت میں منجمند کر دی ہے جبکہ دوسری براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی خوفناک حد تک کم ہو چکی ہے۔
ترسیلات زر جو ہر سال بڑھتی ہیں نحوست کے ایسے سائے معیشت پر چھائے ہیں وہ بھی کم ہو رہی ہیں ۔پہلے تین ماہ میں ٹیکسوں کی وصولی میں 130 ارب روپیہ کی کمی آچکی ہے ۔برآمدات جو توانائی کا بحران ختم ہونے سے بڑھنیں تھیں روپیہ کی قدر کم ہونے اور پیداواری لاگت میں اضافہ سے بڑھنے کی بجائے کم ہونا شروع ہو چکی ہیں ۔حقانی نیٹ ورک چینیوں کی ناراضگی کی وجہ سے دہشت گرد قرار پا چکا ہے ۔ٹاسک فورس پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کیلئے گویا تیار بیٹھی ہے ۔سی پیک روٹ کو بھارتی متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دے چکے ہیں اور امریکی حزب المجاہدین اور اس کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں ۔
لائے گئے وزیراعظم تمام بوجھ ادارے پر ڈال رہا ہے کہ وہ ہمارے منشور کے ساتھ ہے اور وہ ہیں کہ کوئی ٹویٹ بھی نہیں کرتے ۔پالتو وزیراعظم مڈٹرم الیکشن کی بات کرتا ہے اور یہاں بھی سب خاموش بیٹھے ہیں آخر کیوں ؟ کم از کم اتنی ٹویٹ تو آنا چاہے مڈ ٹرم الیکشن ہوئے مسلح افواج پہلے کی طرح نگرانی کریں گی یا نہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے