فوج بھی تبدیل ہو چکی ہے، ترجمان

فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے تین مطالبے تھے، فوج کی چیک پوسٹ ہٹانا، لاپتہ افراد اور بارودی سرنگیں صاف کرنا ۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے پختون علاقے میں 469 چیک پوسٹیں قائم کی تھیں، اب کم کر کے 331 ہیں ۔

میجر جنرل آصف غفور اگر ہم یہ سمجھیں گے کہ ایک بھی چیک پوسٹ کی ضرورت نہیں ہے تو نہیں رکھیں گے، ہم نے اپنی طرف بہت بہتری کر لی، اگر یہ یقین ہو جائے کہ افغانستان کے سرحدوں میں سیکورٹی صورتحال بہتر ہو گئی ہے تو ہم دو لاکھ فوجی واپس لا سکتے ہیں ۔ اس کے لئے افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگا رہے ہیں، 6 سو کلومیٹر سے زائد پر باڑ لگ چکی ہے، اگلے سال تک یہ مکمل ہو جائے اس وقت خطرے میں کمی آئے گی ۔

ترجمان نے کہا کہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے ٹیمیں کام کر رہی ہیں، 44 فیصد علاقہ صاف کر لیا ہے، ان سے ہمارے فوجی جوان بھی نقصان اٹھا چکے ہیں، ایک دن تمام سرنگوں کو صاف کر لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے لاپتہ افراد کی سات ہزار، آٹھ ہزار اور نو ہزار کی فہرست دی تھی، 2010 سے اب تک سات ہزار کیسز آئے، ایک بنچ اسلام آباد اور ایک کوئٹہ اور کراچی میں سنتے ہیں ۔

ترجمان نے کہا کہ 4 ہزار سے زائد کیسز حل ہو چکے ہیں، تین ہزار سے زائد عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، دو ہزار کیسز کمیشن کے پاس ہیں، پندرہ سال جنگ لڑی ہے، اس میں بہت سے دہشت گرد مارے بھی گئے، کیسے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ جو لوگ لاپتہ ہیں وہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ ہوں، کیسے ممکن ہے کہ وہ جنگ میں مر نہ گئے ہوں؟ جنگ کے نقصانات کو بھولنا پڑتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ پی ٹی ایم ان مطالبات سے آگے کیسے چلی گئی،ہمیں کہا گیا کہ سخت ہاتھ کیوں نہ رکھا گیا، اس کی دو وجوہات تھیں، یہ ہمارے لوگ ہیں، ابھی تک انہوں نے وائلینس نہیں کی ۔ افواج پاکستان نے ان کے کہنے پر نہیں ان کے کہنے سے بہت پہلے ہی کر چکی ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ ریاست نے ان (پی ٹی ایم) کے ساتھ بھرپور ہمدردی کی مگر ایک مرحلہ وہ آ سکتا ہے کہ وہ اپنی لائن کراس کر سکتے ہیں جہاں ریاست کو اپنا اختیار استعمال کرنا پڑے ۔

ترجمان نے کہا کہ ہم پر تنقید اور سوالات کچھ اور معاملات پر آتے ہیں جن میں ایک آرمی کا بجٹ اور دوسرا ہمارے ویلفیئر پراجیکٹس ہیں ۔ اسی طرح ہمارے احتساب کا معاملہ ہے، ہم ڈسپلن فورس ہیں، یہاں چین آف کمانڈ ہے، اس کے بغیر یہ فوج نہیں چل سکتی ۔ جیسے ہمارا احتساب ہوتا ہے وہ صرف ائرپورٹ سیکورٹی فورس کو دیکھ کر ہی معلوم کی جا سکتی ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ ہم گزرے پاکستان کی فوج نہیں ہیں فوج میں بہت تبدیلی آئی ہے ۔ میں نے اینکرز اور مالکان سے درخواست کی کہ چھ مہینے صرف ملک کی اچھی چیزیں دکھائیں، میڈیا کی بہت پاور ہے ۔ نوجوان نسل اور دماغ کو اس طرف لانا بھی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے ساتھ نرمی برتیں مگر وہ تیزی سے اس حد کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ریاست کو اپنا اختیار استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button