نیلام گھر نہیں کہ بولی لگ گئی، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی شاہراہ دستور سے ملحق غیر قانونی قرار دیے گئے ٹون ٹاورز کی ملکیتی کمپنی کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے لیز کی نئی رقم پر رضامندی ظاہر کرنے کیلئے سی ڈی اے اور کمپنی کو تیرہ دسمبر تک مہلت دی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں میں تین رکنی بنچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف کمپنی بی این پی کی اپیل کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق کمپنی کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز کی سماعت کے بعد سی ڈی اے کے ساتھ اور ڈائریکٹرز نے نئی لیز کی رقم کا فامولا طے کیا ہے، ہم ۱۲ ارب ۳۷ کروڑ دینے کو تیار ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو نئی لیز دے رہے ہیں اس لئے کہا تھا کہ پندرہ ارب روپے ادا کریں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے کہا کہ اتنے پیسے دینا ممکن نہیں ہوگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ علی صاحب، اس میں بڑی گڑ بڑ ہوئی ہے ۔ وکیل نے کہا کہ پندرہ ارب ناممکن ہوگا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم لیز منسوخ کر کے کسی اور کو دے دیں گے، نہیں تو دلائل دیں، بحث کر لیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے تو فیصلے میں یہی لکھنا ہے نا کہ وہ وجوہات جو بعد میں بتائی جائیں گی یہ اپیل خارج کی جاتی ہے یا کچھ تفصیل لکھ کر بتا دیں گے کہ آپ کی لیز سی ڈی اے منسوخ کر چکی ہے اور ہائیکورٹ بھی آپ کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل علی ظفر نے کہا کہ پانچ ارب پہلے ہی دے چکے ہیں اب بارہ ارب ۳۷ کروڑ مزید دینے کا فارمولا بنایا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا منافع اور پلاٹ کی ویلیو بھی تو اب تین سے ضرب کھا چکی ہے، ساری کریم تو پیچھے پڑے ہوئے پلاٹ ہیں آپ کے پاس ۔ تیرہ دسمبر تک وقت دے دیتے ہیں بتا دیں ۔

وکیل نے کمپنی کے مالک سے مشاورت کے بعد کہا کہ پندرہ ارب قابل قبول ہیں مگر اس کو قسطوں میں دینے کا فارمولا بنانا ہوگا اس کی اجازت دی جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نیلام گھر نہیں ہے کہ یہاں بیٹھ کر کہیں گے کہ اتنے کے ساتھ اتنے پر بولی لگ گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے مطابق پندرہ ارب مناسب رقم ہے اور اتنی رقم سی ڈی اے کئی سالوں میں کما نہیں سکتا جو ہم اس کو لے کر دے رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ یہ آپ کی بہتری کیلئے ہے، اپنے ایم ڈی کو بلا کر اجلاس کر لیں ۔ عدالت نے حکم نامہ لکھوانا شروع کیا اور اس دوران وکیل سے پوچھا کہ آپ نے پندرہ ارب دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے تو وکیل نے کہا کہ اس کو اس طرح لکھیں کہ پہلے کے پانچ ارب کے ساتھ ملا کر پندرہ ارب ۔

چیف جسٹس اس پر سخت برہم ہوئے اور وکیل علی ظفر سے کہا کہ آپ نہ مانیں ہمیں کوئی ضرورت نہیں، کل بھی آپ کو واضح کہا تھا کہ پندرہ ارب نئے سرے سے ہوں گے، پرانا لیز معاہدہ ہی غیر قانونی تھا اور منسوخ کیا جا چکا ہے ۔ وکیل نے ناں میں سر ہلایا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کسی کو ٹریپ نہیں کر رہے، اس پر دوبارہ غور کر لیں، یہاں ہم آپ کو پندرہ ارب کا فائدہ دے رہے ہیں ۔

عدالت نے دوبارہ حکم نامہ لکھوایا کہ بی این پی کمپنی اور سی ڈی اے کو تیرہ دسمبر تک مہلت دی جا رہی ہے کہ عدالت کی پیش کش پر غور کر لیں کہ قبول ہے یا نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر قبول نہ ہوا تو ہم آئندہ سماعت پر اس مقدمے کو مکمل کر لیں گے ۔ چیف جسٹس نے کمپنی کے مالک سے کہا کہ ذرا سامنے آئیں، ایک چیز آپ پر واضح کر دوں کہ اگر کوئی آدمی آپ کو کہہ رہا ہے کہ میں آپ کا کام کر دوں گا تو غلط ہے، کسی کے جھانسے میں نہ آنا، اگر کوئی ایسا کہہ رہا ہے تو آ کر بتا دینا، مجھے پتہ چل رہا ہے کہ مارکیٹ میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں ۔

واضح رہے کہ غیر قانونی قرار دی گئی اس عمارت میں عمران خان، ناصر الملک سمیت کئی ریٹائڑد ججوں اور جرنیلوں کے فلیٹس ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے