بائیس منٹ

ارشد وحید چوہدری

گزشتہ کچھ عرصے سے ہر کوئی یہ جاننے کی خواہش رکھتا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دینے والے نواز شریف آخر خاموش کیوں ہیں، لندن سے اپنے والد کے ساتھ آ کر جیل میں قید رہنے والی ان کی بیٹی مریم نواز نے بھی اب لب کیوں سی لئے ہیں ، پہلے تو ہرکسی کو باپ بیٹی کی خاموشی کی وجہ محترمہ کلثوم نواز کی رحلت معلوم ہوتی تھی اس لیے کسی نے کریدنے کی بھی کوشش نہیں کی ، پھر مسلم لیگ ن کی طرف سے کہا گیا کہ میاں نواز شریف سخت صدمے سے دوچار ہیں اس لیے وہ اپنی مرحومہ اہلیہ کے چالیسویں کے بعد سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گے ، وہ وقت بھی گزر گیا پھر بھی نواز شریف نے چپ کاروزہ توڑا اور نہ ہی مریم نواز کا ٹوئٹر ہینڈل ایکٹو ہوا، یوں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں ،کسی نے نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی کو این آر او کا نام دیا تو کسی نے اسے ڈیل کا نام دیا، کوئی اسے مصلحت پکارنے لگا تو کسی نے اسے خود احتسابی سے تعبیرکیا، حکومتی وزراء نے این آر او کے تاثرکو تقویت دینے کیلئے ایسے بیانات دینا شروع کر دئیے جس پہ باپ بیٹی کی پر اسرار خاموشی مہر تصدیق ثبت کرتی نظر آئی ،اس صورتحال میں جہاں مسلم لیگ ن کے رہنما بھی میاں صاحب کی خاموشی کا دفاع کرنے سے قاصر نظر آنے لگے تو وہیں بعض لیگی کارکنوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا اور انہوں نے بھی سوشل میڈیا پہ اب نہیں تو کبھی نہیں جیسے جملے استعمال کرنا شروع کر دئیے، دوسری طرف نواز شریف ہفتے میں تقریباََ چار دن احتساب عدالت میں پیشی بھگتتے ہوئے بھی ارد گرد ہونے والی کھسر پھسر سے ایسے انجان بنے نظر آئے جیسے انہیں کسی تبصرے، تجزیے یا پروپیگنڈے سے کوئی سروکار ہی نہ ہو، کسی صحافی کے سوال پہ بھی بیشتر وقت ان کا چہرہ ایسے ہی سپاٹ نظر آتا ہے جیسے قوت گویائی کے ساتھ ان کی قوت سماعت بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہی، پارٹی کے سینئر رہنمائوں کے پر زور اصرار اور میڈیا نمائندوں کے بار بار استفسار پہ بھی وہ یہ کہتے نظر آئے کہ ان کا کچھ بولنے کو دل ہی نہیں چاہتا اور پھر میڈیا کو بھی خاموش کرانے کیلئے انہوں نے میڈیا نمائندوں کو بھی باور کرا دیا کہ وہ جو کچھ کہیں گے اسے صحافی شائع کر سکتے ہیں اور نہ ہی نشر کر سکتے ہیں۔

میاں صاحب کی خاموشی کا کھوج لگانے کیلئے جہاں سیاست کی نبض پہ ہاتھ رکھنے والے محترم سہیل وڑائچ جیسے جید تجزیہ کار نے گزشتہ دنوں اپنے کالم میں آٹھ مختلف ممکنہ وجوہات بیان کیں وہیں حق گوئی اور بے باک صحافت کا استعارہ سمجھے جانے والےدوست سلیم صافی نے تو اپنے کالم میں میاں صاحب کی چپ پہ انہیں وہ سنائیں کہ بعض لیگی کارکنوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ تمام تبصروں ،تجزیوں ،مشوروں ، پیش گوئیوں حتی کہ طعنوں کے باوجود میاں صاحب نے اپنی ذات کے گرد جو گہرا سکوت طاری کر رکھا ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ قارئین آج اس کالم کی وساطت سے وہ وجہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ لندن میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اپنی اہلیہ کلثوم نواز کو چھوڑ کر اڈیالہ جیل میں بیٹی سمیت قید ہونے والے ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو احتساب عدالت میں پیشی کے دوران ان کے معتمد خاص حاجی شکیل کی وساطت سے ادراک ہو چکا تھا کہ زندگی شاید انہیں کبھی دوبارہ کلثوم نواز کوجیتے جی دیکھنے کی مہلت نہیں دے گی، یہ دن تھا 11 ستمبر 2018 کا ، قید تنہائی میں رکھے جانے والے سابق وزیراعظم کو عجیب بے چینی محسوس ہو رہی تھی، انہیں کسی پل سکون حاصل نہیں ہو رہا تھا ، انہیں لندن کے کلینک میں بستر مرگ پہ پڑی اپنی اہلیہ کلثوم نواز کا ہوش کے دوران ذاتی ملازمہ نسرین سے اپنے بارے میں بار بار پوچھا جانا شدت سے یاد آرہا تھا کہ نواز اب ان سے بات کیوں نہیں کرتے، انہیں ویڈیو کال کیوں نہیں کرتے ، ایسی بھی کیا مصروفیات کہ وہ اس حالت میں بھی میرے لیے چند لمحات نہیں نکال پاتے ۔

یہ سب سوچ کر پشیمان ہونیو الے نواز شریف نے ڈیوٹی پہ مامور اہلکاروں سے استدعا کی کہ ان کی جیل سپرنٹنڈنٹ سے فوری ملاقات کرا دی جائے ، پولیس اہلکاروں نے معذرت کی لیکن نواز شریف انہیں ایس پی سے ملاقات کی اہمیت کا ادراک کراتے رہے جس کے بعد پولیس اہلکار ایس پی سے اجازت لے کر نواز شریف کوان کے پاس لے گئے، پریشان حال نواز شریف نے ایس پی جیل سے درخواست کی کہ وہ لندن میں اپنے بیٹے سے فوری بات کرنا چاہتے ہیں ، ان کی ٹیلیفون کے ذریعے حسین نواز سے بات کرا دی جائے ، ایس پی نے نواز شریف کی بات سنی اور انتہائی ادب سے معذرت کرتے کہا کہ میاں صاحب اس ہفتے کے بائیس منٹ پورے ہو چکے ہیں اس لیے وہ ان کی بات نہیں کرا سکتے، نواز شریف نے ایس پی کی منت سماجت شروع کر دی کہ ان کی اہلیہ کی طبعیت بہت خراب ہے وہ اپنے بیٹے سے صرف دو منٹ بات کرنا چاہتےہیں ان کی مدد کریں، تین بارملک کے وزیر اعظم کے عہدے پہ فائز رہنے والے نواز شریف کو اس بے بسی کے ساتھ اپنے سامنے گڑگڑاتے دیکھ کر ایس پی کی آنکھیں نم ہو گئیں ، اس نے گلوگیر لہجے میں جواب دیا میاں صاحب میں آپ کی کیفیت سمجھ سکتا ہوں لیکن میری مجبوری ہے جیل مینوئل مجھے کسی طور اجازت نہیں دیتے کہ میں ایک ہفتے میں بائیس منٹ سے زیادہ آپ کی بات کرا سکوں ، نواز شریف ایک گھنٹہ تک مسلسل ایس پی کی منت سماجت کرتے رہے لیکن ایس پی نے جب یہ کہا کہ میاں صاحب آپکو ٹیلیفون کرنے کی اجازت دیکر میں اپنی نوکری گنوا دونگا اور مجھے بھی جیل میں بند کر دیا جائیگا اسلئے میری مجبوری سمجھیں، ایس پی کے اس جواب کے بعد سابق وزیر اعظم انتہائی بے بسی اور بوجھل قدموں کیساتھ واپس اپنی بیرک میں پہنچ گئے، ابھی انہیں اپنی بیرک میں واپس آئے تقریباََ ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ وہی ایس پی بیرک کا لاک کھلوا کر کیپٹن صفدر کے ہمراہ اندر داخل ہوا ،نواز شریف نے اس کی طرف دیکھا ،ایک نظر کیپٹن صفدر پہ ڈالی ،اسی لمحے ان کے کانوں میں اسی ایس پی کی آواز گونجی میاں صاحب آئی ایم سوری کلثوم نواز صاحبہ اس دنیا میں نہیں رہیں، نواز شریف خالی آنکھوں سے بس دونوں کو دیکھتے رہ گئے کیپٹن صفدر نے آگے بڑھ کر نواز شریف کو سہارا دیا ،نواز شریف کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا وہ نم آنکھوں سے بیرک کی دیواروں کو گھورے جا رہے تھے تب انہیں اچانک قید تنہائی میں موجود اپنی بیٹی مریم نواز کا خیال ذہن میں آیا،انہوں نے کیپٹن صفدر سے کہا کہ انہیں مریم کے پاس لے جائے، روزانہ جب نماز مغرب کے وقت کلثوم نواز کی قبر پہ جاتے ہیں تو اسی بے بسی پہ آنسو بہاتے باپ بیٹی ایک دوسرے سے آنکھیں بھی نہیں ملا پاتے، 11ستمبر کے دن ’’ بائیس منٹ پورے ہو چکے‘‘ کا جواب نواز شریف کو ایسی چپ لگا گیا ہے کہ ا س کی یاد ان کے اندر درد کی وہ ٹیسیں پیدا کرتی ہے جنہیں وہ خود پہ جبر کر کے برداشت کر رہے ہیں، نواز شریف کی خاموشی پہ طرح طرح کے طعنے دینے والے دعا کریں کہ نواز شریف خاموش ہی رہیں کیونکہ اگر وہ بول اٹھے تو گرتی سنبھلتی جمہوریت بائیس منٹ کا بوجھ برداشت نہیں کر پائے گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے