گلگت بلتستان انتظامی ادوار،مشاورتی کونسل سے قانون سازاسمبلی تک کا سفر!!

عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com

تعارف
گلگت بلتستان کے انتظامی اور انتخابی سیٹ آپ کے حوالے معاملات اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور اس ضمن میں چند دن اہم ہیں اورعدالتی حکم کے بعد اٹارنی جنرل کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس 13دسمبر(آج) متوقع ہے ۔گلگت بلتستان 3پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ اور کوہ ہندوکش کے سنگم پرواقع ہے (بونجی کے مقام پر تینوں پہاڑی سلسلے ملتے ہیں)۔گلگت بلتستان سے دنیا کی 6میں 4بڑی ایٹمی قوتوں پاکستان، چین،بھارت اور روس (تاجکستان) کی سرحدیں براہ راست ملتی ہیں ، جبکہ افغانستان میں سپرپاور امریکا کی موجودگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ خط 28ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے 20لاکھ افراد کا مسکن ہے۔یہ خطہ بنیادی طور پر 15اگست 1947ء تک قائم متنازعہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے۔

تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی کا 2018ء کا انتخابی منشور
موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی )نے9جولائی 2018ء کو جاری اپنے منشور کے صفحہ نمبر 21پر ’’گلگت بلتستان کے لئے حمایت و استحکام‘‘ کے عنوان سے کئی واعدے کئے ،جس سب سے زیادہ ذور اسمبلی اور عوام کو با اختیار بنانے پرہے ،جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز(پی پی پی) نے اپنے انتخابی 2018ء کے جاری منشور کے صفحہ نمبر 73پر’’گلگت بلتستان کے لئے اصلاحات‘‘ کے نام سے کئی اصلاحات کا وعدہ کیاہے اور سب سے زیادہ ذور’’قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی ‘‘پردیاہے۔ان جماعتوں نے عام انتخابات میں کئے گئے اپنے وعدوں پر کتنا عمل کیا ہے اس حوالے سے بحث قبل خطے کی1947ء سے تاحال انتظامی اور انتخابی پوزیشن پر بات کرنا مناسب ہوگا۔

1947ء سے1971ء تک انتظامی ادوار
یکم نومبر1947ء کو گلگت میں مہاراجہ حکومت کے گورنر گھنسارا سنگھ کی گرفتاری کے بعد قائم ہونے والی ریاست ’’اسلامی جمہوریہ گلگت‘‘ کے نظم کے لئے انقلابی کونسل قائم کی گئی اور یہ آزاد خودمختار ریاست 16نومبر 1947ء تک قائم رہی اور یہ پہلا انتظامی دورتھا ۔دوسرا دور16نومبر 1947ء کو شروع ہوا جب صوبہ سرحد پاکستان سے نائب تحصیلدار سردار عالم خان حکومت پاکستان کے نمایندے (پولٹیکل ایجنٹ) بن کر گلگت آئے اور نظام حکومت سنبھالا اور27اپریل 1949ء تک گلگت بلتستان کا خطہ عملاً صوبہ سرحد کے گورنر کے ماتحت رہا ہے۔ 28اپریل 1949ء کو معاہدہ کراچی کے بعد یہ خطہ صوبہ سرحد کے گورنر سے وزارتِ امور کشمیر کی طرف منتقل ہوا اور1950ء میں صوبہ سرحد کے گورنر کی سفارش پر گلگت بلتستان کا کنٹرول کلی طور پر وزارت امور کشمیر کے سپرد کردیا گیا اور وزارت میں پولیٹیکل ریزیڈنٹ کی ایک نئی اسامی پیدا کی گئی اوریہ دور20ستمبر 1971ء تک جاری رہا ہے، یہ تیسرا انتظامی دور۔

پہلا بلدیاتی انتخاب
1961ء میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح گلگت بلتستان کو بھی پہلا بلدیاتی نظام دیا گیا۔ یہ نظام 3سطحوں پر مشتمل تھا یونین کونسل، ٹاؤن کمیٹی اور تحصیل وضلع کونسل۔ گلگت بلتستان میں پہلی بار اس بلدیاتی نظام کے ذریعے لوگوں کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق دیا گیااور ملک ایوب خان نے گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلدیاتی نظام خطے میں متعارف کرایا گیا۔

مشاورتی کونسل سے قانون ساز کونسل تک انتخابات
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے1970ء سے 2018ء کے ریکارڈ اور ڈپٹی اسپیکر جعفراﷲ خان کے مطابق امور کشمیر و نادرن ایریاز کے 1970ء سے 2018ء تک11انتخابات ہوئے اور بتدریج اختیارات کی منتقلی ہوئی۔ 18نومبر 1970ءکے حکم نامے کے ذریعے پہلی بار گلگت بلتستان میں’’ مشاورتی کونسل‘‘کے نام سے 21رکنی کونسل قائم کی گئی ۔جس کے 14ممبران بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب ، جبکہ7نامزد ممبران بمع ریذیڈنٹ آف ناردرن ایریاز بر بنائے عہدہ اس کے چیئرمین بنائے گئے۔ عملاًیہ صرف مشاورتی ادارہ تھا، تاہم یہ سب سے بڑا عوامی فورم تھا۔30دسمبر1970ء کو پہلے الیکشن ہوئے ۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1975ء میں ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا، جس کے تحت کچھ حدتک کونسل کو با اختیار بنایا اوراس کا نام تبدیل کرکے ’’ناردرن ایریازکونسل ‘‘رکھابرائے راست انتخاب کے لئے 14کی بجائے 16نشستوں پرکراگیااور دوسرا انتخاب 6نومبر1975ء کو ہوا۔ ان صلاحات میں مالی اختیارات کے علاوہ وزیرامور کشمیر وشمالی علاقہ جات کو پہلی مرتبہ نادرن ایریاز کونسل کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جیلانی کو بحیثیت وزیر امور کشمیر و ناردرن ایریاز خطے کے سب سے بڑے منتخب عوامی فورم کا پہلاچیئرمین ہونے کا اعزا ز حاصل ہے۔
ناردرن ایریاز کونسل کا تیسرا انتخاب 16نشستوں کے لئے میں 1979ء کو ہوا،جبکہ چوتھا انتخاب 16نشستوں کے لئے26اکتوبر1983ء کو ہوا اور یہ کونسل 1987ء تک قائم رہی۔ناردرن ایریاز کونسل کاپانچواں انتخاب 16نشستوں کے لئے11نومبر1987ء کو ہوا۔2دسمبر 1988ء کو ملک میں بے نظیر بھٹو نے اقتدار سنبھالا اور فوری بعد گلگت بلتستان کی طرف خصوصی توجہ دی اورپہلی مرتبہ آئینی اور قانونی پوزیشن کی وضاحت کے لیے 3رکنی آئینی کمیٹی قائم کردی تھی مگر کمیٹی زیادہ فعال کردار ادا نہ کرسکی جس کے بعد 1990ء میں ایک اور کمیٹی قائم کی گئیں ۔ اس کمیٹی نے خطے کے قانونی آئینی پوزیشن کے حوالے سے کئی سفارشات مرتب کی تاہم 1990ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے باعث عمل نہیں ہوا۔6نومبر 1990ء کو اسلامی جمہوری اتحاد کے میاں محمد نوازشریف نے حکومت بنائی اوران کے دور میں5نومبر1991ء کو نادرن ایریاز کونسل کے چھٹے انتخابات ہوئے۔ اس قبل کونسل خواتین کی دو مخصوص نشستوں کا اضافہ کرکے کونسل18رکنی کردی گئی۔

مارشل لاء کاپانچواں انتظامی یونٹ
گلگت بلتستان میں5جولائی 1977ء سے 23مارچ 1985ء تک مارشل لا رہا اورجنرل ضیاء الحق نے اس خطے کو مارشل لاء کا پانچواں زون قرار دیا تاہم آزاد کشمیر میں ایسا نہیں کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ میں بھی گلگت بلتستان کو نمائندگی دی ۔

کونسل پہلی بار تحلیل اور پہلے جماعتی انتخابات
18جولائی 1993ء کو نگراں وزیراعظم معین قریشی نے آزاد کشمیر کے ہائی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے لیے پہلی مرتبہ اصلاحاتی پیکیج تیار کیا، تاہم اعلان نہیں کرسکے۔ معین قریشی کے پیکیج میں خطے کے لیے مقامی چیف ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کیا گیا، جس کا انتخاب مقامی قانون ساز کونسل نے کرنا تھا۔1993ء کے الیکشن کے میں بے نظیر بھٹو نے اقتدار پر آتے ہی گلگت بلتستان کی نادرن ایریاز کونسل کو توڑ دیا اور گلگت بلتستان میں مشاورتی کونسل سے آڈر2018ء تک یہ پہلا اور آخری تجربہ ہے۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے 12جون1994ء کو لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کے ذریعے کئی اصلاحات کیں، جن میں مقامی منتخب رکن کو چیف ایگزیکٹو کی بجائے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو جبکہ وزیرامور کشمیر کو نادرن ایریاز قانون ساز کونسل کا چیف ایگزیکٹو نامزد کیا گیا اورڈپٹی چیف ایگزیکٹو کے انتخاب کا اختیار منتخب ارکان کونسل کو دیاگیا۔ کونسل کو محدود سطح پر بعض امور میں اختیارات بھی دیے گئے تھے۔کونسل میں 8نشستوں کا اضافہ کیا، جس سے ارکان کی تعداد 16سے 24ہوگئی، جبکہ دو خواتین ارکان کے انتخاب کا حق 1991ء ہی میں دیا گیا تھا۔ ان اصلاحات کے بعد 5اکتوبر1994ء کو 24جنرل نشستوں کے لیے جماعتی بنیاد پرپہلے اور مجموعی طورپرانتخابات ہوئے اورپیپلزپارٹی کے پیر کرم علی شاہ تاریخ میں پہلی مرتبہ علاقے کے سب سے بڑے منتخب عوامی فورم کے مقامی سربراہ یعنی ڈپٹی چیف ایگزیکٹو منتخب ہوئے۔1997ء کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کامیاب ہوئی اورنوازشریف نے حکومت بنائی اور28مئی 1998ء کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نوازشریف نے گلگت بلتستان کے لیے خصوصی پیکیج تیارکیا اوراس میں ’’ نادرن ایریاز کونسل ‘‘کو ’’نادرن ایریاز قانون سازکونسل‘‘ یعنی قانون سازادارے کا درجہ دیتے ہوئے تاریخ میں پہلی مرتبہ 41نکات پر قانون سازی کا حق دیا،جبکہ پہلی مرتبہ خواتین ارکان کی تعداد 2سے بڑھاکر 5کردی گئی۔ اس طرح نادرن ایریاز قانون ساز کونسل کی کل نشستیں 31ہوگئیں جس میں 24ارکان کا عام انتخابات جبکہ 5خواتین ارکان کا انتخاب نامزدگی کے ذریعے کیاگیا کونسل کو اسپیکر کے انتخاب کا بھی حق دیا گیااور5نومبر 1999ء کو انتخابات کرانے کا اعلان کیاگیا مگر اس سے قبل ہی 12اکتوبر1999ء کو نوازشریف کا تختہ الٹ دیاگیا۔پرویزمشرف کے اقتدارپرقبضے کے بعد خدشہ تھا کہ انتخابات کو ملتوی ہوں گے،کیونکہ ان انتخابات کااعلان نوازشریف حکومت نے تھا اور کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا مرحلہ بھی مکمل ہوچکا تھا،مگرمشرف حکومت نے شیڈول کے مطابق 3اور 5نومبر کو بالترتیب ’’نادرن ایریاز قانون ساز کونسل‘‘ (کے آٹھویں) اور بلدیاتی انتخابات کرائے۔بلتستان سے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے رکن فدا محمد نوشاد(موجودہ اسپیکر) اکثریت سے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور استور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ(ن) کے رکن کونسل (سابق چیف جج چیف کورٹ آف گلگت بلتستان) حاجی صاحب خان پہلی مرتبہ کونسل کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ پرویز مشرف کی حکومت نے 12اکتوبر 2004ء کے انتخابات سے قبل نئے پیکچ کا کہا مگر ایسا نہ ہوسکا تاہم 12اکتوبر 2004ء کو (نویں )انتخابات وقت پر ہوئے اورمسلم لیگ (ق) نے آزاد ارکان کو شامل کرکے حکومت بنالی۔نومبر2004ء میں مسلم لیگ (ق) کے میرآف ہنزہ میرغضنفرعلی خان(حال ہی میں مستعفی ہونے والے گورنر) مجموعی طور پر نویں اور تیسرے جماعتی انتخابات میں خطے کے تیسرے ڈپٹی ایگزیکٹیو، معروف سیاسی رہنما ملک محمد مسکین اسپیکر اور معروف قانون دان اسد زیدی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ یہ کونسل مجموعی طور پرارکان پر مشتمل36 تھی، جن میں 24ارکان الیکشن میں منتخب اور 6خواتین اور 6ٹیکنوکریٹ ارکان کا انتخاب کونسل نے کیا۔

قانون ساز کونسل سے قانون ساز اسمبلی تک
پرویز مشرف کے دور میں دسمبر2007ء میں رولز آف بزنس میں ترمیم کرکے قانون ساز کونسل کو قانون ساز اسمبلی کا درجہ دیااورڈپٹی چیف ایگزیکٹو کو چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دے میں تبدیل کیاگیا، جبکہ وزیرامور کشمیر کو اس کا چیئرمین بنایا گیا اورقانون ساز کونسل کا نام نئے اصلاحاتی پیکیج کے مطابق نادرن ایریاز قانون ساز اسمبلی رکھا گیا۔پرویزمشرف کے دور میں ایک اور پیکیج بھی تیار کیا گیا تھا،تاہم 2008ء کے عام انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کی کامیابی کے باعث پرویزمشرف کو ترمیمی اصلاحاتی پیکیج کے اعلان نہ کرسکے۔

گلگت بلتستان حکمی صوبہ اوردو ایوانی مقننہ
پیپلزپارٹی اپنے 2008ء کے انتخابی منشور میں گلگت بلتستان کے اصلاحات کا وعدہ کرچکی تھی۔18فروری 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد پیپلزپارٹی نے ملک میں حکومت بنائی اوروزیرامور کشمیروچیئرمین گلگت بلتستان قمرزمان کائرہ کے دور میں خطے میں نئے اصلاحاتی پیکیج کا فیصلہ کیا گیا۔صدر پاکستان آصف علی زرداری نے 7ستمبر 2009ء کو’’گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009ء‘‘ جاری کیا۔ یہ آرڈرمجموعی طور پر15 ابواب ، 97بنیادی اور 200سے زائد ذیلی آرٹیکلز پر مشتمل ہے۔جس میں گلگت بلتستان کو انتظامی طور پر آرڈر کے تحت صوبے کا درجہ دیا گیا۔جس میں گورنر ، وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء کے عہدے تخلیق کئے گئے ۔ دو ایوانی مقننہ اور سپریم ایپلٹ کورٹ قائم کی گئی۔آرڈر 2009ء کے مطابق گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی 33ارکان تھے ، جن میں 24ارکان براہ راست انتخاب ، 6خاتون ارکان اور 3ٹیکنوکریٹ ارکان ، جبکہ گلگت بلتستان کونسل 15رکنی ہوگی ،جس کے چیئر مین وزیر اعظم پاکستان اور ڈپٹی چیئرمین گورنر گلگت بلتستان بر بنائے عہدہ ۔ کونسل کے 6ارکان کا انتخاب قانون ساز اسمبلی نے کرنا اور باقی 7ارکان میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور حکومت پاکستان کے نامزدہ کردہ اوردیگرہیں۔آرڈر 2009ء کے آرڈر میں پہلی بار صوبائی طرز کا انتظامی سیٹ آپ دیا گیا۔اسمبلی کو 61،جبکہ کونسل کو 55نکات پر قانون سازی کا حق دیاگیا۔15ستمبر 2009ء کو گلگت بلتستان کی تاریخ کے دوسرے اور 1947ء کے بعد نامزد کردہ پہلے گورنر قمرزمان کائرہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ گلگت بلتستان میں پہلے گورنر کی تقرری مہاراجہ ہری سنگھ نے جولائی 1947ء کو کی تھی مگر ان کے عہدے کا اختتام یکم نومبر 1947ء کو گرفتاری کے ساتھ ہی ہو۔ قمر زمان کائرہ کے بعد پیپلزپارٹی نے ضلع استور تعلق رکھنے والی خاتون ڈاکٹرشمع خالد اور پیرکرم علی شاہ ،جبکہ2015ء کے بعد ن لیگ نے میر غضنفر علی خان اور 2018ء میں تحریک انصاف نے راجہ جلال کوگورنر مقرر کیا۔آرڈر 2009ء کے نفاذ کے بعد 12نومبر2009ء کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے اورمجموعی طور پردسویں انتخابات ہوئے ،جن میں پیپلزپارٹی کو واضح اکثریت ملی اورپارٹی کے صوبائی صدر سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہو ئے۔سید مہدی شاہ کو پہلے وزیر اعلیٰ کا اعزاز تو ملا مگر5سال میں وہ زیادہ متحرک نہ رہ سکے ۔اسمبلی کی 5سالہ مدت مکمل ہونے کے شیر جہان میر نگراں وزیر اعلیٰ بنے۔ مسلم لیگ(ن) نے 2013ء کے اپنے انتخابی منشور میں گلگت بلتستان کو اصلاحات کے ذریعے مکمل با اختیار صوبہ بنانے کا وعدہ کرچکی تھی۔ اسمبلی کی 5سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد 8جون 2015ء کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر گیارویں انتخابات ہوئے اور مسلم لیگ(ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان کے دوسرے منتخب وزیراعلیٰ بنے ۔ انہوں نے کئی مشکلات کے باوجود اب تک اپنی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیااور ہر فورم پر اپنے خطے کی بہتر نمائندگی کی ہے۔ نوازشریف نے حسب وعدہ اصلاحات کے لئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی اوراس کمیٹی نے تقریباً پونے تین سال تک کام کیا اور عبوری صوبہ کے لئے سفارشات مرتب کیں مگر تنازع کشمیر میں مشکلات کے باعث عبوری صوبے کی سفارشات پرعمل نہ ہوسکا تاہم آرڈر2018ء کے نامی سے نیا آرڈر 27مئی 2018 کو وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں جاری کرنے کا اعلان کیا۔ وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان کو بھی وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو صوبوں کو حاصل ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے پاکستان کے ہر شہری کو حاصل ہیں۔ پاکستان کے آئین میں پالیسی اصول جو پہلے گلگت بلتستان میں نافذ نہیں تھے، انھیں بھی اب یہاں نافذ کردیا گیا ہے، جو ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ 14جولائی 2018ء کو سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان نےآرڈر 2018کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سیلف گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈر2009ء کو بحال کردیا۔ 8 اگست 2018ء سپریم کورٹ نے وفاق کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے گلگت بلتستان اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو بحال کیا۔آرڈر 2018ء میں خطے کومعاشی اور انتظامی اختیارات عملاً دیگر صوبوں کے برابر لایا گیا اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو مکمل باختیار بنایا تاہم گلگت بلتستان کونسل کا اختیارکم کرکے اس کا عملی کردار مشاورتی رکھاہے۔ وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے آرڈر 2018ء کی تیاری میں اہم اور متحرک کردار ادا کیا۔اب بھی بطور وزیراعلیٰ متحرک ہیں تاہم 2018ء کے عام انتخابات میں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد ان کے لئے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے نومبر2018ء میں سرتاج عزیز رپورٹ کے مطابق عبوری صوبہ بنانے کا عندیہ دیامگربعد ازاں وفاقی حکومت نے آرڈر 2018ء میں بہتری پررضامندی ظاہرکی، وجہ تنازع کشمیرہے۔

گلگت بلتستان کے تاریخی مقدمات
گلگت بلتستان کی71سالہ تاریخ میں تین مقدمات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جو 1990ء میں سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر ، 1994ء اور2018ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائرکئے گئے، دو مقدمات کے فیصلے آچکے ہیں ،جبکہ تیسرا کا انتظار ہے۔سینئر صحافی اقبال عاصی کے مطابق گلگت بلتستان کی71 سالہ تاریخ میں آئینی اور قانونی پوزیشن میں ان مقدمات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق پہلا مقدمہ16اکتوبر 1990ء کوآزاد جموں کشمیر ہائی کورٹ میں دائر ہوا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھاکہ ’’شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان) ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہیں اور ان علاقوں کی ریاست جموں وکشمیر سے علیحدگی غیر قانونی ہے۔ان علاقوں کے عوام کو آزاد کشمیر کی حکومت، اسمبلی، کونسل اور دیگر اداروں میں نمایندگی کے علاوہ بنیادی اور سول حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور یہ کہ ان علاقوں میں کسی قانونی جواز اور حق کے بغیر ہی حکومت کی جارہی ہے۔آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے 8مارچ 1993ء کو فیصلہ سنایا اور ہدایات جاری کی کہ ’’آزاد کشمیر گورنمنٹ فوراً شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان) کا حکومتی نظام سنبھالے اوراس مقصد کے حصول کے لیے حکومت پاکستان، آزاد حکومت کی مناسب مدد کرے۔خطے کے باشندے آزاد جموں کشمیر ایکٹ 1974ء کے تحت حاصل بنیادی حقوق سے استفادہ کریں گے۔ انہیں آزاد کشمیر کی حکومت، اسمبلی، کونسل، سول انتظامیہ اور دوسرے قومی اداروں میں نمایندگی دی جائے۔آزاد کشمیر کی حکومت اپیل پرسپریم کورٹ آزاد کشمیرنے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گلگت بلتستان کے علاقے ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہیں لیکن آزاد کشمیر کے 1974ء کے عبوری آئین کے مطابق یہ علاقے ( گلگت بلتستان )آزاد جموں کشمیر کاحصہ نہیں ہیں۔
1994ء میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان دوآئینی درخواستیں دائر ہوئی،جن میں الجہاد ٹرسٹ راولپنڈی بذریعہ حبیب الوہاب ایڈووکیٹ راولپنڈی ودیگر نو افراد (جن کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے) آئینی درخواست نمبر 11آف 1994ء اور محترمہ فوزیہ اسلم عباس سابق ممبر این اے کونسل وغیرہ کی طرف سے آئینی درخواست نمبر17آف 1994ء تھیں۔سپریم کورٹ نے 28مئی 1999ء کو اپنے فیصلے کے تحت پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ 6 ماہ کے اندر ایسے اقدامات کرے جن کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں ان کے اپنے منتخب نمایندے حکومت چلائیں اور وہاں عوام کو خود مختار عدلیہ کے ذریعے انصاف تک رسائی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 1999ء کے بعد 3مرتبہ حکومت اصلاحاتی پیکیج دینے پر مجبور ہوئی۔
گلگت بلتستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے گلگت بلتستان بار کونسل کی2018ء میں دائر آئینی درخواست نمبر55 بہت اہمیت کی حامل ہے ۔اس درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ 28مئی 1999ء کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق 2015ء میں قائم کردہ نواز شریف حکومت کی سرتاج عزیز کمیٹی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی یا عبوری صوبہ بنایا جائے اور اس کے لئے آئین پاکستان میں ضروری ترامیم کرکے پارلیمنٹ اور تمام آئینی اداروں ’’این ایف سی‘‘ وغیرہ میں مناسب نمائندگی دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی اختیار کوگلگت بلتستان تک توسیع دی جائے اورسپریم کورٹ کا گلگت بلتسان میں خصوصی سرکٹ بنچ قائم کرے۔اس درخواست پر7رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہاہے اور اب تک ہونی والی سماعت سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ان تمام باتوں سے معذرت کرتے ہوئے آرڈر 2018ء میں بہتری پررضامندی ظاہر کی ہے اور اس کے لئے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں حتمی فارمولے کے لئے عدالت عظمیٰ نے کمیٹی قائم کی ہے اور کمیٹی کا پہلا اجلاس 13دسمبر کو(کل) متوقع ہے،جبکہ کمیٹی نے حتمی رپورٹ 24دسمبر2018ء تک عدالت میں پیش کرنی ہے ۔ماہرین اس مقدمے کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں اور اسی سے اندازہ ہوگا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے 2018ء کے منشور میں کئے گئے وعدے پر کس حد تک عمل کرپاتی ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو کس حدتک مطمئن کیا جاسکتاہے۔

ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا موقف
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جعفراﷲ خان کا کہنا ہے کہ انقلابی کونسل سے دو ایوانی مقننہ تک 71سالہ اور مشاورتی کونسل سے قانون ساز اسمبلی تک کا 48سالہ طویل سفر بڑی جدوجہد کے بعد طے کیا ہے اور2018ء کے آرڈر میں ہم عملاً انتظامی اورمالیاتی طور پرپاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر آگئے ہیں۔ گلگت بلتستان کو اختیارات کی اس حد تک منتقلی میں مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور پیپلزپارٹی کے قائد مرحوم ذوالفقار علی بھٹو، مرحومہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کا اہم کردار ہے۔ جنہوں نے اپنے ادوار میں اصلاحات کی اور بتدریج اختیارات میں اضافہ کیا حالانکہ مقامی عوام کی جانب سے کسی ایک فارمولے پر متفق نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات تھیں ۔جعفراﷲ خان کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف اپنے تینوں ادوار میں خطے کے لئے کام کیا اور2015ء کے اپنے واعدے کے مطابق سرتاج عزیز کی سربراہی میں اصلاحاتی کمیٹی قائم کی اس کمیٹی نے کئی برس کام کیا اور طویل مشاورت کے بعد 2018ء کے شروع میں گلگت بلتستان آرڈر 2018ء جاری کیا،جس میں ہماری ترجیح انتظامی اورمعاشی بہتری رہی ،کیونکہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ممکن نہیں تھی۔ہماری حکومت نے 2015سے 2018ء تک اپنے دور میں اسمبلی کی مجالس قائمہ کو فعال کیا۔ ترقیاتی بجٹ 8ارب سے 19ارب تک پہنچادیا ۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے مطابق گلگت بلتستان کو انتظامی وہی اختیارات حاصل ہیں جو18آئینی ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کو ہیں۔پہلے اسمبلی کو 61اور کونسل کو 55امور پر قانون سازی کا اختیار تھا ،آرڈر 2018ء میں قانون سازی کا تمام اختیار اسمبلی کے پاس ہے اور کونسل ایک مشاورتی ادارا ہے۔ہم امیدکرتے ہیں تحریک انصاف کی حکومت متوقع آرڈر میں اختیارات کم نہیں بلکہ اضافہ کرے گی ۔ جعفراﷲ خان کے کا کہنا ہے کہ آئندہ نظام میں اصلاح کو عدالت عظمیٰ کی اجازت سے مشروط کرنے سے مسائل پیدا ہونگے،اس سے گریز بہتر ہے۔

معروف سیاسی رہنماء فوزیہ سلیم عباس کا موقف
فوزیہ سلیم عباس گلگت بلتستان کی معروف سماجی رہنماء اور عدالت عظمی میں دائر 1994ء کی آئینی درخواست کی درخواست گزار ہیں۔فوزیہ سلیم عباس کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتظامی اور معاشی اختیارات کی منتقلی1994ء کے مقدمے کے فیصلے کے بعد ہی ہوئی ہے۔ وفاق آئین میں ترمیم کئے بغیر بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان میں نمائندگی دے سکتا ہے ۔ ہم در اصل وفاقی یونٹ ہیں اور وفاق اسلام آباد اور فاٹا کی طرح گلگت بلتستان کے لئے نمائندگی دے سکتی ہے ۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنی مجلس شوریٰ میں گلگت بلتستان کے 3نمائندے شامل کئے تھے ۔فوزیہ سلیم عباس کا کہنا ہے کہ 2009ء اور2018ء میں سے 2009ء کا آرڈر بہتر ہے ،کیونکہ2018ء آرڈر میں ن لیگ نے تمام اختیارات وزیر اعظم کو دئیے ہیں ۔ اب تحریک انصاف کی حکومت کے متوقع آرڈر 2018ء میں مزید بہتری کی امید ہے ،تاہم اٹارنی جنرل کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو اصل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر ان کی مشاورت سے کام کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button