آج پاکستان ٹوٹا تھا

16 دسمبر 1971 کی شکست اور ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کا واقعہ ہماری المناک تاریخ اور شکستوں کا بدترین واقعہ ہے، یہ کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا ۔ یہ پاکستان کے دولخت ہونے کا دن ہے ۔ ہمارے جرنیل ٹائیگر نیازی نے بھارتی جرنیل جگجیت سنگھ اروڑہ کے آگے ہتھیار ڈالے ۔

یہ بہت بڑا سانحہ تھا لیکن اس کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ آج تک سرکاری طور پر منظرعام پر نہیں آئی ۔ شنید ہے کہ رپورٹ میں متعدد جرنیلوں اور افسروں کے نام لے کر ان کے کارناموں کا ذکر کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات چلانے کی سفارش کی گئی ۔ ان میں جنرل یحی،جنرل نیازی،جنرل رحیم خان،جنرل ارشاد احمد خان،جنرل خداداد خان،جنرل عبدالحمید،جنرل پیرزادہ،جنرل گل حسن،جنرل مٹھہ خان،جنرل عمر،جنرل عابد زاہد اور متعدد دیگر فوجی افسران کے نام شامل ہیں ۔

ان کے خلاف کھلے مقدمات چلا کر سزا دینے کی سفارش کی گئی تاکہ قوم مطمئن ہو سکے اور مسقبل میں اس طرح کے شرمناک کردار اور واقعات کا سدباب کیا جا سکے لیکن کسی کے خلاف کارروائی ہوئی اور نہ سزا ملی ۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئے تاکہ ذلت و تباہی کا شکار نہ ہوں لیکن ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔

عوامی جذبات کو اور بگڑے معاملات کو غلطیوں کی درستی سے سنبھالنے کے بجائے ڈنڈے کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کا نتیجہ سولہ دسمبر کی صورت میں ہی نکلتا ہے، جب خود کو عقل کل سمجھنے والوں نےمشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کیا تو عوامی شاعر حبیب جالب نے لکھا
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے
اور پھر ہمارے ٹائیگر نے جب ہتھیار ڈالے تو سید ضمیر جعفری نے لکھا
نیازی نے روڑا کو باچشم تر
کیا پیش جب اپنا ریوالور
تو اک پل میں صدیوں کا خوں ہو گیا
سر پاک پرچم نگوں ہو گیا

رستم ستی

متعلقہ مضامین