آخری پیشی

فیاض محمود
پندرہ ماہ بعد ٹرائل مکمل ہوا توملزم اٹھ کھڑا ہوا۔ بوجھل قدموں کے ساتھ بن بلایا روسٹرم پر جاپہنچا۔ گلے کو کھنگارتے ہوئے سرد لہجے میں بولا
‘‘جج صاحب تو کیا یہ میری آخری پیشی تھی؟
جی یہ آپ کی آخری پیشی تھی، جج نے ہلکی مسکان کے ساتھ جواب دیا
دونوں ہاتھ روسٹرم پر رکھتے ہوئے ملزم پھر مخاطب ہوا‘‘جج صاحب میرا ضمیر مطمئن ہے ،میرے سامنے جو کارروائی ہوئی وہ سب مفروضوں پر مبنی تھی۔ میں ساری زندگی کرپشن کے قریب سے بھی نہیں گزرا، نہ ہی کوئی کک بیکس لئے۔ مجھے امید ہے آپ انصاف پر مبنی فیصلہ سنائیں گے۔
تین نیب ریفرنسز کے ملزم نواز شریف بولے جاتے تھے اور گزشتہ 15ماہ میرے ذہن کے پردے پر کسی فلم کی طرح چل رہے تھے۔ پہلی پیشی کی یادیں بھی تازہ تھیں۔وہ چھبیس ستمبر 2017 کا دن تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت میں بطور ملزم پیش ہوئے۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ڈرے سہمے نواز شریف روسٹرم پر آکر کھڑے ہوگئے کمرہ عدالت کو انکے ذاتی گارڈز نے گھیر رکھا تھا۔ پہلی پیشی پر ان کے گارڈز نے سنیئر صحافی عامر عباسی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور پیشی کا اختتام انکے خلاف نعرے بازی پر ہوا۔ پیشیوں کا یہ طویل سلسلہ 19 دسمبر 2018 کو اپنے انجام کو پہنچا۔ اس دوران نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں جیل بھی بھگت آئے مگر دو ریفرنسز میں کارروائی چلتی رہی۔ دوران ٹرائل پہلی بار تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم کے منصب پر رہنے والے نواز شریف کو بہت قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ ان کے وکلاٗ کیس پیش کرتے رہے مگر نواز شریف آخری دن تک کہتے رہے انہیں بتائیں تو سہی انکے خلاف کیس کیا ہے۔ آخری دوریفرنسز کے آخری دنوں میں نواز شریف خاصے بے چین دکھائی دیے۔ وہ دوران سماعت روسٹرم پر آجاتے تھے براہ راست احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے مخاطب ہوکر صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے تو کبھی وہ اپنی اتفاق فاونڈری میں جنرل یحییٰ خان کی تصاویر پیش کرکے بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ سیاست میں آںے سے پہلے کارروباری تھے۔ اپنے بیان میں اپنی فیکڑیوں اور اپنے ویلفئیر کے کام بھی بتاتے دکھائی دیے۔ حتی کے کیس کے آخری دن جب اختتامی دلائل جاری تھی تو وہ خواجہ حارث کے معاون وکلاٗ کو بار بار بلا کر سرگوشی کرتے کہ جج صاحب سے یہ بات کی جائے۔ نیب پراسیکوٹر انہیں حسین نواز سے آنے والی رقوم سے متعلق بتا رہے تھے تو اپنی نشست پربیٹھے بیٹھے بولے نیک اولاد اپنے والد کو دیتی ہے یہ تو اسلامی اور معاشرتی ذمہ داری ہے اس میں غلط کیا ہے۔یہ ان کی بے چینی ہی تھی ورنہ اس سے قبل انہوں نے کبھی بھی اس طرح لقمہ نہیں دیا تھا۔ جتنا آخری پیشی پر نواز شریف کو سنجیدہ پایا اتنا اس پورے ٹرائل میں نہیں دیکھا۔ بظاہر لگا انہیں معلوم ہے فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے اور یہی فکر انکے چہرے پر بھی جھلک رہی تھی۔ نواز شریف نے جس طریقے سے آج رومال پہن رکھا تھا وہ بھی پہلی بار دیکھنے کو ملا۔ مسلسل خاموش رہنے والے نواز شریف نے آج ایک بار پھر میڈیا کیمروں پر گفتگو کی اور اپنی حکومت کے کارنامے گنوائے۔ جب وہ بول رہے تو سامنے کھڑے کارکنوں میں کچھ خواتین رو رہی تھیں اور کچھ سبحان اللہ بول دیتی تھیں۔ نواز شریف نے اپنی حکومت کی کامیابیاں گنواتے ہو شعر پڑھا
جو ہم پہ گزری سو گزری مگرشب ہجراں
ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے
اس شعر کے ساتھ ہی وہ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔ وہ چلے گئے مگر 24 دسمبر کو ایک بار پھر پیش ہونگے جب احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ان کی موجودگی میں فیصلہ سنائیں گے۔ العزیزیہ ریفرنس میں مجموعی طور پر 22 گواہان نے نواز شریف کیخلاف گواہی دی اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہ انکے خلاف پیش ہوئے۔ استغاثہ نے اپنے مقدمے میں تمام اثاثوں کا مالک نواز شریف کو قرار دیا اور استدعا کی کہ سزا دی جائے۔ جبکہ نواز شریف نے خود کو ان جائیدادوں سے لاتعلق کرکے الزامات کے خلاف دفاع پیش کرنے سے انکار کردیا۔ موقف اپنایا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا، ذرہ برابر بھی انکے خلاف ثبوت پیش نہیں کرسکی اس لیے عدالت انہیں بری کرے۔ نواز شریف پر نیب آرڈیننس کی دفعہ نائن اے فائیو کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اب حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا کہ اس نے کس کے موقف کو تسلیم کیا اور کس کا موقف مسترد کیا جائے گا۔ فیصلے کے ساتھ ہی پانامہ ریفرنس تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے