بربادی کے پیامبر

اظہر سید
نواز شریف کو سزا سنا دیں ۔ آصف علی زرداری کے نئے تلاش کردہ امریکی فلیٹ پر ریفرنس فائل کریں اور انہیں اومنی گروپ کی منی لانڈرنگ پر گرفتار کر لیں ۔ آگر یہ پلان اے تھا تو یقین کریں یہ ناکام ہو چکا ہے ۔جس شاخ پر آشیانہ بنایا گیا تھا وہ خزاں گزیدہ ہے ۔آپ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے آپ ابھی تک شاخ نازک پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں،اپنی رہی ساکھ بھی داو پر لگا رہے ہیں ۔کیا لیڈر یہ ہوتا ہے "50 سال کی گیس سمندر میں موجود ہے بس لیک نہ ہو جائے” ۔کیا راہنما کٹے اور مرغی سے قوم کو ترقی کی راہ پر لے کر جاتا ہے۔کیا وژن یہ ہے "200 ارب ڈالر میرے آنے کے ساتھ آئیں گے” ۔کیا ہزار ارب روپیہ روزانہ کی منی لانڈرنگ کی بات سچ ثابت ہوئی ہے ۔کیا لیڈر دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہے "روپیہ کی قیمت میں کمی کی خبر ٹی وی سے ملی” ۔ آپ شائد خوف زدہ تھے نواز شریف کے دور میں معاشی ترقی پاکستان کو ترکی ایسے حالات میں نہ لے آئے ۔آپ شائد ڈرتے تھے خارجہ پالیسی کی ملکیت نہ چھن جائے ۔اگر آپ کا نیا فخر کچھ ڈلیور کرتا ،200 ارب ڈالر نہ سہی دو ارب ڈالر ہی بیرون ملک پاکستانی اس کی اپیل پر بھیج دیتے تو اشک شوئی ہوجاتی کچھ آپ کا بھرم بھی رہ جاتا ۔
آپ کا لاڈلہ تو آپ کی بدنامی کا باعث بن گیا ہے ۔ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ۔آپ انہیں چور کہیں ڈاکو کہیں لیٹر ے مشہور کر دیں ۔لوگ ان دونوں جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں ۔یہ دونوں جماعتیں دو بڑے صوبوں کی نمائندہ ہیں ۔نواز شریف اور آصف علی زرداری کو گرفتار کریں گے تو آپ کی تین liabilities ہو جائیں گی ۔سب سے بڑی لایبلٹی آپ کا لاڈلہ ہے ۔نواز شریف اور آصف علی زرداری نے اگر احتجاجی تحریک شروع کر دی یا جیل بھرو تحریک شروع ہو گئی تو معاشی بدحالی اس جلتی پر تیل ڈالے گی ۔مذہبی عنصر اگر قادیانی یہودی مسترد کا نعرہ لگا کر اس میں شامل ہو گیا تو پھر کیا کریں گے ؟
ماضی کے طریق کار پر عمل کریں یا نواز شریف سے ڈیل کریں یا آصف علی زرداری سے اسی طرح ڈیل ڈیل کھیلیں جس طرح رضا ربانی کو چیرمین سینٹ بننے سے روکا تھا ۔ملک کی معاشی صورتحال کسی احتجاجی تحریک کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔
حصص بازار نومبر 2017 میں 55 ہزار انڈکس پر تھا اور نومبر 2018 میں 38 ہزار پر ہے ۔انڈس موٹر کی گاڑیوں پر اون تھا اب انکے ایک ہزار مقامی یونٹ تیار پڑے ہیں اور وہ مسلسل ترغیبات دے رہے ہیں اور آیندہ ہفتہ اپنا پیداواری پلانٹ بند کر رہے ہیں ۔باقی کارسازوں کا اس سے بھی بڑا حال ہے ۔اکتوبر نومبر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی سی کے ڈی کٹس کی درآمد میں 30 فیصد کمی آئی ہے یعنی 30 فیصد کسٹم ڈیوٹی اب آپ کو نہیں ملے گی ۔درآمدی سیلز ٹیکس بھی گیا۔گاڑیوں کی فروخت پر ودہولدنگ ٹیکس بھی نہیں ملے گا۔
حصص بازار میں والیم کم ہونے سے کارپوریٹ ٹیکس کی بھی کمی ہو گی۔جب ٹیکس کم ملیں گے تو دفاعی بجٹ میں بھی کٹوتی ہو گی ۔اس سال تو ترقیاتی بجٹ میں کمی کر کے فوج کو درکار پیسے دے دئے اگلے سال کہاں سے پیسے لیں گے ۔رئیل اسٹیٹ میں خریدوفروخت 90 فیصد ختم ہو چکی ہے ۔سی وی ٹی میں بھی کمی ،کیپٹل گیں ٹیکس میں بھی کمی اور اسٹامپ ڈیوٹی میں بھی کمی ۔ایف بی آر کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے رواں سال ٹیکسوں کی وصولی میں 100 ارب روپیہ سے زیادہ کی کمی ہو گی ۔اینگرو کو ڈبونے والا وزیر خزانہ کہتا ہے جنوری میں منی بجٹ آئے گا ۔ہمیں سمجھ نہیں آرہی معیشت تو برہنہ ہو گئی اب یہ ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا ۔
منظور پشین کی وجہ سے پختون قوم پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔جمعیت علما اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی جلے بیٹھے ہیں ۔مولوی پین دی سری کے دیوانے بھی آپ کے ہاتھ سے نکل گئے ۔نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف انتقامی کاروائیوں سے آپ کو کیا حاصل ہو گا ؟ کیا آپ پورے ملک کو اپنے خلاف کھڑا کرنے کے خواہش مند ہیں ۔آپ کے پاس ایک مولوی طارق جمیل بچا ہے اور نانی اماں کی حمایت کر کے اس مولوی نے بھی اپنے پاوں پر کلہاڑی مار لی ہے ۔ہوش کریں سیاسی قیادت کے ساتھ معاملات طے کریں اور ایک نا اہل شخص کی خاطر اپنی ساکھ کو داو پر نہ لگائیں ۔معیشت مستحکم نہ ہوئی تو سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے