میڈیا میں ڈاؤن سائزنگ کی حقیقت

سلمان درانی

پاکستانی میڈیا کے حوالے سے جو بات ہمارے سابقہ اینکرز کی جانب سے کی جارہی ہے وہ پاکستان کی حد تک کہیں ٹھیک بھی ہے، مگر لگی لپٹی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ ملک میں اتھارٹیز کے کنٹرول کی بات درست بھی ہے مگر ڈاؤن سائزنگ سے متعلقہ کئی تکنیکی پہلو بھی ہیں جن کا جائزہ وقت کی اہم ضروری سمجھتا ہوں۔

جہاں لوگوں نے ٹی وی دیکھنا تقریباً چھوڑ دیا ہے، وہاں اس بات کا علم ہونا بھی ضروری ہے کہ TRP کیا بلا ہے اور یہ کہاں سے جنریٹ ہوتے ہیں۔ ٹی آر پی دراصل ایک تکنیکی پیمانہ ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹی وی پر چلنے والی چیزوں کو کس گھنٹے میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ پہلے وقتوں میں جب ٹی وی عروج پر تھا، اور اب کے ٹی آر پیز کا موازنہ بھی کیا جانا بہت ضروری ہے۔ اور یہ ٹی آر پی ہی ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر اشتہاروں کی قیمتیں طے ہوا کرتی ہیں۔ تو کیا یہ بات اہم نا ہے کہ وقت کے ساتھ لوگوں کے رویے بھی بدلے، لوگ اخبار کے بعد اب ٹی وی دیکھنا بھی چھوڑ گئے ہیں۔

اب سوشل میڈیا کا دور ہے جس کا ادراک ٹی وی مالکان کو خوب ہوچکا ہے۔ تبھی تو سوشل میڈیا پر اب لائیو خبریں اور پروگرامز چلا کر لوگوں کی نفسیات پر نت نئے تجربات کیے جارہے ہوتے ہیں تاکہ زندگی کی کہیں سے کوئی علامت مل جاوے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ جیو نیوز، اے آر وائے نیوز یا کسی بھی ادارے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے یہ اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ کس کو زیادہ اور کس کو قدرے کم دیکھا جارہا ہے۔ ٹیلی ویژن انڈسٹری کی فطرت بالکل الگ ہے۔ تو اس کا تجزیہ بھی ٹی وی کے ہی پیمانے پر کیا جاوے گا سوشل میڈیا پر تو خود روایتی میڈیا اپنی آخری سانسیں گنتا نظر آرہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ پہلے اخبار کی وفات ہوئی، لوگ اخبار پڑھنا چھوڑ گئے۔ اخبار بکنا بند ہوئے، اور اب تقریباً ختم ہی ہوچلے ہیں۔ اخبار کے دفاتر سے لوگوں کو فارغ کیا گیا۔ اخبار نویس سے لے کر اخبار فروش تک نے پیشے بدل لئیے۔ کچھ جو رہ گئے وہ اخبار کے دفتر سے اٹھ کر ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر جم گئے۔ 2002 کے بعد سے پرائیویٹ میڈیا کا عروج آیا۔ لوگوں میں حامد میر، جاوید چوہدری، کامران خان، سہیل وڑائچ اور باقی چہرے مقبول ہوگئے۔ اسی دوران منڈی نے عالمی طور پر کب رخ بدلا اس کا احساس کسی کو نہ ہوا۔

2010 اور 2011 کے بعد سے سوشل میڈیا نے زور دکھانا شروع کیا۔ شروع شروع میں تو اس کے اثرات کا علم بالکل نہہوا لیکن جب انٹرنیٹ بڑے بڑے کمپیوٹرز سے نکل کر لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا تب صورتحال نے ایک الگ ہی رخ اختیار کرلیا۔ لوگوں نے سوتے جاگتے انفارمیشن کی مشین، اینڈرائیڈ موبائل کا استعمال شروع کر دیا جس سے ان کو کسی بھی خبر تک رسائی کے لئیے گھنٹوں ٹی وی کے سامنے ٹکنا نہیں پڑتا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ بالکل ہی ٹی وی دیکھنا چھوڑ گئے۔ آج اگر حکومت اس بات کا سروے کروالے کہ کتنے فیصد لوگ اب رات آٹھ بجے والا ڈرامہ، 9 بجے والی خبریں، اور دس بجے والا کرنٹ افئیر پروگرام دیکھتے ہیں تو پرائم ٹائم کا سارا امیج ڈھیر ہوکر رہ جائے گا۔ اس بات کا مزید اندازہ یوں بھی کرلیجیۓ کہ روایتی میڈیا کو اب خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مل رہی ہوتی ہیں۔۔

تو اگر ہم، ‘میں نہ مانوں’ کے رویے کو چھوڑ کر صورتحال کا معروضی و تکنیکی جائزہ لیں تو ہم کسی بھی نتیجے پر بآسانی پہنچ سکتے ہیں۔ ٹیلی ویژن اور اخبار کا وقت اب بہت پیچھے رہ چکا ہے، اب آگے کی جانب دیکھنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو جناب مرتضیٰ سولنگی ٹویٹر پر دیہاڑی اور طلعت حسین صاحب سوشل میڈیا پر پروگرام کی بجائے اخبار پر کالم کے زریعے احتجاج کا راستہ چنتے۔ ایسا اس لئیے نہیں ہے کیونکہ صورتحال کچھ اور ہے اور بتائی کچھ اور جاتی ہے۔

میرے دوست عمر علی نے پچھلے دنوں کولمبیا جرنلزم ویب سائٹ پر پاکستان میں صحافت کے برے دنوں پر ایک خبری کالم لکھا جس میں انہوں نے مطیع اللہ جان، مرتضیٰ سولنگی کے علاوہ افضل بٹ کے انٹرویو شامل کئے ۔ عمر نے یہ ایک اچھا کام کیا کیوں کہ اس سے مجھے صورتحال کو کھولنے میں مزید مدد ملی۔ پاکستان کے تناظر میں کوئی بھی بات ایک ہی زاویے سے کردینا ایک عام روش بن چکی ہے۔ یہاں یہ امر بھی ضروری ہے کہ مرتضیٰ صاحب اور مطیع صاحب سے ان سوالوں کے جواب بھی لئے جاتے کہ ان کے پروگراموں کی ریٹنگ کیا تھی۔ ڈان نیوز سے فارغ کئے گئے بزرگ صحافی نصرت جاوید بھی آجکل ٹوئٹر پر زیادہ نظر آتے ہیں۔ ان سے بھی پوچھا جانا چاہیے تھا کہ لوگوں کے بدلتے رجحانات کو وہ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

جب پروگرام کی ریٹنگ ہی نہ آرہی ہو تو سرمایہ دار میڈیا سیٹھ آپ پر مزید پیسہ کیوں خرچ کرے گا۔ وہ کوئی فلاحی مرکز تو نہیں چلا رہا۔ یہ بات تو میر شکیل نے سپریم کورٹ میں صحافیوں کو صاف الفاظ میں کہی تھی کہ وہ صحافت نہیں کاروبار کررہے ہیں۔ طلعت حسین صاحب سے گزارش ہے کہ آپ کو اگر سچ بولنے کی سزا ملی تو سلیم صافی عمران خان کا بھانجا یا فوج کا بھتیجا تو نہیں ہے۔ وہ آج بھی اپنے پرانے طرز پر ویسا ہی پروگرام کررہے ہیں۔

میر شکیل نے جب جیو نیوز کا آغاز کیا تو اسلام آباد میں صرف کتنا عملہ رکھا گیا تھا، اور آج جیو نیوز کے صرف اسلام آباد میں کام کرتے لوگوں کی تعداد کتنی ہے۔ یقیناً کل کے آدھ سے بھی کم۔ اب بھی اس لمحے میر صاحب اس بات پر پریشان ہونگے کہ بدلتے وقت کہ ساتھ ایسا کونسا رخ اختیار کروں کہ 2002 کا عروج واپس آجائے۔

سیٹھوں میں سے کوئی ایک اس نئے ٹرینڈ کی شروعات کرنے ہی والا ہے جس کو باقی سب فالو کریں گے۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس نئے ٹرینڈ کی کامیابی کی شرح کیا ہوگی۔ ایسا وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے کیا جائے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹیلیویژن کے دفاتر بھی اب اخبار کے دفاتر کی طرح بہت جلد ویران ہونے والے ہیں۔

یہ بات ہوا میں بالکل بھی نہیں ہے، آئیے اس بات کا جائزہ ایک بین الاقوامی مثال سے لیتے ہیں۔ کلچرل شاک کے عنوان سے 22 صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی مقالے میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے حوالے سے اس بحث کا آغاز 2010 میں ہی کردیا جاتا ہے کہ بدلتے وقت میں عوام کی بدلتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا راستہ اختیار کیا جانا چاہیئے۔ انٹرنیٹ کی اہمیت کا ادراک اس مقالے کی سب سے مرکزی چیز ہے۔ بی بی سی کے ڈویلپمنٹ ہیڈ سائمن اینڈرویوس کہتے ہیں کہ ٹی وی پر خبریں دیکھنے والوں میں ایک طویل المدتی بحران دیکھا جاسکتا ہے۔ ‘ یہ رجحان دن بدن کم ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کا ٹیلیویژن نیٹورکس پر کافی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ یہی نہیں ہم اپنے دیکھنے والوں کو جس تیزی سے کھو رہے ہیں ان میں زیادہ بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ نوجوان تو جیسے سبھی ٹی وی دیکھنا چھوڑ چکے ہیں۔ وہ ٹی وی میں بالکل بھی مائل نظر نہیں آتے۔ تو اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم بی بی سی کے لگاتار چلنے والے بلیٹنز میں کیا دکھا رہے ہیں اور کیا نہیں۔’

ٹیلی ویژن ریگولیٹری Ofcom کی ایک ریسرچ کے مطابق 55 فیصد لوگ اب خبروں میں پہلے کی نسبت ویسی دلچسپی نہیں رکھتے۔ 32 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ ٹی وی صرف تب دیکھتے ہیں جب کوئی بڑا ایونٹ وقوع پذیر ہوا ہو۔ اس تناظر میں بی بی سی جب شروع ہوا تھا، تب سے اب تک کی ڈاؤن سائزنگ پر کوئی تحقیق سامنے لے آئے۔ یقینی طور پر بی بی سی میں کام کرنے والوں کی تعداد بھی نصف سے کم ہی ہوگی۔ ایک دور وہ بھی تھا کہ بی بی سی نے جنگل میں اکیلے ہی راج کیا۔ لیکن جب مقابلے میں اور بھی شیر آگئے تو اس بحث کا آغاز ہوچکا تھا کہ کم لوگوں کی فوج کے ساتھ زیادہ بہتر کیسے لڑائی جیتی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب کنزیومرازم کا ہر فارمولا ناکام بناتے کنزیومرز نے براڈکاسٹ انڈسٹری کو ایک نئے تو نہیں، مگر عجیب سے امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔

دنیا بھر میں چلنے والے میڈیا چینل بھی یقیناً اسی مشکل سے مگر مختلف کیفیات میں، گزر رہے ہونگے۔ پاکستان میں چونکہ انڈسٹری کا انحصار تقریباً ہی ریاستی مشینری پر عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے تو یہاں شور بھی اسی حساب سے زیادہ ہے۔ مگر اس مسئلے کو تکنیکی اعتبار سے جب تک نہیں سمجھا اور بتایا جائے گا حقیقت ہم سے کوسوں دور رہیں گے ۔

متعلقہ مضامین