رہائی یا قید !

فیاض محمود

‘‘پتہ نہیں رہائی لینے آیا ہوں یا پھر قید’’
یہ وہ الفاظ تھے جو سابق وزیراعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں داخل ہوتے ہی ادا کیے۔ سلام دعا کے بعد وہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ بائیں ہاتھ پر کھڑے پرویز رشید کی آنکھیں نم ہوچکی تھیں۔ مریم اورنگزیب بھی اداسی میں گھری لگ رہی تھیں۔ نواز شریف احتساب عدالت میں موجود تھے اب بس انتظار تھا اس فیصلے کا جو کچھ دیر میں سنایا جانا تھا۔ اگلے ہی لمحے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو نواز شریف سمیت سب انکے احترام میں کھڑے ہوئے۔ وہاں پر موجود وکیل صاحب نے تلاوت قرآن پاک اور بلند آواز میں کہا جج صاحب آپ کو اللہ نے بڑے منصب پرفائز کیا اللہ آپ کو حق پر مبنی فیصلہ کرنے کی توفیق دے تو کمرہ عدالت امین سے گونج اٹھا۔ خواجہ حارث روسٹرم پر آگئے۔ عام دنوں میں جج ارشد ملک بڑے اچھے موڈ میں دکھائی دیتے تھے بلکہ مزاحیہ واقعات سنا کر ماحول کو خوشگوار بنانے میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ وہ سنجیدہ بلکہ تھوڑے کھینچے کھیچنے دکھائی دے رہے تھے۔ خواجہ حارث کی طرف متوجہ ہوئے اور فیصلہ سنانا شروع کردیا۔ انہوں نے سب سے پہلے فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ سنانا شروع کیا۔ اس وقت کمرہ عدالت پر سکوت طاری ہوچکا تھا اور ہر کوئی بآسانی فیصلہ سن سکتا تھا۔ جج صاھب نے کہا آپ کیخلاف دو ریفرنس ہیں۔ فلیگ شپ میں آپ کے خلاف ثبوت نہیں آئے اس لیے آپ کو بری کرتا ہوں۔ ابھی یہ الفاظ بولے تھے کہ لیگی رہنماوں کے چہرے کھل اٹھے۔ اگلے ہی لمحے جج ارشد ملک نے کہا کیونکہ العزیزیہ میں بارثبوت نواز شریف پر منتقل ہوچکا ہے تو عدالت ان کو سات سال قید بامشقت کا حکم سناتی ہے۔ جج صاحب نے جب سزا سنائی تو ایک لمحے کے لیے ان کی آواز لرز گئی۔ نواز شریف اپنی نشست پر موجود تھے۔ سزا سنائی جاچکی تھی۔ خاور اکرام بھٹی سسکیاں لیکر رو رہے تھے۔ وہ آگے بڑھے اور انہوں نے نواز شریف کا ہاتھ چوم کر زاروقطار رونا شروع کردیا نواز شریف نے انہیں حوصلہ دیا۔ جہانگیر جدون نے سابق وزیراعظم کو فیصلے سے متعلق بتایا تو نواز شریف خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔ اس وقت لیگی رہنماوں کے چہروں پر سنجیدگی اور پریشانی عیاں تھی۔ ایک ایک کرکے سب آئے اور نواز شریف سے مل کر افسوس کا اظہار کرنے لگے۔نواز شریف کی درخواست پر جج ارشد ملک نے لاہور جیل منتقل کرنے کا فیصلہ سنایا جب وہ ریڈر کو فیصلہ لکھوا رہے تھے تو تب بھی یوں لگا جیسے آج انہیں ایک ایک لفظ لکھانا مشکل لگ رہا ہے۔ وہ فیصلہ کرکے چلے گئے ۔ نواز شریف ہمارے ساتھ گفتگو کرنے لگے۔ شعر پڑھے اور پرانے گانوں کے شعر سنا کر دل کی بھڑاس نکالی۔ ہم نے پوچھا آپ فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں تو بولے میرا ضمیر مطمئن ہے میں نے کوئی کرپشن نہیں کی نہ کک بیکس لیں اپنا فیصلہ اللہ کی عدالت پر چھوڑتا ہوں۔ نواز شریف بولتے جارہے تھے اور ہم لکھتے جارہے تھے۔ پچھلی نشست پر بیٹھے حمزہ شہباز پر نظر پڑی ان کی آنکھوں سے آںسو بہہ رہے تھے۔ اگلے ہی لمحے اسسٹنٹ کمشنر آگے بڑھے اور کہا سر چلیں گاڑی تیار ہے۔ نواز شریف نے پوچھا کیا لاہور جارہے ہیں تو انہوں نے بتایا نہیں اڈیالہ جیل جانا ہے۔ نواز شریف نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا وہ گاڑی میں نہیں بیٹھیں گے کیونکہ انہیں لاہور منتقل کرنے کا حکم ہوا ہے۔ ساتھ کھڑے دوست نے کہا وقت وقت کی بات ہے کل یہی افسر احسن اقبال کے ماتحت تھا آج ان کی موجودگی میں نواز شریف کو جیل لیجانے کا حکم دے رہا ہے۔ بے بسی کی تصویر بنے نواز شریف نے کچھ دیر مزاحمت کی پھر خواجہ حارث کے کہنے پر ساتھ جانے کو تیار ہوگئے۔ وقت گزار تو ماحول تھوڑا ریلیکس ہوا۔ لیگی رہنما اب نارمل ہوچکے تھے۔ کچھ تو فیصلے کا مذاق اڑا کر دل ہلکا کررہے تھے۔ کچھ رہنماوں کے چہرے کی ہنسی واپس لوٹ آئی تھی لیکن حمزہ شہباز بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے اور نواز شریف کی طرف سے ملنے والی ہدایات پر ہاں کیے جارہے تھے۔ نواز شریف اٹھے وہاں پر موجود ہر کسی سے سلام لیا ، مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ۔ نواز شریف سیکورٹی اہلکاروں سے بھی ملے حتی کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نیب کے تفتیشی افسر نواز شریف جس گیٹ سے آزاد شہری کی طرح داخل ہو کر کمرہ عدالت تک پہنچے تھے وہاں سے واپس نہ آسکے، باہر کھڑے ایک اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر لیگی رہنماوں اور کارکنوں کی میڈیا نمائندگان سے پتہ چلا میاں صاحب کو گرفتار کر کے عقبی دروازے سے جیل بھیج دیا گیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے