علی عابدی کا قتل

رات کے کھانے سے فراغت پاکررضائی میں لپٹا کتاب پڑھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ کسی نامعلوم فرد کی جانب سے واٹس ایپ کے ذریعے ایک خبر بھجی گئی تھی۔ دیکھا تو اعتبار نہیں آیا ۔ ٹویٹر سے رجوع کیا ۔ تصدیق ہوگئی کہ سید علی رضا عابدی کو کراچی میں ان کے گھر کے باہر گولیوں مار کر قتل کر دیا گیا ہے ۔ قاتل ممکنہ طور پر ایک موٹرسائیکل پر آئے تھے۔اپنے ہدف کا شکار کرنے کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ۔ یہ کالم لکھنے تک ان کی شناخت نہیں ہو پائی تھی۔

ٹویٹر پر علی رضا عابدی کی خوبیاں گنوانے والوں کا ہجوم تھا۔ سیاسی، مسلکی اور لسانی تقسیم سے بالاتر ہو کر ہمارے معاشرے کے کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمایاں ترین افراد نے ان سے محبت کا اعتراف کیا ۔ کسی کے غم میں ایسی یکسوئی اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے آج کے پاکستان میں شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ اسے دیکھ کر یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ علی رضا عابدی کا قتل محض ایک فرد کی اندوہناک ہلاکت نہیں بلکہ اُمید مٹانے کی کوشش ہے۔ لوگوں کو اپنی محبت سے جوڑنے والے عابدی کی صورت میں موجود امکانات کی بھرپور علامت کو قتل کرکے ایک وحشیانہ پیغام دیا گیا ہے ۔ برس یاد نہیں رہا ۔ شاید 2011 کا واقعہ ہے ۔ کسی صحافیانہ غرض سے مشتاق منہاس کے ساتھ کراچی گیا ہوا تھا۔ میں اس شہر سے اپنے آبائی لاہور سے زیادہ شناسا ہوں۔ میرے ساتھ اس شہر میں گئے دوست وہاں میرے ساتھ ہوں تو کمانڈ اینڈ کنٹرول مجھے سونپ دیا جاتا ہے اور میں اسے اپنے ایک مرحوم دوست کے حوالے کر دیا کرتا تھا جو رنچھوڑ لین سے اٹھا ایک پکا کراچی والا تھا ۔

اس نے ’’بریانی آف دی سیز‘‘ نامی ایک ریستوران کا ذکر کیا ۔ اس کی اطلاع کے مطابق اسے ایم کیو ایم کے رہ نما حیدر عباس رضوی کے ایک قریبی عزیز نے متعارف کروایا تھا۔ وہاں کے کھانے کی بہت تعریف کی۔ان دنوں میں ایم کیو ایم کے خلاف ٹی وی سکرین پر ضرورت سے زیادہ شعلہ بیانی میں مصروف تھا۔ غچہ دینے کی کوشش کی۔مشتاق منہاس کے باعث تیار ہوگیا۔بریانی کا مجھے شوق نہیں۔ سالن والی مچھلی طلب کی۔ پہلے لقمے کے بعد ہی اپنی ماں کا بنایا سالن یاد آگیا۔ویٹر کو بلاکر ایک اور پلیٹ کا آرڈر کردیا۔دریں اثناء 30برس کے دِکھتے ایک نوجوان نے بہت پیار سے نصرت بھائی پکارتے ہوئے کاندھے پر شفقت بھراہاتھ رکھا۔میں کرسی سے اُٹھا۔ گلے لگانے کے بعد معلوم ہوا کہ موصوف کا نام علی رضاعابدی ہے۔ کراچی کے کامرس کالج سے امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی گیا تھا۔ وہاں سے لوٹنے کے بعد یہ ریستوران بنایا۔پڑھے لکھے نوجوانوںکی جانب سے کسی ریستوران کو چلانا میری دانست میں محض دولت کمانے کی خواہش نہیں ہوتا۔ اس دھندے سے محض روزگار کے بندوبست کے بجائے وہ ثقافتی حوالوں سے ایک Spaceمہیا کررہے ہوتے ہیں جہاں لوگ اپنی فیملی اور دوستوں کے ہمراہ آئیں۔ ایم کیوایم سے وابستہ ایک پڑھے لکھے نوجوان کی جانب سے اس ریستوران کا قیام کئی حوالوں سے یہ پیغام دے رہا تھا کہ وہ اپنے شہر کی وحشت سے جڑی شہرت کے متبادل Spaceبنارہا ہے۔اپنے شہر میں امن کی بحالی اور رونق کی تمنا کا اظہار وہ کسی اور کاروبار چلانے کے ذریعے کر ہی نہیں سکتا تھا۔

2013میں وہ قومی اسمبلی کا کراچی سے رکن بھی منتخب ہوگیا۔ اس کے اسلام آباد پہنچنے کے چند ہی ماہ بعد ایم کیو ایم کی صفوں میں ابتری پھیل گئی۔ ان دنوں میں باقاعدگی سے روزانہ قومی اسمبلی کی عمارت میں نہیں جاتا تھا۔جب بھی گیا تو کوشش رہی کہ علی رضا عابدی سے ملاقات ہو۔ اکثر راہداریوں میں ملاقات ہوجاتی۔ بدترین حالات میں بھی اس کا لہجہ دھیما اور بے تحاشہ مہذب رہا۔آنکھیں میچ کر ہونٹوں پر مستقل رقص کرتی مسکراہٹ کے ساتھ وہ تلخ ترین سوالات کا ڈنک نکال لیتا۔میں دِق ہوکر ہمیشہ یہ اصرار کرنے کی جانب اپنی گفتگو کا رُخ کرلیتا کہ وہ مجھے بھی اسلام آباد میں کوئی وکھری نوعیت کا ریستوران قائم کرنے کے ضمن میں ’’استاد‘‘ کا کردار ادا کرے۔’’آپ صحافت چھوڑ نہیں پائیں گے‘‘ وہ عاجزی سے طے کردیتا اور ہم گلے مل کر جدا ہوجاتے۔

بے پناہ پیارومحبت کی اس مجسم علامت کے قتل نے مجھے بوکھلا دیا ہے۔ رات بھر نیند نہیں آئی۔کئی سوالات ذہن میں اُبلتے رہے۔ خوفِ فسادخلق سے ان سوالوں کا ذکر نہیں ہوسکتا۔ وحشت کی ایک نئی لہر مگر کراچی میں ا بھرتی ہوئی ضرورنظر آرہی ہے۔

چندہی روز قبل ایم کیو ایم سے جدا ہوکر بنی ایک تنظیم کے دفتر پر حملہ ہوا تھا۔وہاں میلادکی تقریب تھی۔ دو نوجوان کارکن ہلاک ہوئے۔ عابدی ایم کیو ایم پاکستان سے عملی اعتبار سے وابستہ نہیں رہے تھے۔ کئی لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ مرحوم کی ہمدردیاں شاید ’’لندن والوں‘‘ کے ساتھ ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو ’’جوابی وار‘‘ بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔اگرچہ اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا کہ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی خواہش رکھنے والوں نے اس کے مسلک کو نگاہ میں رکھا ہوگا۔گزشتہ چند دنوں سے عابدی ٹویٹر پر بہت متحرک تھے۔ٹویٹر پر لکھے ان کے پیغامات مگر اس امر کی واضح نشان دہی کررہے تھے کہ وہ خود کو محض ایم کیو ایم سے مختص سوچ سے وابستہ نہیں رکھے ہوئے تھے۔بہت تواتر سے بلکہ وہ موجودہ صورت حال میں یک جماعتی آمریت کو مسلط کرنے کی خواہش دریافت کررہے تھے اور اس تمنا کا اظہار کہ سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر ملک میں سوپھولوں کو اپنی مہکاردکھانے کی خواہش مند خواتین وحضرات اجتماعی مزاحمت کی کوئی صورت بناپائیں۔

اس ضمن میں یقینا انہوں نے کوئی لائحہ عمل بھی اپنے ذہن میں طے کررکھا تھا۔ شاید اسی کے اظہار کے لئے وہ ٹیلی وژن کی سکرین کو استعمال کرنا چاہ رہے تھے۔ قاتلوں نے مگر مہلت نہ دی اور ہم ایک ایسے شخص کی لگن اور ذہانت سے محروم ہوگئے جو لوگوں کو محبت سے جوڑنا چاہ رہا تھا۔اس ملک کے ہر شہر میں ایسی Spacesقائم کرنے کا خواہاں تھے جہاں افراد اپنے خاندان اور دوستوں سمیت اطمینان سے بیٹھ کر زندگی کی لطافتوں سے لطف اندوز ہوسکیں۔عابدی جیسے ذہین اور خوش گوار مستقبل کی راہیں بنانے والے نوجوانوں کا قتل کسی بھی معاشرے کے لئے بدبختی کا پیغام ہوتا ہے۔ میں فقط ’’کب ٹھہرے گا دردِ دل-کب رات بسر ہوگی‘‘والا سوال ہی دہراسکتا ہوں۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے