کیا آپ بھی جہیز لیتے ہیں؟

وقار حیدر

اگر آپ بھی جہیز لیتے ہیں تو پھر یہ تحریر نہ پڑھیں ۔

ہم اور تقریبا ہم سب بلکہ چھوڑئیے ہم سب کے گھروں کی بات کرتے ہیں، ہماری تہذیب و تمدن کے قصے کو خیر پہلے سے ہی سربازار آ چکے ہیں ۔ کبھی غیرت کے نام پر قتل ، کہیں بچیوں کو نوچتے خونخواربھیڑیوں کی شکل میں اسی معاشرے کے نوجوان اور تو اور بچوں کو مسجدوں میں پیار نہیں مار کا درس پڑھانے والے کچھ داڑھی والے لوگ اور باقی رہ جاتے ہیں ۔ مدرسوں میں لمبی داڑھوں والے حوس پرست ، جن سے نہ تو بچیاں بچ پاتی ہیں اور نہ ہی کم سن بچے ،انکومولوی اور قاری اس لیے بھی لکھنا غلط ہے کہ اس مقدس پیشے سے کھلواڑ سب نہیں کچھ افراد کر رہے ہیں ۔

خیر یہ سب تو چل ہی رہا ہے ۔ کردار سازی میں ہمارا معاشرہ اتنا اونچے درجے کا نیچے گرا ہوا کہ پناہ بخدا! معاشرہ میں دوقسم کے افراد ہیں خاص کر مسلمان ممالک میں ۔ اپنی بیٹیوں کو بیاہنے کیلئے اچھے لڑکے کی خواہش تقریبا تمام والدین کو ہی ہوتی ہے لیکن اچھے لڑکے کی تعریف ہرکسی کی مختلف ہوتی ہے ۔ کہیں لڑکا امیر کبیر ہو تو اچھا ، کہیں گورنمنٹ کی نوکری ہوتو اچھا ،کوئی لڑکا اپنی بیوی کو الگ گھرمیں رکھے تو اچھا ،اور باقی کچھ لوگوں کیلئے اچھے کامطلب ہوتا ہے لڑکا کتنے پیسے دیگا ہمیں تاکہ ہم اپنی بیٹی اسکو دیں ۔ جولوگ سعودی عرب میں وقت گزار چکے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں کے رشتے شہر کے حساب سے مہنگے اور سستے ہوتے ہیں، بڑے شہروں میں لڑکیوں کے مہنگے داموں رشتے ہوتے ہیں اور چھوٹے شہروں کے قدرے سستے ہو جاتے ہیں۔

ملک خداد ،وطن عزیر میں رسم اس سے کچھ الٹی ہے ، یوں کہہ لیجئے یہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ یہاں جب لڑکی بیاہنے کی بات چلتی ہے تو بہت سے باعزت و باشرف خانداوں کی رالیں ٹپکنے لگتی ہیں ، یہ رال لڑکی کیلئے نہیں اسکے ساتھ آنے والے جہیز کیلئے ٹپک رہی ہوتی ہیں ،انکی لڑکی سے تو کچھ خاص لینا دینا نہیں ہوتے ہاں جہیز کی بات ضرور کرتے ہیں اوریقین مانیئے بچی کے گھر سے بھیک مانگنے والے یہ افراد اتنے مطمئن ہوکر مانگ رہے ہوتے جیسے اپنا حق مانگ رہے ہیں۔

ایک تو گھر والے اپنی بچی کو پال پوس کر پڑھا لکھا کر کام کاج سمجھا کر بڑا کرتے ہیں اور جب بیاہ کی باری آتی ہے تب بھی یہ گھر والے اپنی بچی کو باہم سہولت پہنچانے کیلئے جو جتن کرتے ہیں یہ تو بچی کے والدین ہی جانتے ہیں ۔ اپنی بیٹی بھی دیتے ہیں ساتھ اسکو زندگی بھر کیلئے اشیاء ضروریہ بھی مہیا کرتے ہیں اور یہ جہیز لینے والے لٹیرے اتنی ڈھٹائی سے سب لے رہے ہوتے کہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ انکی اپنی بھی بیٹیاں ہیں ، اوریہ جو داڑھی اوربغیر داڑھی والے میرے ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بھی اتنے سیدھے سادھے بنے پھرتے ہیں کہ اپنے محترم والدین کی غیر مہذیب ڈیمانڈز پر ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکالتے ، الٹا کچھ تو ایسے ہوتے کہ کہہ رہے ہوتے ہمیں پیسے دے دیجئے ہم اپنی پسند کی چیزیں خود خرید کر لیں گے

معذرت کیساتھ اگلا حصہ یہ جہیز لینے والے نوجوان نہ ہی پڑھیں تو اچھا ہے ! جس بے شرمی اور نامردگی سے یہ جہیز لیتے ہیں کیا انکو حیا نہیں آتی ، کیا ان میں شرم نہیں ہوتی، کیا ان میں احساس نام کی چیز رتی برابر بھی نہیں ہوتی ، اس پرلے درجے کی بیغیرتی پر خوش ہوکر یہ اپنے دام وصول کر رہے ہوتے ہیں ، یہاں لڑکے والے خود اپنے برخوردار کا ریٹ لگا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا بیٹا اتنے کا ملے گا آپکو خرید سکتے ہیں تو خرید لیجئے، قیمت لگتی ہے کہ یہ خاندان اتنے میں سودے بازی کر لیتا ہے ۔ پہلے انسانوں کی قدر ہوتی تھی اور اس زمرے میں آنے والے ہر طبقہ کی قدر نہیں قیمت ہوتی ہے لیکن اب قیمت لگتی ہے، سب بکاؤ مال ، جو اچھی بولی لگائے گا یہ اسی کے پاس بک جائیں گے۔ معذرت یہ میں نہیں کہہ رہا جہیز دینے والے خاندان اور وہ لڑکی کہ رہی ہے جو ایسے گبھرو نوجوانوں کی قیمت ادا کر چکے ہیں ۔ اور حد تو یہ ہے کہ بعض اوقات جب بات بگڑ جاتی ہے اور میاں بیوی اپنی راہیں جدا کر لیتے ہیں تو بیٹی والے اپنا سامان اٹھا لیتے ہیں ۔ پھر یہ جہیز لینے والے اسی کمرے میں ایک چارپائی پر گہری نیند سوتے نظر آتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے