احتساب عدالت سے کچھ یادیں

فیاض محمود

کہیں زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑے افراد کی قطاریں تو کبھی خطرناک دہشتگردوں کی کڑی سکیورٹی میں پیشیاں ، عدالتی دروازوں پر ملزمان کے نام پکارتے ہرکارے اور کہیں بغل میں فائلیں دبائے سگریٹ کے دھوئیں سے چھلے اڑاتے وکلا، حوالات کے روشن دانوں سے آزاد فضاوں کو گھورتے قیدی اور انہیں جھڑکتے باوردی اہلکار، اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں ہرروز یہی منظر ہوتاہے ۔کوئی بھی شخص پہلی بار یہاں جائے تو یقینا ڈرا ڈرا، سہما سہما محسوس کرے گا کہ فضا ہی ایسی ہے ۔ اپنا حساب مگر اب الگ ہے اس کمپلیکس کی فضاوں سے کچھ اور ہی طرح کا رومان جڑا ہے، اس عمارت میں اب ایسی ان گنت یادیں قید ہیں جو شاید تاعمر ہمیں بھی اپنے حصار میں رکھیں۔ زندگی کیا خبر کب کہاں لے جائے ، آنے والے وقت میں ہم دنیا کی بھول بھلیوں میں کھو جائیں کہ یہی دستور دنیا ہے مگر اس کمپلیکس میں ڈیڑھ سال تک گونجتی دوستوں کی قلقاریاں یادوں کا قیمتی سرمایہ رہیں گی ۔

یہ شریف خاندان کے خلاف پندرہ ماہ تک جاری رہنے والے عدالتی ٹرائل سے جنم لیتی کہانیاں، رشتے ، دوستیاں اور قصے ہیں ۔سابق وزیراعظم کیخلاف تین ریفرنسز کا آغاز ہوا تو نواز شریف پر سیکورٹی خدشات کا دباو تھا اور ہم ’’مسنگ‘‘(یار لوگ اسے آلو بھی کہتے ہیں، یعنی کوئی خبر ایک چینل چلا دے اور آپ کے پاس نہ ہو) آنے کے دباو میں رہتے۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے جب ہمیں معلوم پڑا نواز شریف کی پہلی پیشی ہے۔ ڈرے سہمے نواز شریف اجنبی جگہ پر آن پہنچے۔ کمرہ عدالت میں انکے سیکورٹی گارڈز کا قبضہ تھا۔ سیلفیاں لی جارہی تھیں حتیٰ کہ انکے کیمرہ مین کیمرہ لیکر پہنچ گئے اور احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی ڈانٹ پرباہر جانے پر مجبور ہوئے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار سیکورٹی اہلکاروں کو نہ جانے کیا سوجھی اور ہمارے دوست عامر عباسی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ بس پھر جو گارڈ ہمارے ہاتھ آیا اس پر ہم نے بھی ہاتھ صاف کرلیے اور پیشی کا اختتام نواز شریف کیخلاف نعرہ بازی سے ہوا۔ ٹرائل کا آغاز ہورہا تھا تو اکثر لوگوں کی دوستی کی بنیاد بھی ڈالی جارہی تھی۔ کئی چہرے ایسے تھے جن کو شاید میں ٹرائل سے پہلے کبھی نہ ملا تھا۔ آج پندرہ ماہ بعد کوئی دن ایسا نہیں جب ان سے ملنے کو دل نہ چاہے۔ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چل رہا تھا اور میں یادوں کو سمیٹتا جارہا تھا۔ ایک ایسی پیشی آئی جب نوازشریف کو احتساب عدالت داخلے کی اجازت مل گئی مگر ہمیں سیکورٹی رسک قرار دیکر باہر کھڑا کردیا گیا۔ احتجاج کا فیصلہ ہوا۔ جاوید سومرو بھائی نے نعرہ لگایا بھائیوجمہوری دور میں ڈنڈے کھانے کو تیار ہو۔ہر طرف سے لبیک کی آواز گونجی مگر جب گیٹ پھلانگنے کا مرحلہ آیا تو وہ اکیلے بند گیٹ کے اوپر نظر آئے، ۔ نعیم اصغر جو ہر دلعزیز شخصیت ہیں انہیں جوش آیا اور وہ بھی جاوید سومرو کی تقلید میں جوڈیشل کمپلیکس کو فتح کرنے گیٹ پر چڑھ گئے مگر اسی دوران ان کا بیپر آگیا، یعنی ایکسپریس والوں نے انہیں لائن پر لے لیا۔ اب منظر کچھ یوں تھا، تمام سکرینوں پر جاوید سومرو اور نعیم اصغر کی پیٹھ دکھائی جارہی تھی اس لئے وہ پیچھے منہ کرنے کو تیار نہ تھے ، غالبا اس لئے کہ یہ کوئی اتنا خوبصورت منظر شاید نہ ہوتا اور اندر کودنا یوں ممکن نہ تھا کہ اس جانب رینجر اہلکار کھڑے تھے۔ شہادت لاکھ مطلوب و مقصود مومن سہی مگر ان دو ہستیوں نے وہیں گیٹ پر رہنا مناسب سمجھا۔۔ اوپر سے نعیم اصغر کے اینکر نے ان سے پہلا سوال ہی یہ پوچھا

نعیم یہ بتایئے گا یہ گیٹ پر کون لوگ چڑھے ہیں؟

نعیم بھائئ نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی جواب دیا

’’جی دیکھیں یہ سویلین لوگ ہیں‘‘

اس واقعے کے بعد نعیم بھائی کو سویلین کے نام سے بھی پکارا جاتا رہا۔۔ خیر گیٹ پھلانگ کر اندر جانے کا منصوبہ ناکام ہوا تو ایک غیر ارادری پلان بی حرکت میں آیا جس نے صحافت کے کئی شرفا کو یک جان ہو کر گیٹ کو ایسے اندر دھکیلتے دیکھا جیسے سردیوں کی صبح میں پرانی گاڑی کو دھکا لگایا جاتا ہے ۔ اس تازہ دم دستے کی قیادت سب کے پیارے بڈی اویس یوسفزئی کر رہے تھے۔ سما ٹی وی کے سہیل رشید رشید جن کا سب احترام کرتے ہیں، انہوں نے بڈی کو اس رنگ میں دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں مگر حیرتیں انتہا کو اس وقت پہنچیں جب دنیا ٹی وی کے عامر عباسی نے موبائل فون کے ساتھ اپنی تمام تر نفاست اور شرافت کو بھی تھوڑی دیر کے لئے جیب میں ڈالتے ہوئے اس دستے کا ہاتھ بٹانا شروع کیا ۔ باہر سے گیٹ اندر دھکیلا جارہا تھا تو اندر سے پولیس پارٹی باجماعت باہر کی جانب دھکا لگائے تھی ۔ ریاست کے چوتھے ستون کا یہ منظؓر سہیل رشید نے اپنے موبائل فون میں نہ صرف قید کیا بلکہ آج تک اس کی حفاظت بھی کر رہے ہیں، کئی بار میموری کارڈ بھر جانے کے باوجود اس ویڈیو کو ڈیلیٹ نہ کیا۔ احتجاجیوں کا احتجاج جاری تھا کہ موجودہ بیورو چیف 24 نیوز صغیر چوہدری بھی پہنچ گئے۔ یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے