500 ارب دیں کیس ختم، ملک ریاض کو آفر

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کو جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں ۵۰۰ ارب دے کر مقدمے سے جان چھڑانے کیلئے کہا ہے ۔ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں عدالت میں پیش ہو کر ملک ریاض نے کہا کہ میں سارا کچھ دینے کو تیار ہوں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے آپ کو ایک ہزار ارب کا کہا تھا، اب 500 ارب روپے دے دیں ہم آپ کو صاف کر دیتے ہیں ۔ ملک ریاض نے کہا کہ میں نے پورے 22 سالہ کیریئر میں ہزار یا گیارہ سو ارب کی سیل کی ہوگی، آپ حکم کریں گے تو ہم سیٹل کرنے کیلئے تیار ہیں ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ملک ریاض نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ میرے بیٹے علی ریاض والا گھر لے لیں، چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے کب آپ سے علی والا گھر مانگا؟۔ ملک ریاض نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ نے اس گھر کا ذکر کیا تھا ۔ آپ کو مزید جو لینا ہے بتا دیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ باغ قاسم کی زمین پر تجاوز کر کے قبضہ کر لیا ۔ ملک ریاض نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق وہ پلاٹ حاصل کیا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسی طریقے سے لیا گیا جیسے ملیر کی زمین حاصل کی گئی، سارا کچھ ملی بھگت سے کیا گیا، محکمہ مال اور دیگر اعلی عہدیدار ملے ہوئے تھے ۔

ملک ریاض نے کہا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس ملک کو چلاتے رہے ہیں، حکومتیں بناتے اور گراتے رہے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ملک ریاض نے کہا کہ میں نے اس ملک کو کبھی نہیں چلایا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کتنے ارب آپ کو اپنی بقیہ زندگی کیلئے چاہئیں؟ وہ لے لیں اور باقی اس ملک کو چھوڑ دیں ۔

ملک ریاض کے وکیل خواجہ طارق رحیم (سابق گورنر پنجاب) نے عدالت میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ باغ قاسم کی زمین قانون اور قواعد کے مطابق حاصل کی، اس پر بنائے گئے دونوں ٹاورز تمام قوانین پر عمل کرتے ہوئے بنائے گئے، غیر قانونی ہونے کی جے آئی ٹی کی رپورٹ سراسر غلط ہے ۔ ملک ریاض بولے کہ میں نے اس ملک کو 67 منزلہ بلڈنگ دی ہے، یہ دونوں ٹاور بلند ترین ملکی عمارت ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ باغ قاسم ہو، ملیر کی زمین ہو، تخت پڑی راولپنڈی ہو، بحریہ انکلیو ہو، ہنڈی کا کام ہو، جہاں ہاتھ ڈالتے ہیں وہاں ملک ریاض نکلتا ہے ۔ ملک ریاض نے کہا کہ میں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملیر کی زمین پر اسی طرح بحریہ بنایا، ہم نے دیکھا کہ حکومت کے تمام اہم آپ سے ملے ہوئے تھے ۔

ملک ریاض کے وکیل طارق رحیم نے کہا کہ پلاٹ ہم نے بہت پہلے لیا تھا، 1980 میں زرداری کہاں تھا؟ وہ تو بمبینو سینما چلاتا تھا ۔ چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ زیادہ جذباتی نہ ہوں، ریاض سے پوچھ لیں یہ 1984 میں کہاں تھا ۔ اس نے پہیے لگائے، میں بتا دوں کہ اس کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہوں، میں نے ایک ہزار ارب کہا تھا، آپ 500 ارب دیدیں، میں عمل درآمد بنچ کو کہہ دوں گا، بلکہ خود عمل درآمد بنچ میں بیٹھ کر سن لوں گا ۔

ملک ریاض نے دوبارہ اپنے کارنامے گنوانے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، بحریہ کراچی کی بتیاں بند کیں، بحریہ کے ہزاروں ملازمین کو اکسا کر عدالت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ۔

جاری ہے

متعلقہ مضامین

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button