سندھ اسمبلی میں تبدیلی آ سکتی ہے؟

کراچی سے تجزیاتی رپورٹ: عبدالجبار ناصر

تحریک انصاف سندھ کے رہنمائوں نے دعویٰ کیاہے کہ سندھ میں حکومت کی تبدیلی یعنی وزیر اعلیٰ سندھ کے عدم اعتماد کے لئے عدد (ارکان کی تعداد)پورا ہے،بظاہرتحریک انصاف کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے، کیونکہ 168 رکنی ایوان میں حکومت تحریک انصاف اور اس کے اتحادی ارکان کی تعداد64 ہے ،جبکہ حکومت سازی کے لئے کم سے کم بھی 85 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد 99ہے اور گورنراج کے نفاذ کے لئے تحریک انصاف کو آئینی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ سندھ اسمبلی کے 168رکنی ایوان میں بنیادی طور پر تین گروپ ہے ،جن میں پہلا گروپ پیپلزپارٹی کا ہے جس کے ارکان کی تعداد 99 ہے ۔ دوسری گروپ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کا ہے جن کے ارکان کی تعداد64 ہے جن میں تحریک انصاف کے 30، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 20 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے) کے 14ارکان ہے۔ تیسرا گروپ ہے مذہبی جماعتوں کا جن کے 4 ارکان ہیں جن میں سے 3 ارکان کا تعلق تحریک لبیک پاکستان اور ایک رکن متحدہ مجلس عمل (ایم ایم ٓے)کا ہے۔ ایک نشست ایم کیوایم پاکستان کے ایک رکن محمد وجاحت کے انتقال کے باعث خالی ہے۔ موجودہ پوزیشن میں تحریک انصاف اوراس کے اتحادیوں کے پاس 64 ووٹ ہیں مگر ان کو حکومت سازی کے لئے 85ووٹ کی ضرورت ہے۔ اسی صورت میں تحریک انصاف کو مزید 21ارکان کی حمایت درکار ہے۔ایم ایم اے اور تحریک لبیک پاکستان نے تحریک انصاف کے کسی غیر جمہوری عمل میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر مذہبی جماعتوں کے 4ارکان بھی تحریک انصاف کی حمایت کریں تو اپوزیشن کی کل تعداد 68 بنتی ہے، پھر بھی اپوزیشن کو 17 ارکان کی حمایت درکار ہونگے۔ اپوزیشن کو یہ 17 ارکان پیپلزپارٹی سے ہی توڑنے پڑیں گے۔ مگر آئین کے آرٹیکل 63 الف(1) زیلی آرٹیکل ’’ب‘‘(دوم) کے تحت پارٹی سے منحرف ہوکر اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان پارٹی سربراہ کی شکایت کے بعد رکنیت کے لئے نا اہل ہوجاتے ہیں۔ کیا اتنی بڑی تعداد میں ارکان نا اہل ہونے کے لئے تیار ہونگے؟، وزیراعلیٰ کے خلاف اعتماد یا عدم اعتماد کے لئے اوپن رائے شماری ہوتی ہے ۔ اپوزیشن اگر عدم اعتماد پیش کرتی ہے تو 85 ارکان کا عدد پورا کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے، جو اپوزیشن کے لئے بہت بڑا ٹاسک ہوگا۔ تحریک انصاف کے پاس وزیر اعلیٰ سندھ کو ہٹانے کا دوسرا راستہ گورنر سندھ کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے ہدایت کرنا ہے ایسی صورت میں 85 ارکان کی تعداد وزیراعلیٰ کو پوری کرنی ہے، اس صورت میں کچھ ارکان غیر حاضر رہ کر پیپلزپارٹی کے لئے مشکل پیدا کرسکتے ہیں مگرپارٹی کی جانب سے ہدایت کے بعد غیر حاضر رہنے سے غیر حاضر ارکان کے لئے نا اہلی کی تلوار لٹکی رہے گی۔ تحریک انصاف کے پاس وزیر اعلیٰ سندھ کو ہٹا نے کا تیسرا راستہ گورنر راج کا نفاذ ہے،مگر آئین کے آرٹیکل 234(1)کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے الگ الگ سفارش ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف سندھ میں گورنر راج کے لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے سفارش حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی؟ اگر پہلے مرحلے میں تحریک انصاف دو ماہ کے لئے گورنر راج کے نٖفاذ کی منظوری کامیاب رہے تو کیا تو مزید دوماہ کے لئے پارلیمنٹ کی سفارش پر کامیابی ممکن ہوگی؟

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے