لیفٹیننٹ جنرل کو لے آئیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ زلزلہ متاثرین کیلئے بیرون ملک سے آنے والے فنڈ سے ایرا جیسا ایک اور طاقتور ادارہ بنا دیا، پیسہ بڑی گاڑیوں اور مراعات پر لگ گیا، بالاکوٹ میں حکومت نے کچھ نہ کیا، جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ نے اسپتال بنائے ۔ چیف جسٹس نے یہ بات سپریم کورٹ میں بالاکوٹ کے زلزلہ زدگان کے فنڈز میں خردبرد پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کی ۔ عدالت نے حکومت کو ایک ہفتے میں بالاکوٹ نیو سٹی منصوبہ مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دینے کی ہداہت کی ہے ۔

تین رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ زلزلہ زدگان بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ لوگ جو روز خیرات عطیات دیتے تھے خود کشکول لے کر مانگنے لگے، یہ قدرتی آفت تھی ۔ چیف جسٹس نے ایرا کے بریگیڈئیر سے پوچھا کہ ترقیاتی کاموں کیلئے آنے والا پیسہ کدھر ہے، زلزلہ متاثرین کیلئے آنے والا پیسہ قوم کی امانت تھی اس میں خیانت کی گئی، یہ خیانت سرکار اور ریاست نے کی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی آبادکاری کیلئے اب تک حکومت نے کیا اقدامات کیے، میں آج کی حکومت کی بات نہیں کر رہا، وزیراعظم خود جاکر دیکھیں زلزلہ زدگان کس حالت میں رہ رہے ہیں، اتنی سردی اور برف کے موسم میں ٹین کی چھت تلے لوگ زندگی گزار رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کے پی حکومت تو بڑا فخر کرتی رہی لیکن کوئی سکول اور اسپتال نہیں کھولا گیا، کے پی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، جہاں کچھ نہ کرنا ہو وہاں کمیٹی بنا دی جاتی ہے، کمیٹیاں کھانے کے لیے بنائی جاتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیشن جج مانسہرہ نے بالاکوٹ سٹی پراجیکٹ پر بہترین رپورٹ بنا کر دی جو ہم نے وزیراعظم کو بھیجی لیکن کچھ نہیں ہوا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ زلزلہ متاثرین کا فنڈ ملتان میٹرو اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دے دیا گیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا تو متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کروں گا، ڈیم سمیت کسی بھی عدالتی حکم پر عمل نہ کیا تو احتجاج میں شامل ہوں گا ۔ عدالت کے پوچھنے پر خیبرپختونخوا کے وکیل نے بتایا کہ آپ کے بالاکوٹ دورے کے بعد بہت سی زمین واگزار کرائی اور تنازعات حل کئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب کچھ میرے کرنے کے بعد کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ میں جوڈیشل ایکٹویسٹ ہوں، جب ایک کام کرنا تھا اور نہیں ہوا تو ہم نے حکم دینا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بالاکوٹ میں حکومت نے کچھ نہیں کیا، جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ نے اسپتال بنائے ۔ عدالت کے پوچھنے پر سیکرٹری خزانہ عارف خان نے بتایا کہ اس سال ترقیاتی فنڈ میں زلزلہ متاثرین کے منصوبوں کیلئے ساڑھے آٹھ ارب مختص کئے گئے تھے مگر بعد میں کٹوٹی کر دی گئی ہے تو اب یہ رقم سات ارب بیس کروڑ روپے ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں وزیراعظم کا جواب چاہیے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں ایک ہفتے کا وقت درکار ہے، گزشتہ رات ہی وزیراعظم کو بتایا ان کے علم میں نہیں تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اتنے عرصے سے مقدمہ چل رہا ہے کمال ہے وزیراعظم کو کل پتہ چلا، جس صوبے نے سب سے زیادہ محبت دی اس کے مسائل کا وزیر اعظم کو پتہ ہی نہیں ۔ درخواست گزار زلزلہ متاثرہ نے کہا کہ اگر عمران خان کے دل میں ہمارا درد ہوتا تو وہ شوگراں گئے تھے بالاکوٹ آ کر ہمارا حال بھی دیکھ لیتے لیکن سیاسیوں سے ہمیں کوئی توقع نہیں ۔

ایرا کے بریگیڈئیر نے عدالت کو بتایا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر مختص شدہ پیسہ خرچ نہیں کیا جاسکا، قانونی معاملات آڑے آ گئے تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گیارہ سال میں ایرا نے کیا کیا وہی بتا دیں؟ کوئی ایک غسل خانہ ہی بنایا ہو تو دکھا دیں ۔ ایرا کو انچارج کون ہے؟ بریگیڈئیر نے جواب دیا کہ لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات سربراہ ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بلالیں لیفٹیننٹ جنرل کو، جی ایچ کیو میں کہاں بیٹھتے ہیں ۔

بریگیڈئیر نے جواب دیا کہ وہ ایرا کے دفتر میں بیٹھتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لے آئیے ان کو دوپہر کے بعد، پھر کہا  کہ پیر کو لے آئیں ۔ عدالت نے ایرا سے گیارہ سالوں میں زلزلہ زدگان کے لیے مکمل کئے منصوبوں کی تفصیلات جمع کرانے کیلئے کہا ہے، سپریم کورٹ نے زلزلہ زدگان کے لیے دی گئی امداد دوسرے پراجیکٹ میں منتقل کرنے سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے