چھ سال بعد لڑکیوں کے قتل کا اعتراف

سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے تین کمیشنوں کے سامنے جعلی لڑکیاں پیش کرنے کے بعد بالآخر پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ کوہستان کی ڈانس ویڈیو میں دکھائی گئی پانچ میں سے تین لڑکیاں قتل کی جا چکی ہیں ۔ عدالت عظمی میں خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 9 ملزمان کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور عبوری چالان بھی جمع کرا دیا گیا ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ کے سامنے رپورٹ پیش کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تین لڑکیوں کو قتل کیا گیا تھا اس کی تصدیق ہو چکی ہے، 9 ملزمان کو چالان میں نامزد کردیا گیا ہے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ عدالت نے تین کمیشن مقرر کئے تھے ان کی کیا رپورٹ تھی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق درخواست گزار افضل کوہستانی کے وکیل اظہر رشید نے بتایا کہ کمیشن کے سامنے جعلی لڑکیاں پیش کرکے کہا گیا کہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا، اب جس ملزم شمس الدین پر سارا ملبہ گرایا گیا کہ اس نے لڑکیوں کو فارئرنگ کر کے قتل کیا اور پل سے نیچے نالے میں پھینک دیا جس کی وجہ سے نعشیں نہ مل سکیں، وہ ملزم مارا جا چکا ہے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ایک کمیشن میں فرزانہ باری کو بھی شامل کیا گیا تھا ان کی کیا رائے تھی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے بتایا کہ فرزانہ باری نے سرکاری رپورٹ سے اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ پیش کی گئی لڑکیاں وہ نہیں جو ویڈیو میں نظر آ رہی ہیں، وکیل نے استدعا کی کہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی شق شامل کی جائے اور ٹرائل کو ایبٹ آباد کی عدالت میں منتقل کی جائے کیونکہ درخواست گزار افضل کوہستانی کی جان کو خطرہ ہے ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ مقدمہ ایبٹ آباد منتقل کرنے کیلئے پشاور ہائیکورٹ کو درخواست دی جائے ۔ مقتولین کے لواحقین اگر چاہیں تو مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست بھی ہائی کورٹ میں دے سکتے ہیں ۔ اگر لواحقین سمجھیں کہ کسی مرحلے پر انصاف نہیں ہو رہا تو بنیادی انسانی حقوق کے تحت کیس کو سپریم کورٹ میں دوبارہ سننے کی استدعا کی جاسکتی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق
عدالت نے ملزمان کے خلاف دس روز میں حتمی چالان پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ازخود نوٹس نمٹا دیا ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے