پاکستانی صحافت کا مستقبل

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات سے جڑا پاکستانی صحافت کا مستقبل
مکتوب استنبول: عبدالشکور خان
پاکستان میں صحافت کے پیشے کی کمر میں تیر پیوست ہیں اور کمیں گاہ کی طرف دیکھیں تو اپنے ہی صحافی دوستوں سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے- میڈیا کو درپیش خطرات اور معاشی قتل عام کے عوامل کا جائزہ لیں تو ان میں ریاستی اداروں کی چیرہ دستیاب نمایاں ہیں مگرصحافتی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی مدد کے بغیر ایسا ممکن بھی نہیں- ۸ جنوری کو ہونے والے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات اور اس سے پہلے انتخابی مہم ریاستی بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ ایسی صحافتی بھیڑوں کے کردار کو بھی واضح کر رہے ہیں-
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاست کو اپنے تابع رکھنے کے خواہشمند طالع آزماؤں کا پہلاہدف ہمیشہ سے ہی آزاد صحافت اور اس تصور کی اہمیت سمھجنے والے صحافی رہے ہیں۔
صحافت کا گلا گھونٹنے کے لئے کوشاں ان ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا راستہ روکنا روشن ضمیر اور مخلص صحافیوں کا ہر دور میں وطیرہ رہا ہے۔ دوسری جانب اجتماعی کی بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دے کر غیر جمہوری قوتوں کا آلہ کار بننے والے صحافی نما مفاد پرستوں کی بھی کسی دور میں کمی نہیں رہی۔
موجودہ صورتحال کے پس منظر میں پاکستانی صحافیوں کی ماں کہلائی جانے والی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے) کی گزشتہ چند سالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو معاملہ سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ صحافیوں کے ماتھے کا جھومر سمجھی جانے والی اس تنظیم میں دھڑے بندی کرکہ اسے عضو معطل بنا دیا گیا۔ اس نقصان کے زمہ داروں کا تعین کیا جائے تو ان میں سے ایک صاحب اور ان کا مخصوص دھڑا آپ کو اس وقت بھی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سا لانہ انتخابات میں جوڑ توڑ اور ذاتی مفاد کا کھیل کھیلتے نظر آئیں گے۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ افضل بٹ صحافت پر شب خون مارنے والوں کے خلاف قومی سطح کی تحریک کا حصہ بننے کے بجائے چکری میں ایک مشکوک زمین کے سامنے کھڑے ہو کر نیشنل پریس کلب کے ووٹروں کو چکر دینے میں مصروف ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ بٹ صاحب اور ان کے دھڑے کی بے نیازیوں نے میڈیا ٹاون کی ایک خالصتاً انتظامی باڈی کے معاملات کو بھی پریس کلب کی سیاست سے اس طرح نتھی کر دیا ہے کہ اب وہاں رہائش پذیر غیر صحافتی عناصر بھی کبھی پس پردہ رہ کر اور کبھی کھل کر پریس کلب کے انتخابات پر اثر انداز ہو رہےہیں۔
ایک طاقتور میڈیا گروپ سے بھاری وظیفہ لینے کے بدلے سینکڑوں کی تعداد میں بے روزگار ہونے والے صحافیوں کے لئے صرف زبانی جمع خرچ اور چند نیم دلانہ احتجاجوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
افضل بٹ نے گزشتہ کئی سالوں کے دوران پی ایف یو جے کی سربراہی کا دعوی کرنے کے باوجود ہر اخلاقی معیار کو پس پشت ڈال کر نیشنل پریس کلب میں ایک دھڑے کی انتخابی مہم چلائی۔ دراصل موصوف کا یہ قدم بھی صحافت کے ایک بنیادی اصول "مفادات کے تصادم” سے بچنے کی خلاف ورزی ہے۔ اس سال افضل بٹ صاحب ایک مرتبہ پھر ” قائد صحافت” کا جعلی تاج پہنے نیشنل پریس کلب کے انتخابات کی سیاست میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ میرا ایک گلہ محترم شکیل انجم صاحب سے بھی ہے کہ تین سال قبل شاید وہ پریس کلب کی سیاست میں نووارد تھے اور تب انہیں افضل بٹ یا ان کے ساتھیوں کی ضرورت ہوگی لیکن کیا وہ ابھی تک ان کے سائے سے باہر نہیں آ پائے؟
خیر اگر افضل بٹ یا ان کا گروہ جرنلسٹ پینل کے اندرونی اتحاد کا کریڈ ٹ لیتا تھا تو ذاتی مفادات کی وہ ہنڈیا بھی اب بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔
صحافی ساتھیو۔ اًپ نے وہ مصرعہ تو سن رکھا ہو گا کہ "نیا جال لائے پرانے شکاری” لیکن اس مرتبہ نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں امیدواروں کی فہرست دیکھ کر لگتا ہے کہ "پرانے شکاریوں” کی باہمی لڑائی نے نیا جال بُنے جانے سے قبل ہی تار تار کر دیا ہے۔ "جرنلسٹ پینل” کے اندر گزشتہ کئی سالوں سے جاری مفادات کی باہمی لڑائی اب چار مختلف دھڑوں کی شکل میں سامنے آ چکی ہے۔
یہ سب کہنے کے بعد صرف اتنا کہوں گا کہ اس مرتبہ پریس کلب میں اپنا ووٹ ڈالنے سے قبل امیدواروں کے چہرے ضرور دیکھ لیجیئے گا۔ جرنلسٹ پینل کے حصے بخرے ہونے کا جو عمل دو سال قبل آزاد گروپ کے الگ ہونے سے شروع ہوا تھا وہ اب افضل بٹ گروپ، فاروق فیصل گروپ اور ناصر ملک گروپ کے مد مقابل آ کھڑا ہونے پر منتج ہوا ہے۔ ان گروپوں میں ’دستوریوں‘ اور ’برنیوں‘ کا ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر چلنا بھی اس بات کی ایک بڑی دلیل ہے کہ ان کے سامنے نظریہ کچھ نہیں بلکہ ذاتی مفادات اور انا کی جنگ بڑی ہے۔ ایسے میں صرف "جاگو” ہی ایک ایسا پینل نظر آتا ہے جس میں صحافت اور صحافیوں کی لاج رکھنے کے اہل، عامل صحافی کھڑے ہیں ۔ ان میں سے چند امیدوار ایسے بھی ہیں جو صحافت پر جاری شب خون کی زد میں آ کر ملازمتیں بھی گنوا چکے ہیں لیکن اپنے پیشے اور برادری کے وقار کی خاطر میدان میں جمے کھڑے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نا تو فوجی ترجمان کے ساتھ ملاقاتیں کر کہ تصویریں سوشل میڈیا پر لگا رہے ہیں اور نہ ہی چکری کی سنگلاخ زمینوں پرہاوسنگ سوسا ئٹٰی کے بینر اْویزاں کر کہ صحافیوں کی اجتماعی دانش کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
مطیع اللہ جان اور اس کے پینل میں کھڑے صحافی وہ ہیں جن پر نہ اس صرف ان کا پیشہ ناز کرتا ہے بلکہ بد ترین مخالفین بھی ان کی پیشہ ورانہ دیانت کے معترف ہیں۔
جاگو کا ایک بانی رکن اور سابقہ امیدوار ہونے کی حثیت سے میں گواہی دیتا ہوں کہ ہر بار ہم نے اپنی تنخواہوں کا ایک حصہ چندے میں دے کر اپنی انتخابی مہم فنڈ کی ہے۔
اب ان ناقدین کا کچھ ذکر جو ہر بار کہتے ہیں کہ جاگو الیکشن سے قبل ہی کیوں جاگتا ہے؟ تو یہ لوگ خود اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتا ئیں کہ سال دو ہزار اٹھارہ میں کوئی ایک بھی ایسا موقع تھا کہ جب جاگو کہ صدارت کے لئے امیدوار مطیع اللہ جان اور سیکرٹری کے امیدوار عابد خورشید اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے لئےہر اول دستے میں کھڑے نہ پائے گئے ہوں۔ سال دو ہزار انیس پاکستانی صحافیوں پر اور بھی بھاری ثابت ہو سکتا ہے اور ایسے میں نیشنل پریس کلب پاکستانی صحافیوں اور صحافت کی آخری پناہ گاہ ہے- ایسے میں ہم مسلمان صحافیوں کا آزمائی ہوئی کرپٹ اور ناکام صحافتی قیادت کے ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسا جانا کسی طور بھی مناسب نہیں- نیشنل پریس کلب آنے والے دنوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے جس کے لئیے نئی تروتازہ قیادت وقت کی آواز ہے- میڈیا کو درپیش صورت حال کے باوجود جاگو گروپ کے مطیع اللہ جان، عابد خورشید ہی میدان صحافت کے وہ شہسوار ہیں جنھوں نے اپنے مشن کے لئے اپنی ملازمتوں تک کی پرواہ نہ کی۔ تو پھر یہ بتائیے کہ ان دونوں اور ان کے ساتھیوں سے بڑھ کر آ پ کے ووٹ کا حقدار اور کون ہوسکتا ہے؟

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے