تنخواہ مانگنے والے میڈیا ورکرز کو جواب

سپریم کورٹ نے میڈیا ہاؤسز سے نکالے گئے ورکرز کو بقایا جات کی ادائیگی کا حکم دیا ہے ۔ صحافیوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ معاملے کو نمٹانا ہے متاثرہ ورکرز متعلقہ فورم سے رجوع کریں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس سماعت کی ۔ عدالت نے نیو ٹی وی سے برطرف کی گئی اینکر عاصمہ چودھری اور ٹی وی انتظامیہ کے وکیل کو روسٹرم پر بلا کر گزشتہ سماعت پر کی گئی کمٹمنٹ کو پورا کرنے کیلئے کہا ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اینکر عاصمہ چودھری نے نیو ٹی وی کی گاڑی کی چابی حوالے کی جبکہ انتظامیہ کے وکیل ظفر کلانوری نے بیس لاکھ روپے مالیت کے چیک عاصمہ چودھری کے حوالے کئے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ گاڑی اچھی طرح رکھی تھی نا؟ عاصمہ چودھری نے کہا کہ جی بالکل، مگر انہوں نے میرے چودہ لاکھ روپے کھا لئے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے یہ تصفیہ کرایا بصورت دیگر آپ کو سول کورٹ جانا پڑتا ۔ ٹی وی کے وکیل ظفر کلانوری نے کہا کہ عاصمہ نے عدالت کے باہر جا کر بددعائیں دیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عاصمہ چودھری نے کہا کہ جنہوں نے میرے حق حلال کی کمائی کھائی ان کو نہیں بخشوں گی، بد دعا ان کو دی ہے ۔

عاصمہ چودھری نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک فون کال پر میڈیا ورکرز کو ملازمت سے نکالے جانے کا نوٹس لیا جائے اور مالکان کو پابند کیا جائے کہ نوٹس دیں اور نکالتے وقت ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک بڑا ایشو ہے اور کسی دوسرے موقع پر اس کو تفصیل سے سنیں گے، آپ کے نمائندے موجود ہیں ان کو چاہئے کہ اس کو سامنے لائیں ۔

عاصمہ چودھری نے کہا کہ کارکن صحافیوں کا معاشی استحصال ہو رہا ہے اس پر مالکان کے خلاف کاررائی ہونی چاہیئے، ان کو معاوضے کی بروقت ادائیگی کا پابند بنایا جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بھی ٹی وی پر لوگوں کا استحصال کرتے ہیں، ان کی بے عزتی کرتے ہیں ۔ عاصمہ چودھری نے کہا کہ میں شاید ان لوگوں میں شامل نہیں ہوں گی جو ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں ۔

عدالت نے بول نیوز سے وابستہ ملازمین اور نکالے گئے ورکرز کے معاملے میں بھی ہدایات جاری کیں ۔ عدالت کو وکیل نے بتایا کہ بول نے سپریم کورٹ میں پانچ کروڑ جمع کرائے ہیں جبکہ ان کے ذمے کارکنوں کے واجبات کا تخمینہ سات کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔

عدالت نے کارکنوں کی درجہ بندی کے تحت ہدایات جاری کیں اور کہا کہ سی ون کیٹیگری کے 8 ملازمین گاڑیاں انتظامیہ کے حوالے کرکے اپنے چیک وصول کر لیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی گاڑی کو اگر نقصان پہنچا ہوا ہو تو متعلقہ شخص خود ذمہ دار ہوگا ۔

ملازمین کے وکیل نے بتایا کہ دوسری کیٹیگری کے ملازمین کے 32 لاکھ 35 ہزار انتظامیہ کے ذمے واجب الادا ہیں، تیسری کیٹیگری کے 140 ملازمین کے 6 کروڑ 81 لاکھ روپے بنتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ مزید پیسے جمع نہیں کیے جاسکتے ہم جمع شدہ پانچ کروڑ میں سے ہی تمام افراد کو ادائیگیاں کروائیں گے، تھوڑی بہت کمی ہوجائے گی لیکن ادائیگیاں انہیں 5 کروڑ میں سے ہوں گی، آخری مرتبہ یہ حکم دے رہے ہیں اس کے بعد احکامات جاری نہیں ہوں گے، سب کو بتادیں اگر کوئی اس پر راضی نہیں تو اس کے خلاف کاروائی ہوگی ۔

بول نیوز کے ڈائریکٹر سمیع ابراہیم نے کہا کہ چھوڑ کر جانے والے ملازمین کا معاملہ ثالثی کے لیے ایڈیشنل سیشن جج سہیل ناصر کو بھیج دیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم یہ معاملہ بھیج دیتے ہیں ۔ اینکر ماریہ ذوالفقار نے عدالت کو بتایا کہ بول کے ذمے میری 31 لاکھ تنخواہ واجب الادا ہے اور 15 لاکھ کی گاڑی میرے پاس ہے ۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ میں بول انتظامیہ سے بات کر کے ان کا معاملہ دیکھ لوں گا ۔

عدالت نے صائمہ شبیر کا معاملہ بھی سمیع ابراہیم کو دیکھنے کی ہدایت کی ۔ سمیع ابراہیم نے بتایا کہ ہمارے پاس 150 گاڑیاں ہیں ان کو فروخت کر کے ادائیگیاں کریں گے کچھ وقت دیا جائے ۔ ریگولر ملازمین کے لیے ہم نے فارمولا طے کیا ہے ان کو 6 ہفتوں میں ادائیگیاں مکمل کر لی جائیں گی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ریگولر ملازمین کی واجب الادا تنخواہیں 6 ہفتوں میں مکمل کر لی جائیں گی،

چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی اگر اپریل کی تنخواہ ہے تو وہ مئی کی 5 تاریخ تک ادا ہوجائے گی ۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ جی ایسا ہی ہے 15 فروری تک تمام واجب الادا رقم ادا کردیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہمیں لکھ کر دیا جائے،

عدالت نے چینل کو چھوڑ جانے والے ملازمین کو 2 ہفتوں میں ادائیگیوں کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے