ووٹ کو عزت دو

اظہر سید

ووٹ کو عزت دینے کا کام صحافیوں کو بھی کرنا ہے ۔معاشرہ کا باشعور طبقہ اگر اپنے ووٹ کی طاقت سے تبدیلی نہ لا سکا تو معاشرہ بھی تبدیل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔اسلام اباد پریس کلب کے الیکشن میں پروفیشنل اور اپنے پیشے کی لاج رکھنے والے بھی ہیں اور پیسے کے لالچ میں مزید پیسے کمانے کی ہوس رکھنے والے بھی۔وفاقی دارالحکومت کے صحافیوں کو یقینی طور پر اتنا شعور ہے وہ مطیع اللہ جان ،شکیل قرار اور شکیل انجم میں سے بہتر امیدوار کا انتخاب کر سکیں ۔
شکیل انجم ایک بہترین صحافی اور کولیگ رہا ہے یہ فیصلہ شکیل انجم کے ضمیر کو کرنا ہے کہ انکی صدارت اور سیکرٹری جنرل شپ کے دوران اسلام اباد پریس کلب میں کوئی غیر صحافی ممبر تو نہیں بنا ۔ہمیں شکیل انجم کی شرافت پر بھروسہ کرنا ہو گا کہ ہر صحافی آنکھیں بند کر کے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شکیل انجم کی شرافت کی قسم کھائے ان کے دور میں کوئی ایک بھی غیر صحافی کوئی موٹر مکینک کوئی سرکاری ملازم اور کوئی دو نمبر دھندہ کرنے والا اسلام اباد پریس کلب کا ممبر نہیں بنایا گیا اگر یہ سچ ہے تو صدارت کا ووٹ شکیل انجم کو ملنا چاہے ۔
مطیع اللہ جان کبھی اسلام اباد پریس کلب کا عہدیدار نہیں رہا اس لئے اس پر کم از کم پریس کلب کے معاملات میں کرپشن کا الزام نہیں لگایا جا سکتا ۔حکومتوں سے مراعات لینے کا الزام بھی مطیع اللہ جان پر نہیں لگایا جا سکتا ایسا ہوتا تو پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی اور راول ڈیم کے ٹھیکے لینے والے مالک کی طرح مطیع اللہ جان بھی کسی نجی چینل پر لاکھوں روپیہ کی تنخواہ کا اینکر ہوتا اسے تو بے روزگار کر دیا گیا ہے ۔
شکیل قرار بھی ہمارا ساتھی ہے اور گزشتہ الیکشن میں بھاری ووٹ لے کر ایک مضبوط امیدوار کا روپ اختیار کر چکا ہے لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے شکیل قرار کو طاقتور پوزیشن اس وقت حاصل ہوئی تھی جب مطیع اللہ جان گزشتہ الیکشن میں اس کے ساتھ کھڑا تھا ۔
مطیع اللہ جان کے پینل میں عاصمہ چوہدری بھی اور اعزاز سید بھی اور اظہر سید ایسا معصوم نوجوان بھی ۔مطیع اللہ کے پینل میں وحید مراد ایسا نوجوان بھی شامل ہے جس نے بغیر کسی مدد کے صرف اپنی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنا پر اپنے ویب اخبار چینل 24 کو اتنا معتبر بنا دیا ہے سپریم کورٹ کے تمام جج رات کو یہ اخبار پڑھ کر سوتے ہیں ۔مطیع اللہ کے پینل میں جنرل سیکرٹری کے عہدہ کا امیدوار بھی ایک صاف دامن والا خورشید ہے اس پینل میں بیشتر امیدوار میڈیا کے حالیہ بحران میں بے روزگار ہو چکے ہیں لیکن تمام کے تمام شفاف چہرے ہیں جو صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ایک مشن سمجھتے ہیں ۔
افضل بٹ ہمارے دوست ہیں اور 25 سال پرانے کولیگ بھی وہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ کامیاب ہو رہے ہیں لیکن افضل بٹ کی تمام تر شرافت کے باوجود ان سے شکوہ کرنے کا حق ہے گزشتہ سال متعدد پروفیشنل صحافیوں کی ممبر شپ منسوخ کر دی گئی تھی جبکہ بہت سارے نامعلوم لوگ پریس کلب کے ممبر بنا دئے گئے تھے ۔ایک صحافی جس کی تمام عمر اس دشت کی سیاحی میں گزر گئی ہو وہ اپنی ممبر شپ کی بحالی کیلئے دروازوں پر دستک دیتا رہا ۔
اسلام آباد کے صحافیوں کو اپنے ووٹ کا استمال سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا اور اپنے ووٹ کی طاقت پر بھروسہ بھی کرنا یو گا ۔میڈیا پر جو سخت وقت آیا ہے اس میں مزید شدت کے امکانات ہیں ابھی اخبارات سے لوگ فارغ ہوئے ہیں اگلا مرحلہ الیکٹرانک میڈیا کا ہے جہاں مالکان کے پاس سرکاری اشتہارات کے ریٹ کم ہونے کا بہانہ ہے جس چینل کے اشتہار کی قیمت دو لاکھ روپیہ سے کم کر کے پانچ اور دس ہزار کر دی گئی ہو وہ نوکریوں سے فارغ ضرور ہی کرے گا ۔پیش آئندہ مستقبل کے چیلنجز سے نپٹنے کیلئے پریس کلب میں مضبوط اور مستحکم قیادت کے انتخاب کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی ۔اخبارات اور چینل کے دفاتر کے باہر مظاہروں سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ اس کیلئے ٹھوس حکمت عملی تشکیل دینا ہو گی اور یہ اس وقت ممکن ہے جب صحافیوں کے نمائندوں کا دامن صاف ہو اور وہ پوری قوت اور طاقت سے اپنا حق لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے