سندھ میں تحریک انصاف کی مہم جوئی!

عبدالجبارناصر

ajnasir1@gmail.com

سپریم کورٹ میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی ) رپورٹ  پیش اوروفاقی حکومت کی جانب سے کابینہ کی منظوری سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پیپلزپارٹی کے قائدین آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اورفریال ٹالپورسمیت172افراد کے نام  ایگزیٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں ڈالنے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے نہ صرف وزیراعلیٰ سندھ  سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سامنے آیا بلکہ وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف عدم اعتماد لانے اورصوبے میں گورنر راج سمیت مختلف فارمولوں کی بازگشت میں شدت پیدا ہوگئی۔ اس ضمن میں مسلم لیگ فنکشنل کے سردار علی گوہرمہر سے گورنر سندھ عمران اسماعیل، حلیم عادل شیخ،خرم شیر زمان،وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدریاورپھر وزیر اعظم عمران خان سے گورنر سندھ اور علی گوہرمہر کی ملاقات کواہم قرار دیا جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق سندھ میں حکومت کی تبدیلی کے 6 راستے ہیں۔پہلا راستہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ خود مستعفی ہوجائیں مگر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور پیپلزپارٹی کی قیادت اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دوسرا راستہ وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف سندھ اسمبلی کے 168رکنی ایوان میں 85ارکان کی مدد سے عدم اعتماد کو کامیاب بناکروزیراعلیٰ کو ہٹادیا جائے مگر یہ راستہ بھی بظاہر انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ  سندھ اسمبلی کے 168رکنی ایوان میں پیپلزپارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے۔بنیادی طور پر سندھ اسمبلی میں تین گروپ ہے،جن میں پہلا گروپ پیپلزپارٹی کے99 ارکان کا ہے۔ دوسرا گروپ تحریک انصاف اوراس کے اتحادیوں کے 64 ارکان کا ہے جس میں تحریک انصاف کے 30، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 20 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے) کے 14ارکان ہیں۔ تیسرا گروپ ہے مذہبی جماعتوں کے 4 ارکان کا ہے جس میں سے 3ارکان کا تعلق تحریک لبیک پاکستان اور ایک رکن متحدہ مجلس عمل (ایم ایم ٓے)کا ہے۔ ایک نشست ایم کیوایم پاکستان کے ایک رکن محمد وجاحت کے انتقال کے باعث خالی ہے۔ تحریک انصاف اوراس کے اتحادیوں کے پاس 64ووٹ ہیں مگر ان کو حکومت سازی کے لئے 85ووٹ کی ضرورت ہے اور ان کو مزید21ارکان کی حمایت درکار ہے۔ایم ایم اے اور تحریک لبیک پاکستان نے تحریک انصاف کے کسی غیر جمہوری عمل میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔اس لئے تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کو 21ارکان پیپلزپارٹی سے ہی توڑنے پڑیں گے۔ مگر آئین کے آرٹیکل 63الف(1) زیلی آرٹیکل ’’ب‘‘(دوم) کے تحت پارٹی سے منحرف ہوکر اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان پارٹی سربراہ کی شکایت کے بعد رکنیت کے لئے نا اہل ہوجاتے ہیں۔ کیا اتنی بڑی تعداد میں ارکان نا اہل ہونے کے لئے تیار ہونگے؟ ، پیپلزپارٹی کے مبینہ ناراض رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پارٹی سے بغاوت میں ان کو نہ صرف قانونی مشکلات کا سامنا ہوگا بلکہ سخت عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔تیسرا راستہ گورنر سندھ کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے ہدایت کرنا ہے ایسی صورت میں 85ارکان کی تعداد وزیر اعلیٰ کو پوری کرنی ہے، اس صورت میں کچھ ارکان غیر حاضر رہ کر پیپلزپارٹی کے لئے مشکل پیدا کرسکتے ہیں مگرپارٹی کی جانب سے ہدایت کے بعد غیر حاضر ارکان کے لئے نا اہلی کی تلوار لٹکی رہے گی، اس ضمن میں عائشہ گلا لئی نااہلی کیس کے فیصلے کو اہم قرار دیاجارہا ہے۔ چوتھا راستہ گورنر راج کا نفاذ ہے،مگر آئین کے آرٹیکل 234(1)کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے  الگ الگ سفارش ضروری ہے۔ کیا تحریک انصاف سندھ میں گورنر راج کے لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے سفارش الگ الگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی؟ ، پانچواں راستہ آئین کے آرٹیکل 235کے تحت مالیاتی ایمرجنسی ہے، یہ راستہ بھی بہت مشکل ہے۔ یہ پانچ راستے توآئینی اور قانونی ہیں۔ چھٹا اورآخری راستہ مارشل لاء کا ہے جو آئینی اور قانونی نہیں ہے۔

31 دسمبر کو سماعت کے دوران عدالتی ریمارکس کے بعد بظاہر تحریک انصاف نے پسپائی دکھائی اوراس ضمن میں فواد چوہدری کے دورہ کراچی کے التویٰ کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اس التویٰ کی ایک بڑی وجہ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صاحب پگارا کی جانب سے ملاقات کا گرین سگنل نہ ملنا بھی ہے۔

دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف اب بھی سرگرم ہے اور اس ضمن میں یکم جنوری کو وزیر اعظم عمران خان سے گورنر سندھ عمران اسماعیل اورعلی گوہر مہر کی ملاقات کواہم قرار دیا جارہا ہے، مگر پیپلز پارٹی کے اندر21ارکان سندھ اسمبلی کا فارورڈ بلاک بناکرسندھ میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کو مل سکتا ہے کیونکہ دونوں جگہ تحریک انصاف کو کے پاس اپنی سادہ اکثریت نہیں ہے اورنصف درجن ارکان کے فرق سے ہی صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔ صورتحال پر غور کیاجائے تو ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے بعض رہنما کچھ زیادہ ہی جلدی میں ہیں اورجلد بازی میں قانونی تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا جارہاہے اس کی واضح مثال31 دسمبر کوتحریک انصاف کے خرم شیر زمان کی جانب سے سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف تحریک التویٰ جمع کرانا بھی ہے ،تحریک التویٰ میں جی آئی ٹی کےالزامات ایوان میں بحث کرانے اوروزیراعلیٰ سندھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شامل تھا۔اسپیکرآغا سراج درانی  نے تحریک کو اپنے چیمبر میں ہی  یہ کہکر مسترد کردیا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اوراس پر ایوان میں بحث نہیں ہو سکتی۔ ماہرین کے مطابق اسپیکر موقف درست ہے۔سندھ میں اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنمائوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ابھی تک تحریک انصاف نے سنجیدگی سے ان کو اعتماد میں نہیں لیاہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف نے سندھ میں’’مہم جوئی‘‘ کی کوشش کا جواب وفاق میں وزیراعظم عمران خان اور پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بوزدار کو مل سکتاہے۔ اس لئے نہ صرف سیاسی اور قانونی سنجدگی کی ضرورت ہے بلکہ مہم جوئی سے پرہیز کرتے ہوئے الزامات پرعدالتی کارروائی اور فیصلے کا انتظار کیاجائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے