عمران خان فلیٹ والی عمارت قانونی قرار

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے گرینڈ حیات ٹاور کو غیر قانونی قرار دینے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کو ختم کر دیا ہے ۔ عدالت نے ٹاور کی مالک کمپنی کو لیز کے ساڑھے سترہ ارب روپے 8 سال میں برابر قسطوں میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔

گرینڈ حیات ٹاور کے خلاف فیصلے پر اپیل کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ سی ڈی اے کے وکیل منیر پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ گرینڈ حیات کے معاملے کا کابینہ مکمل جائزہ لے گی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گرینڈ حیات کے دو ٹاور بن گئے ہیں، لوگوں نے گرینڈ حیات میں اپارٹمنٹس خرید لئے، جب ٹاور بن رہا تھا اس وقت سی ڈی اے نے اعتراض نہیں کیا، اب سی ڈی اے بتا دے اس نے اس ٹاور کا کیا کرنا ہے؟
سی ڈی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت جو حکم دے گی اس پر عمل کریں گے لیکن اب ٹاور کو گرانا بڑا مشکل کام ہے، ٹاور کی سائیٹ کو دوبارہ نیلام کیا جائے گا.چیف جسٹس نے مسئلے کے تعمیراتی اور 2005 کی نیلامی کا پوچھتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے کو 2005 سے 15 ارب روپے لیکر دے رہے ہیں,مشکل تو ان لوگوں کو ہوگی جنہوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان کام کہنا تھا کہ عدالت کابینہ کی محتاج نہیں وہاں فیصلہ نہیں ہوتا تو عدالت میرٹ پر فیصلہ سنائے گی۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے کابینہ کو کوئی سفارش دی اور نہ اس کے پاس کوئی پلان ہے۔ سی ڈی اے کے وکیل نے بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن پر اعتراض جسے فاضل چیف جسٹس نے مسترد کر دیا۔ بی این پی کے وکیل کا کہنا تھا کہ گرینڈ حیات کی تعمیر 2028 تک مکمل ہو جائے گی۔

چیف جسٹس نے سی ڈی اے کی کارکردگی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیرہ برس سی ڈی اے سوتا رہا ، ایک وزیر کے کہنے پر لیز یکطرفہ طور پر منسوخ کی گئی اور اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔ سی ڈی اے کے وکیل نے جب کہا کہ گریند حیات نیشنل پارک میں آتا ہے تو چیف جسٹس بولے کہ اس میں تو سپریم کورٹ بلڈنگ اور سیکرٹریٹ بھی آتا ہے، کیاان کو بھی گرا دیں ؟خریداروں کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟آپ غلطیاں کرتے ہیں پھر کہتے ہیں گرا دیں،اسلام آباد ہی آدھا غلط بنایا ہوا ہے، سی ڈی اے سے تو آج تک ریگولیشنز ہی نہیں بنے، وہ بھی عدالت نے سابق وزیر طارق فضل چوہدری سے کہہ کر بنوائے، کیایہ کارکردگی ہے سی ڈی اے کی؟

سی ڈی اے کے وکیل نے اپنے ادارے کے ڈائریکٹرز کے فراڈ کا ذکر کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ تیرہ برس تک تو خیال نہیں آیا ۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دئیے کہ جب صدر الدین ہاشوانی نے اس پلاٹ کی نیلامی کو چیلنج کیا اس وقت سی ڈی اے نے دفاع کیا تھا ۔ عدالت نے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف بی این پی کنسورشیم کی اپیلیں منظور کرلیں اور کمپنی کو 8 برس کے اندر ساڑھے سترہ ارب روپے جمع کروانے کا حکم دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button