فوج سمیت ہر ادارہ عدالت کو جوابدہ ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس فیصلے پر عملدرآمد ختم کرنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی سفارش مسترد کرتے ہوئے وزارت دفاع کے سیکرٹری کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے ۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیاست دانوں میں پیسے تقسیم کرنے والے فوجی افسران کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات فراہم کریں ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت میں وفاقی حکومت کے وکیل عامر رحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ کورٹ آف ٹرائل میں فوجی افسران کے خلاف کارروائی تاحال جاری ہے اس لئے عدالت کیس کی سماعت ملتوی کر کے مزید مہلت دے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اصغرخان کی زندگی کا بڑا حصہ اس کیس میں گزرا، اصل تحقیقات کا وقت آیا تو رکاوٹیں آنے لگیں، ایف آئی اے کہتا ہے کہ ان کے پاس شواہد نہیں تاہم عدالت نے تاحال کیس بند نہیں کیا، عدالت کا مقصد صرف 2 افسران کے خلاف تحقیقات نہیں، عدالت اصغر خان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے، اصغر خان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جانے دیں گے،  معاملےکی مزید تحقیقات کرائیں گے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کا اہم فیصلہ ہے اگر اس کو ضائع کر دیا تو جو کچھ حاصل کیا اور جو حاصل کرنا ہے نہیں ہو سکے گا ۔

درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں بتایا کہ جس فوجی افسر نے رقم تقسیم کرنا تسلیم کیا اس کا بیان نہیں لیا گیا، عدالت باضابطہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری دفاع آکر بتائیں تحقیقات میں کیا پیشرفت ہوئی، ہر ادارہ سپریم کورٹ کو جوابدہ ہے، ہم ہر ادارے کو بتا دینا چاہتے ہیں ۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا کہ ایف آئی اے کا مینڈیٹ صرف سویلین افراد کے خلاف فوجداری تحقیقات کا تھا، ایف آئی اے نے دس سیاستدانوں سے تحقیقات کرنا تھیں جس میں سے چھ انتقال کر چکے ہیں، رہ جانے والے چاروں سیاسی رہنماؤں نے آئی ایس آئی سے رقم وصول سے انکار کیا، بریگیڈیر سعید اختر سے پوچھا گیا کہ پیسے کیسے دیے مگر ان کو تفصیلات یاد نہیں، چالان پیش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شواہد دستاویزی ہوں اور منی ٹریل بھی موجود ہو ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عمل درآمد کے وقت اصغر خان کی فیملی سے بھی ایسی صورتحال میں رائے لے لیتے، عدالتی فیصلے کے ایک ایک صفحے سے ثابت ہوا کہ یہ اسکینڈل ہوا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے دلائل سننے کے بعد اصغر خان کیس پر عملدرآمد ختم کرنے کے لیے ایف آئی اے کی سفارش مسترد کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ان کو ملوث فوجی افسران کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے